حکومتی جماعت میں اختلافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ (ق) کی حکومت کی پانچ سالہ مدت جیسے جیسے اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے نظریۂ ضرورت کے تحت وجود میں لائی گئی اس جماعت کے سرکردہ رہنماؤں میں اختلافات، اراکین میں اضطراب اور پارٹی میں انتشار بظاہر بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس ہو یا صدر کا فوجی وردی میں موجودہ اسمبلیوں سے انتخاب، بلوچستان میں فوجی آپریشن ہو یا وزیرستان میں، ان کے بارے میں سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی، مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل سید مشاہد حسین، نائب صدر کبیر علی واسطی، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالمجید ملک، سینیٹر ایس ایم ظفر، وزیر مملکت اسحاق خاکوانی اور میاں منظور وٹو سمیت دیگر سرکردہ حکومتی شخصیات برملا اظہار کرچکی ہیں کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ کبیر علی واسطی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے تنظیمی معاملات میں ایوان صدر کی مداخلت اتنی زیادہ ہے کہ کبھی اسے ایک سیاسی جماعت بننے ہی نہیں دیا گیا ہے۔ انہوں نے اگرچہ صدر جنرل پرویز مشرف کی تعریف لیکن بلوچستان میں فوجی آپریشن، فوجی وردی میں موجودہ اسمبلیوں سے انتخاب اور چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی کھل کر مخالفت کی۔
سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر اور جنرل مجید ملک بھی کھل کر گزشتہ دنوں یہ کہہ چکے ہیں کہ صدر رواں سال کے بعد آرمی چیف کا عہدہ نہیں رکھ سکتے اور وہ خود کو موجودہ اسمبلیوں سے منتخب نہ کروائیں۔ کبیر علی واسطی نے طنزیہ انداز میں کہا ’سلمان رشدی کو برطانیہ کی جانب سے سر کا خطاب دینے کے خلاف اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر کو طلب کرکے احتجاج کرنا صدر جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور کی روشن خیالی کی پالیسی کا نتیجہ ہے‘۔ چند روز قبل سینٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران سید مشاہد حسین نے کہا تھا کہ چیف جسٹس کے معاملے پر اگر انہیں اور پارٹی کے صدر چودھری شجاعت حسین کو اعمتاد میں لیا جاتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ بلوچستان میں فوجی آپریشن کے بجائے سیاسی طور پر معاملا طے کرنے کے لیے بھی چودھری شجاعت حسین اور سید مشاہد حسین نے کوششیں کیں لیکن اچانک خاموش ہوگئے۔ کبیر علی واسطی بھی ان کی بات کی تائید کرتے ہیں اور ان کہنا ہے کہ اگر ان سے مشاورت کی جاتی تو وہ ریفرنس بھیجنے کے بجائے بات چیت سے معاملہ طے کرنے کا راستہ اپناتے۔
حکومتی جماعت کے سرکردہ رہنماؤں کے اختلافی بیانات اور پارٹی میں انتشار کے تاثر کے متعلق وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ یہی جمہوریت ہے کہ پارٹی میں سب کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے یہ تو تسلیم کیا کہ ابھی حکومت اور پارٹی سے کئی استعفے آنے ہیں اور اختلافات بھی ہونگے لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آئندہ انتخابات میں ان کی جماعت بھرپور مقابلہ کرے گی۔ ’میں مانتا ہوں کہ الیکشن کا بگل بجنے والا ہے اور مسلم لیگ کو جس طرح سرگرم ہونا چاہیے اس طرح نہیں ہے۔ الیکشن سر پر آچکے ہیں اور یہی مناسب وقت ہے کہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کو میدان میں کودنا ہوگا‘۔ مسلم لیگ میں اختلافات اور انتشار کے متعلق شیخ رشید کا موقف اپنی جگہ لیکن بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکمران جماعت کے اندرونی اختلافات کا شکار ہے، جس کا اثر آئندہ انتخابات پر پڑے گا۔ ایسی ہی رائے کا اظہار معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار جاوید چودھری کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ مخصوص مقصد کے لیے وجود میں لائی گئی، جب تک جنرل مشرف طاقت میں ہیں یہ جماعت قائم رہے گی۔ ’یہ اور بات ہے
ان کے مطابق بنیادی طور پر مسلم لیگ (ق) جماعت کی بجائے مفاداتی گروہ ہے جو صدر مشرف کی سرپرستی کے باوجود پانچ برسوں میں سیاسی جماعت کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت میں دس بارہ گروہ ہیں جو اکٹھے نہیں چل پائیں گے، لیکن فی الوقت جنرل مشرف کی وجہ سے خاموش ہیں۔ |
اسی بارے میں ’مشرف آخری کارڈ کھیل چکے‘02 June, 2007 | پاکستان مشرف حکومت کی ’لوٹ سیل‘20 April, 2007 | پاکستان قرارداد: مشرف وردی سمیت صدر 23 March, 2006 | پاکستان سیاسی وفاداریاں بدل رہی ہیں08 August, 2005 | پاکستان پیر پگاڑا کے ساتھ ہوں، میاں اظہر22 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||