بلوچوں نے برطانوی تمغے جلا دیے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلمان رشدی کو سر کا خطاب دیے جانے کے خلاف پہلی جنگ عظیم میں شریک بلوچ فوجیوں کے بیٹوں اور نواسوں نے برطانوی حکومت کی طرف سے ان کے بزرگوں کو دی گئی اعزازی اسناد کو آگ لگا دی ہے اور تمغوں سے برطانوی ملکہ اور جارج پنجم کی تصاویر مٹا دی ہیں۔ یہ فیصلہ سنیچر کو بلوچستان کے تاریخی شہر قلات میں کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سابق کمشنر محمد انور زہری کی رہائش گاہ پر کوئی ایسے درجن بھر افراد نے شرکت کی جن کے آباؤ اجداد کو میڈلز اور اسناد ملی تھیں۔ محمد انور زہری نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے مشترکہ فیصلے کے بعد اسناد کو احتجاج کے طور پر آگ لگا دی اور میڈلز سے ملکہ برطابینہ اور جارج پنجم کے نقوش کو ہتھوڑوں سے مسخ کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سلمان رشدی کو سر کا خطاب دینے سے برطانیہ نے مسلمانوں کی دل شکنی کی ہے اور ایسی صورت میں وہ ان اعزازات کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے بزرگوں کو نصیر آباد کے علاقے میں برطانوی کپٹن کرٹش کی طرف سے زمینیں بھی دی گئی تھیں اور اس علاقے کا نام کرٹش آباد رکھا گیا تھا لہذا انھوں نے اب درخواست کی ہے کہ اس علاقے کا نام تبدیل کر دیا جائے۔ بلوچ فوجیوں نے انیس سو چودہ اور انیس سو انیس میں پہلی جنگ عظیم کے دوران بہادری کے کارنامے سرانجام دیے تھے جس پر برطانوی حکومت نے انھیں اعزازات دیے تھے۔ ان فوجیوں میں مرحوم خدائے داد، ایک سو چھبیس اور ایک سو چوبیس بلوچ انفنٹری کے لیفٹیننٹ میر کمبیر خان رند، صوبیدار یعقوب محمد شہی، نائب صوبیدار سفر خان زہری، میجر ہیبت خان لاشاری، صوبیدار اللہ بخش لہڑی، نائب صوبیدار عید محمد بنگلزئی، نائب صوبیدار حکیم خان شاہوانی، رسالدار وجدل خان شاہوانی، حوالدار عنایت اللہ بلوچ اور حوالدار حاجی گل محمد لاشاری مرحوم شامل ہیں۔ محمد انور زہری نے کہا کہ وہ پاکستان سولجر بورڈ سے رابطہ کر رہے ہیں کہ وہ سلمان رشدی کو سر کا خطاب دیے جانے کے حوالے سے ان کے اظہار نفرت کو حکومت برطانیہ تک پہنچائے اور اس کے علاوہ انھوں نے بلوچستان کے سرداروں اور نوابوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت برطانیہ کی طرف سے خان بہادر، سردار بہادر اور دیوان بہادر کے اعزازات واپس کر دیں۔ | اسی بارے میں پلاسی: برصغیر میں قومی شناخت کا سوال23 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||