رشدی’سر‘ تو بن لادن ’سیف اللہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان علماء کونسل نے برطانوی حکومت کی طرف سے سلمان رشدی کو سر کا خطاب دینے کے درعمل میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو سیف اللہ کا خطاب دینے کا اعلان کیا ہے۔ کونسل کے رہنما علامہ حافظ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کی طرف سے شاتم رسول سلمان رشدی کو سر کا خطاب دینے کے اعلان کو دنیا بھر کے مسلمانوں نے شدت سے محسوس کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان شدت پسند نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے کسی شاتم نبی کی پذیرائی کی ہے جبکہ انتہاپسند ی کا مظاہرہ خود برطانیہ نے کیا اور ایک شاتم رسول کو سر کا خطاب دیا گیا ہے ۔ ان کے بقول’سلمان رشدی دنیا کا سب بڑا دہشت گرد اور انتہا پسند ہے جبکہ برطانیہ ایک دہشتگرد اور انتہاپسند کی سرپرستی کر رہا ہے‘۔ علامہ طاہر اشرفی کے مطابق پاکستان علماء کونسل میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء شامل ہیں۔ انہوں نے صدر جنرل پرویز مشرف سے مطالبہ کیا کہ سلمان رشدی کے معاملہ پر مسلم ممالک کے سربراہان کی کانفرنس بلائی جائے جس میں متفقہ لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ علامہ حافظ طاہراشرفی کا کہنا تھا کہ برطانوی حکومت سلمان رشدی کو دیے گئے سر کے خطاب کو واپس لے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر برطانیہ سلمان رشدی سے سر کا خطاب واپس بھی لے لے تو اس صورت میں بھی اسامہ بن لادن کو دیا گیا سیف اللہ کا خطاب واپس نہیں لیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ’گستاخِ رسول سامنے آیا تو قتل کردوں گا‘21 June, 2007 | پاکستان حکومتی جماعت میں اختلافات21 June, 2007 | پاکستان رشدی:ملتان میں احتجاجی مظاہرے 20 June, 2007 | پاکستان سرحد اسمبلی میں بھی قراردادِ مذمت 19 June, 2007 | پاکستان پاکستانی احتجاج، برطانوی تشویش19 June, 2007 | پاکستان ’سر‘ کے خطاب پر سرکاری مذمت18 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||