BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 June, 2004, 17:25 GMT 22:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لب پہ آتی ہے ۔ ۔ ۔

News image
میرے کولیگ مصدق سانول نے کچھ دیر پہلےمجھے پڑھنے کے لیے ایک ای میل دی جو ہمارے ایک قاری نے بھیجی تھی۔ انہوں نےعراق میں انتقالِ اقتدار کو ’انتقالِ پرملال‘ قرار دیا۔ لیکن نہیں معلوم کہ میرا ذہن کیوں وزیرِ اعظم کے منصب کی جمالی سے شجاعت تک منتقلی کی طرف منتقل ہوگیا۔

بات کو آگے بڑھانے کے لیے میں نے سوچا کہ کیوں نے جمالی کی روحِ جمہوری کو ’ایصالِ ثواب‘ پہنچانے کے لیے کوئی دعا کر دی جائے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آخر کیا دعا کی جائےاور کیوں دعا کی جائے؟

اگر دعاؤں سے ہی جمہوریت کے سانس باقی رہ سکتے تو سر زمینِ حجاز کے مکین یعنی نواز شریف مع اہل و عیال اسلام آباد کے وزیرِ اعظم ہاؤس میں ہوتے۔ بے نظیر بھٹو جنہوں نےاپنی تسبیح کو دانہ دانہ شمار کر دیا، دعاؤں کے باعث لندن یا متحدہ عرب امارات میں نہ ہوتیں بلکہ اسلام آباد میں وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کو کب کی آباد کر چکی ہوتیں۔

اگر جمہوریت کے لیے کی جانے والی دعاؤں میں اثر ہوتا تو ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ’عدل‘ نہ ہوتا، محمد خان جونیجو کے کس بل نہ نکلے ہوتے، بےنظیر اور زرداری کو بے نظیرخواری نہ ہوتی، ’نواز‘ کو شریف ہی رہنے دیا جاتا، ’سیاسی بدمعاش‘ مشہور نہ کر دیا جاتا، جمالی باس کے ہاتھوں یوں خراب نہ ہوتے، معین قریشیوں اور شوکت عزیزوں کی اتنی مانگ نہ ہوتی اور سیاست کے بازار میں چودہریوں کے بھاؤ یوں نہ بڑھ رہے ہوتے۔

کوشش کے باوجود مجھے تو ایسی کوئی دعا یاد نہیں آرہی جو جمہوریت کی حیات کی ضامن ہو۔ ہاں ایک نسخہ ضرور سجھائی دے رہا ہے مگر گارنٹی اس کے مؤثر ہونے کی بھی نہیں ہے۔ کیا کریں بےچاری جمہوریت پر ضرب ان سپاہیوں کی لگتی ہے جنہیں جمہوریت کا دامن چاک کرنے کے لیے کسی تیغ کی ضرورت ہی نہیں۔

نسخہ یہ ہے کہ جی ایچ کیو کی طرف منہ کر کے سیاست گزار دو زانو ہو جائیں اور اسی طرح التجا کریں جیسی مناجات کے وقت کی جاتی ہے۔ پھر بھر پور خضوع و خشوع کے ساتھ التماس کی جائے کہ:

جنابِ عالی! اس ملک کے ساتھ بہت ہوچکی۔ جمہوریت میں اب اچانک صدمے اٹھانے اور یکدم مرجانے کی بھی سکت نہیں رہی۔ رحم کیجیئے۔

جنابِ عالی! آپ کا فرمان سچ کہ سیاست دانوں کا ٹھکانہ دائمی طور پر اپنی ہی آگ میں جلنا ہے لیکن سیاست دانوں کے والی اور وارث بھی تو آپ ہی ہیں۔ رحم کیجیئے۔

جنابِ عالی! یہ ٹھیک ہے کہ ملک کو لُوٹنے والے سیاست دان ہی ہیں، لیکن آپ فوجیوں کے نام پر انہیں معاف کر دیں کہ معافی کا اختیار بھی اب آپ ہی کے پاس ہے۔ رحم کیجیئے۔

جنابِ عالی! آپ کا اقتدار بہت وسیع، بے نظیروں، نواز شریفوں اور جمالیوں جیسے عاجزوں کی آپ کے سامنے کیا بساط ہے۔ سیاست دانوں کے ساتھ بھی صلۂ رحمی فرمائیے۔ رحم کیجیئے۔

اور جنابِ عالی! بہتر یہی ہوگا کہ آپ نیشنل سکیورٹی کونسل کی طرح کا ایک اور قانون منظور کرائیئے۔ آپ کے پاس ووٹوں کی کیا کمی ہے۔ اور آئندہ کے لیے یہ قرار دیجئے کہ صدر پاکستان بھی آپ ہی ہوں گے، وزیرِ اعظم بھی آپ ہی ہوں گے، کابینہ بھی آپ ہی ہوں گے، عدلیہ بھی آپ ہی ہوں گے، مقننہ بھی آپ ہی ہوں گے، انتظامیہ بھی آپ ہی ہوں گے۔ عوام ہوں گے نہ سیاست دان، ہوں گے تو صرف آپ ہی ہوں گے۔

یہ نسخہ کتنا کارگر ہوتا ہے؟ اس کے لئے آزمائش شرط ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد