’جناح پاکستان نہیں چاہتے تھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنہ انیس سو چھ میں جب مسلم لیگ وجود میں آئی اس وقت سے اب تک پارٹی کے قیام کے مقاصد اور بانئ پاکستان محمد علی جناح کے بارے میں بیشتر مورخوں نے متضاد دلائل پیش کیے ہیں۔ تاہم چند دہائیوں سے برصغیر کی تاریخ لکھنے والے کئی مورخین نے جناح اور ان کی پارٹی مسلم لیگ کے بارے میں نئے انکشافات کیے اور نئےگوشے منظرِ عام پر لائے گئے جن کی بنیاد پر یہ کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ مذہبی جماعت کے طور پر نہیں ابھری تھی اور جناح پاکستان بنانے کے حق میں نہیں تھے۔ 1885 میں انڈین نیشنل کانگریس اپنے قیام کے بعد سبھی برادریوں کے مسائل اجاگر کرنے کا اپنا مقصد بیان کرتی ہے مگر مشہور دانشور اور ماہر تعلیم سر سید احمد خان مسلمانوں کو اس پارٹی میں شمولیت سے منع کرتے ہیں اور چند سال بعد آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا انعقاد کرتے ہیں جو ال انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد کے لیے سنگ میل ثابت ہوتی ہے۔ ایک طرف بعض ہندو تنظیمیں سرگرم عمل ہوکر گنیش تہوار اور گائے ذبح کرنے کے خلاف تحریکیں شروع کرتی ہیں تو دوسری طرف 1857 میں سامراجی طاقت مقامی فوج کی بغاوت کے بعد مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنی پالیسی میں زبردست تبدیلی لاتی ہے۔ پاکستان کے مشہور مورخ ڈاکٹر جعفر احمد کہتے ہیں’سامراجی حکومت نے جب جداگانہ انتخابات کو متعارف کرا کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم کے طور پر مان لیا تو اس سے اپنا الگ پلیٹ فارم بنانے کے سلسلے میں مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ سرسید جو سامراجی طاقت کے دوستوں میں تھے، 1857 کے بعد مسلمانوں پر ظلم دیکھ کر اس کو دوستی کو الوداع کہہ کر مسلمانوں کو اپنے حقوق کی جنگ شروع کرنے کا مشورہ دیتے ہیں‘۔ مسلم لیگ کے وجود میں آنے کے باوجود کانگریس اور مسلم لیگ میں کوئی تفریق نہیں ہوتی بلکہ دونوں جماعتیں بعض مرتبہ جلسے جلوس بھی ایک ہی شہر اور ایک ہی پلیٹ فارم پر کرتی ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر اور مورخ پروفیسر مشیر الحق لکھتے ہیں’دونوں جماعتوں کے درمیان کشیدگی خلافت کی تحریک کے دوران شروع ہوئی کیونکہ جناح،گاندھی کی خلافت کی پالیسیوں سے ناخوش تھے اور مسلمان رہنما سمجھنے لگے کہ گاندھی مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے درپے ہیں‘۔ پروفیسر مشیر الحق کہتے ہیں کہ’مسلم لیگ کامقصد مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنا تھا اور اسے محض مذہبی جماعت کہنا صحیح نہیں ہے اور جماعت نے سنہ چالیس تک کسی اسلامی مملکت کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا تھا۔ جناح خود کٹر کانگریسی تھے اور مسلمانوں کو پارٹی میں شامل ہونے میں ان کا خاصا کردار رہا ہے۔ 1935 کے الیکشن میں مسلم لیگ کی شکست کے بعد جناح میں عجیب تبدیلی آئی اور وہ اگلے الیکشن میں مسلم لیگ کو مسلمانوں کی صیح نمائندہ جماعت کا کردار دلانے میں کامیاب ہوگئے۔ انیس سو اکیس میں جنوب میں میپلاوں کی بغاوت اور وسط میں ہندوؤں کی شدھ تحریکیں زور پکڑتی جا رہی تھیں۔ بنگال کی تقسیم، اس کا واپس اتحاد اور کانگریس کی خاموش پالیسیوں پر مسلمانوں میں شکوک بڑھتے جا رہے تھے اور یہ خیال تقویت پکڑ تا جا رہا تھا کہ مسلمانوں کو الگ ملک بنانے کے لیے جدوجہد کرنی چاہے مگر جناح اس کا ساتھ نہیں دیتے۔ 1906 میں ڈھاکہ میں مسلم لیگ کی بنیاد پڑ جاتی ہے مگر چند برسوں بعد ہی اس کا مرکز جب علی گڑھ تبدیل ہوتا ہے تو مسلمانوں میں اپنے حقوق کے حصول کی خاطر بیداری لانے کی مہم شروع ہوتی ہے ۔ مسلم مملکت کا نعرہ زور پکڑتا ہے اور جناح کانگریس کی پالسیوں سے ناخوش ہوکر مسلمانوں کے ’واحد ترجمان‘ بن جاتے ہیں۔ مورخ کہتے ہیں کہ جناح نے لکھنو پیکٹ کرا کے مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان پائی جانے والی خلش کو دور کرانے میں اہم کردار ادا کیا لیکن چند برس بعد ہی وہ لاہور قرارداد میں الگ مملکت کا منصوبہ سامنے لا کر مسلمانوں اور ہندوؤں کو دو قوموں کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں۔ آسم رائے، سٹینلے والپورٹ، عائشہ جلال اور مولانا آزاد جیسے مؤرخین کا کہنا ہے کہ ’جناح نے الگ مملکت کا منصوبہ ’بارگیننگ چپ‘ کے طور پر استعمال کیا ورنہ وہ الگ ملک بنانے کے حق میں نہیں تھے اور دراصل وہ مسلمانوں کو صحیح نمائندگی دلانے کی جدوجہد کر رہے تھے کیونکہ کانگریس پر سے ان کا اعتبار اٹھ گیا تھا‘۔ جب مسلم لیگ اور جناح نے الگ مملکت کا مطالبہ کیا تو ان کے مخالفین میں سب سے پہلے دیوبند کے علما اٹھے جنہوں نے دلیل پیش کی کہ جناح مسلمانوں کو بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پاکستان کے مورخ ڈاکٹر مبارک علی کہتے ہیں کہ’پاکستان بننے سے پہلے علمائے کرام جناح کے کٹر مخالف تھے مگر ملک بننے کے بعد وہ جناح کو کٹر مسلمان کے طور پر پیش کرتے رہے حالانکہ جناح کبھی کٹر مسلمان نہیں رہے‘۔ قائداعظم اکادمی کے سابق سربراہ شریف الدین مجاہد کے خیال میں’جناح پاکستان کے قیام کے بعد بھی اسے اسلامی مملکت نہیں بنانا چاہتے تھے بلکہ انہوں نے ایک فلاحی ریاست کا خواب دیکھا جو اب بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا‘۔ قیام پاکستان کے بعد جناح کے انتقال اور پھر لیاقت علی خان کے قتل کے بعد مسلم لیگ دھڑ ے بندیوں کا شکار ہوگئی اور بیشتر حکمران اسے محض جذبات ابھارنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے۔ مسلم لیگ (ق) کے رہنما شیخ رشید کہتے ہیں کہ بھارت میں کانگریس بھی کئی بار تقسیم ہوئی تو کیا کانگریس کی اہمیت ختم ہوئی ہے جو مسلم لیگ کے بارے میں ایسا کہا جا رہا ہے ۔ وہ کہتے ہیں مسلم لیگ کا کردار اب بھی قائم و دائم ہے اور پاکستانی عوام نے ہر مرتبہ اسے ووٹ دے کر اپنے جذباتی لگاؤ کا اظہار کیا ہے۔ گو کہ مسلم لیگ اور جناح کے کردار پر مؤرخوں نے نئے انکشافات کر کے برصغیر کی تاریخ کے نئےگوشے اجاگر کیے ہیں مگر برصغیر میں مسلمانوں کی جنگ آزادی کے حوالے سے مورخوں کو مزید تحقیق کرنی ہوگی۔ |
اسی بارے میں بر صغیر کی تاریخ کا اہم سنگ میل21 March, 2005 | پاکستان پاکستان کا قیام، بنگالیوں کی سازش؟30 March, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||