احتجاج میں عراق اور مصر بھی شامل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلمان رشدی کو ملکہ برطانیہ کی جانب سے ’سر‘ کا خطاب دینے پر کی جانے والی تنقید میں اب عراق اور مصر بھی شامل ہو گئے ہیں۔ سلمان رشدی کی کتاب ’شیطانی آیات ‘ کے خلاف مسلمانوں کے پر تشدد مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے۔عراقی وزیر خارجہ ہوشار زبیری نے کہا ہے کہ سلمان رشدی کو بے وقت یہ اعزاز دیا گیا ہے۔ مصر کی پارلیمان کا کہنا ہے کہ سلمان کو یہ اعزاز گزشتہ سال پیغمبر اسلام کے کارٹون شائع کرنے سے بھی بڑی بے عزتی ہے ۔اس سلسلے میں پاکستان اور ملیشیا میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ مارگریٹ بیکٹ کا کہنا ہے کہ اس سے لوگوں میں جو ناراضگی ہے اس کا انہیں افسوس ہے لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سلمان رشدی کو یہ اعزاز ان کے تمام ادبی کارناموں کے لیے دیا گیا ہے۔
سلمان رشدی کو ملکہ برطانیہ کی جانب سے ’سر‘ کا خطاب دیے جانے پر پاکستان نے مایوسی ظاہر کرتے ہوئے منگل کو برطانوی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج نوٹ کروایا ہے جبکہ برطانوی ہائی کمشنر نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق کے سلمان رشدی کو سر کا خطاب دیے جانے پر ردعمل کے حوالے سے بیان پر’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستانی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی اور سرحد کی صوبائی اسمبلی نے متفقہ قرار دادوں کے ذریعے سلمان رشدی کو ملکہ برطانیہ کی جانب سے ’سر‘ کا خطاب دینے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ سلمان رشدی نے ’سیٹنک ورسز‘ نامی کتاب لکھی تھی جس کے بعد دنیا کے کئی اسلامی ممالک میں ان کے خلاف مظاہرے کیے گئے تھے اور کتاب پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ایران کے روحانی رہنما آیت اللہ خمینی نے اس کتاب کے حوالے سے سلمان رشدی کو واجب القتل قرار دیا تھا۔ | اسی بارے میں سرحد اسمبلی میں بھی قراردادِ مذمت 19 June, 2007 | پاکستان ’سر‘ کے خطاب پر سرکاری مذمت18 June, 2007 | پاکستان سلمان رشدی: سر کا خطاب، مذمت17 June, 2007 | آس پاس سلمان رشدی: سر کا خطاب، مذمت16 June, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||