BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 June, 2007, 10:41 GMT 15:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومتی جماعت میں اختلافات

شجاعت اور مجید ملک
جنرل (ر) مجید ملک کھل کر کہہ چکے ہیں کہ صدر مشرف اس سال کے بعد آرمی چیف کا عہدہ نہیں رکھ سکتے
مسلم لیگ (ق) کی حکومت کی پانچ سالہ مدت جیسے جیسے اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے نظریۂ ضرورت کے تحت وجود میں لائی گئی اس جماعت کے سرکردہ رہنماؤں میں اختلافات، اراکین میں اضطراب اور پارٹی میں انتشار بظاہر بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔

چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس ہو یا صدر کا فوجی وردی میں موجودہ اسمبلیوں سے انتخاب، بلوچستان میں فوجی آپریشن ہو یا وزیرستان میں، ان کے بارے میں سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی، مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل سید مشاہد حسین، نائب صدر کبیر علی واسطی، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالمجید ملک، سینیٹر ایس ایم ظفر، وزیر مملکت اسحاق خاکوانی اور میاں منظور وٹو سمیت دیگر سرکردہ حکومتی شخصیات برملا اظہار کرچکی ہیں کہ انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

کبیر علی واسطی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے تنظیمی معاملات میں ایوان صدر کی مداخلت اتنی زیادہ ہے کہ کبھی اسے ایک سیاسی جماعت بننے ہی نہیں دیا گیا ہے۔

انہوں نے اگرچہ صدر جنرل پرویز مشرف کی تعریف لیکن بلوچستان میں فوجی آپریشن، فوجی وردی میں موجودہ اسمبلیوں سے انتخاب اور چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی کھل کر مخالفت کی۔

ایوان صدر کی مخالفت
 مسلم لیگ (ق) کے تنظیمی معاملات میں ایوان صدر کی مداخلت اتنی زیادہ ہے کہ کبھی اسے ایک سیاسی جماعت بننے ہی نہیں دیا گیا ہے
کبیر علی واسطی

سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر اور جنرل مجید ملک بھی کھل کر گزشتہ دنوں یہ کہہ چکے ہیں کہ صدر رواں سال کے بعد آرمی چیف کا عہدہ نہیں رکھ سکتے اور وہ خود کو موجودہ اسمبلیوں سے منتخب نہ کروائیں۔

کبیر علی واسطی نے طنزیہ انداز میں کہا ’سلمان رشدی کو برطانیہ کی جانب سے سر کا خطاب دینے کے خلاف اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمشنر کو طلب کرکے احتجاج کرنا صدر جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور کی روشن خیالی کی پالیسی کا نتیجہ ہے‘۔

چند روز قبل سینٹ میں بجٹ پر بحث کے دوران سید مشاہد حسین نے کہا تھا کہ چیف جسٹس کے معاملے پر اگر انہیں اور پارٹی کے صدر چودھری شجاعت حسین کو اعمتاد میں لیا جاتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔

بلوچستان میں فوجی آپریشن کے بجائے سیاسی طور پر معاملا طے کرنے کے لیے بھی چودھری شجاعت حسین اور سید مشاہد حسین نے کوششیں کیں لیکن اچانک خاموش ہوگئے۔

کبیر علی واسطی بھی ان کی بات کی تائید کرتے ہیں اور ان کہنا ہے کہ اگر ان سے مشاورت کی جاتی تو وہ ریفرنس بھیجنے کے بجائے بات چیت سے معاملہ طے کرنے کا راستہ اپناتے۔

’جب تک جنرل مشرف طاقت میں ہیں حکمراں جماعت قائم رہے گی‘

حکومتی جماعت کے سرکردہ رہنماؤں کے اختلافی بیانات اور پارٹی میں انتشار کے تاثر کے متعلق وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ یہی جمہوریت ہے کہ پارٹی میں سب کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے یہ تو تسلیم کیا کہ ابھی حکومت اور پارٹی سے کئی استعفے آنے ہیں اور اختلافات بھی ہونگے لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آئندہ انتخابات میں ان کی جماعت بھرپور مقابلہ کرے گی۔

’میں مانتا ہوں کہ الیکشن کا بگل بجنے والا ہے اور مسلم لیگ کو جس طرح سرگرم ہونا چاہیے اس طرح نہیں ہے۔ الیکشن سر پر آچکے ہیں اور یہی مناسب وقت ہے کہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کو میدان میں کودنا ہوگا‘۔

مسلم لیگ میں اختلافات اور انتشار کے متعلق شیخ رشید کا موقف اپنی جگہ لیکن بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکمران جماعت کے اندرونی اختلافات کا شکار ہے، جس کا اثر آئندہ انتخابات پر پڑے گا۔

ایسی ہی رائے کا اظہار معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار جاوید چودھری کا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلم لیگ مخصوص مقصد کے لیے وجود میں لائی گئی، جب تک جنرل مشرف طاقت میں ہیں یہ جماعت قائم رہے گی۔ ’یہ اور بات ہے

میدان میں کودنے کا مناسب وقت
 الیکشن کا بگل بجنے والا ہے اور مسلم لیگ کو جس طرح سرگرم ہونا چاہیے اس طرح نہیں ہے۔ الیکشن سر پر آچکے ہیں اور یہی مناسب وقت ہے کہ مسلم لیگ کے رہنماؤں کو میدان میں کودنا ہوگا
شیخ رشید
کہ آئندہ انتخابات میں حکومت سازی کے لیے اسے شاید مطلوبہ عددی اکثریت حاصل نہ ہو پائے‘۔

ان کے مطابق بنیادی طور پر مسلم لیگ (ق) جماعت کی بجائے مفاداتی گروہ ہے جو صدر مشرف کی سرپرستی کے باوجود پانچ برسوں میں سیاسی جماعت کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔

جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت میں دس بارہ گروہ ہیں جو اکٹھے نہیں چل پائیں گے، لیکن فی الوقت جنرل مشرف کی وجہ سے خاموش ہیں۔

میر ظفراللہ جمالی نے حال ہی میں استعفیٰ دیااستعفیٰ کی وجہ
پارٹی قیادت کا رویہ آمرانہ: ظفراللہ جمالی
 محمد علی جناح مسلم لیگ کا’مقصد‘
’جناح الگ ملک بنانے کے حق میں نہیں تھے‘
 نواز شریف اور بینظیرسیاسی اتھل پتھل
اتحادوں میں نئی صف بندیوں کے اشارے
شجاعت اور ’بغاوت‘
شجاعت کے خلاف 35 ارکان کی ’بغاوت‘
مسلم لیگ میں تناؤ
امتیازشیخ کی برطرفی کےبعد سیاسی رسہ کشی
لیگیوں کا نیا جنم
’سرکاری‘ لیگ میں’افہام و تفہیم‘ سےتوسیع
پاکستان مسلم لیگ کے رہنمالیگی ایک ہو گئے
مسلم لیگ کے چار دھڑے قائد لیگ میں ضم
اسی بارے میں
مشرف حکومت کی ’لوٹ سیل‘
20 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد