مناء رانا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | میر ظفراللہ جمالی نے حال ہی میں استعفیٰ دیا |
پاکستان کے سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کی قیادت کے دہرے معیار اور پارٹی میں نظم و ضبط کے فقدان کے سبب انہیں استعفی دینا پڑا۔ میر ظفر اللہ جمالی نے چند روز پہلے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ق) گروپ کی بنیادی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا اور بدھ کے روز وزیر اعظم شوکت عزیز کے ساتھ اپنی ملاقات میں بھی انہوں نے استعفی واپس لینے پر آمادگی کا اظہار نہیں کیا۔ جمعرات کو لاہور میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان مسلم لیگ کے سینیئر ترین رکن ہیں اور 1933 سے ان کا خاندان مسلم لیگ کا حصہ ہے لیکن سینیئر کی موجودگی میں جونیئر اراکین پارٹی کو مقام دیا جا رہا ہے اور انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔  | پارٹی میں نظم وضبط کی خلاف ورزی  پارٹی میں نظم وضبط کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور جس نظم و ضبط پر قائم رہنے کی دوسروں کو تلقین کی جاتی ہے اس نظم وضبط کو خود پر لاگو نہیں کیا جا رہا اور پارٹی کی قیادت آمرانہ رویے کا مظاہرہ کر رہی ہے۔  |
انہوں نے مسلم لیگ کی قیادت کی بابت کہا کہ پارٹی میں نظم وضبط کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور جس نظم و ضبط پر قائم رہنے کی دوسروں کو تلقین کی جاتی ہے اس نظم وضبط کو خود پر لاگو نہیں کیا جا رہا اور پارٹی کی قیادت آمرانہ رویے کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ میر ظفر اللہ نے ایک اور وجہ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے اجلاس میں ان کی بات سنی نہیں جاتی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کسی سے ذاتی عناد یا کوئی جھگڑا نہیں ہے۔انہوں نے انگریزی اصطلاح بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پولٹیکل اینیمل ہیں اور اسی لیے وہ ایک منظم سیاست پر یقین رکھتے ہیں لیکن اگر منظم سیاست نہ ہو تو وہ نشاندہی کرتے ہیں لیکن اگر ان کی بات نہ مانی جائے اور پارٹی کے نظم وضبط کو بہتر کرنے میں بھی کوئی کردار ادا نہ کر سکیں تو پارٹی سے الگ ہونا ہی ایک مہذب طریقہ رہ جاتا ہے۔ میر ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ جب انہیں وزارت عظمی کے منصب سے ہٹایا گیا یا جب نواب بگٹی کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں حالات خراب ہوئے تو انہوں نے بحیثیت پاکستانی اور بحثیت بلوچستانی پارٹی کے اجلاسوں میں نشاندہی کی لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ ان کی کسی بات کو نہیں سنا جا رہا۔ |