ثقلین امام بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن |  |
 | | | لارڈ کلائیو نے نواب سراج الدولہ کو شکست دیکر برصغیر میں برطانوی سامراج کی بنیاد ڈالی |
ڈھائی سو برس قبل تئیس جون کے دن جب بنگال کے ایک گاؤں پلاسی میں سورج طلوع ہوا تو بادل چھائے ہوئے تھے۔ وقفے وقفے سے بارش ہورہی تھی۔ پلاسی کے اس گاؤں کےآم کے باغ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے چار ہزار کے قریب فوجی چھپے ہوئے تھے۔ کسی کو کچھ یقین نہیں تھا کہ بنگال کے حکمران نواب سراج الدولہ کی چالیس ہزار نفوس پر مشتمل فوج سے ٹکرانے کے بعد کمپنی کی فوج کا کیا بنے گا۔ لارڈ کلا ئیو کی قیادت میں کمپنی کی فوج میدان جنگ کو دیکھ رہی تھی۔ لڑائی شروع ہوئی۔ اسی دوران بارش کا ایک زبردست ریلا آیا۔ کمپنی کی فوج کے پاس تو ترپال وغیرہ موجود تھیں جو انہوں نے اپنی توپوں پر ڈال دی مگر نواب کی توپیں بارش میں بھیگ گئیں۔ بارش تھمنے کے بعد پھر لڑائی کا آغاز ہوا۔ اور بس! کمپنی کی توپیں گرجتی رہیں اور نواب کی فوج چند گھنٹوں میں پسپا ہوگئی۔ اس طرح کمپنی کی پہلی بڑی لڑائی ہندوستان کے کسی بھی حکمران کے خلاف کمپنی کی فتح کی صورت میں ختم ہوئی۔  | کمپنی کی تین کامیابیاں  دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کہ وائس چانسلر پروفیسر مشیرالحسن کا کہنا ہے کہ پلاسی کی لڑائی نے تین اہم باتیں مسلمہ طور پر طے کردیں: اول یہ کہ اس لڑائی کے بل بوتے پر ایسٹ انڈیا کمپنی پورے ہندوستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئی، دوسری بات یہ کہ مغل سلطنت جو پہلے ہی کمزور ہوچکی تھی اس کی کمزوری کھل کر سامنے آگئی، اور تیسری بات یہ کہ لارڈ کلائیو کی کامیابی سے انگریزوں کی فوجی برتری مقامی فوجوں پر مکمل طور پر ثابت ہوگئی۔  |
ڈھائی سو برس بعد یعنی دو ہزار سات کی تئیس جون کے دن ہمارے نامہ نگار سوبھیر بھومک پلاسی کے گاؤں گئے۔ انہوں نے آموں کے اس باغ والی جگہ کو بھی دیکھا جہاں سے لارڈ کلائیو اپنی فوجوں کی کارروائی ایک اونچے مقام سے دیکھ رہا تھا۔سوبھیر بھومک نے بتایا کے ڈھائی سو برس پورے ہونے پر پلاسی میں کسی بڑی تقریب کا کوئی انتظام نہیں تھا، البتہ کانگریس نے اور بائیں بازو کے لوگوں کی ایک نئی تنظیم، انڈیا بنگلہ دیش پاکستان پیپلز فورم نے اپنے اپنے سیمیناروں کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ سوبھیر بھومک تو پلاسی میں آج کے واقعات بتاتے ہیں مگر جب کمپنی کو ڈھائی سو برس پہلے پلاسی میں فتح حاصل ہوئی تھی تو اس وقت لندن کے لوگوں کا کیا رد عمل تھا؟ لندن کے تاریخ دان، محقق اور کئی کتابوں کے مصنّف نک رابنز بتاتے ہیں کہ یہاں لندن میں کمپنی کے حصص کی قیمتیں مزید بڑھ گئیں اور مقامی اخبارات نے کہا کہ یہ کامیابی قومی قرضے اتارنے کا ایک زبردست موقع ہے اور کامیابی کی وجہ سے جو آمدنی حاصل ہو اس کے نتیجہ میں ٹیکسوں میں کٹوتی ہونا چاہئیے۔ لندن میں یہ بھی کہا جارہا تھا پلاسی کے بعد برطانیہ کو اتنی رقم ملے گی کہ سارا کا سارا یورپ حیران رہ جائیگا۔ دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کہ وائس چانسلر پروفیسر مشیرالحسن کا کہنا ہے کہ پلاسی کی لڑائی نے تین اہم باتیں مسلمہ طور پر طے کردیں: اول یہ کہ اس لڑائی کے بل بوتے پر ایسٹ انڈیا کمپنی پورے ہندوستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئی، دوسری بات یہ کہ مغل سلطنت جو پہلے ہی کمزور ہوچکی تھی اس کی کمزوری کھل کر سامنے آگئی، اور تیسری بات یہ کہ لارڈ کلائیو کی کامیابی سے انگریزوں کی فوجی برتری مقامی فوجوں پر مکمل طور پر ثابت ہوگئی۔  | | | نواب سراج الدولہ | بھارتی نژاد نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات پروفیسر امرتیا سین کا کہنا ہے کہ پلاسی کی جنگ میں ہندوستان کی ناکامی دراصل اس دور میں یہاں کے کمزور سیاسی نظام کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حکمران چھوٹے چھوٹے حربوں کےذریعے نظام حکومت چلاتے ہیں تو شکست و ریخ تو ان کا مقدر بننا ہی تھا۔ لندن میں اپنی ایک حالیہ تقریر میں پروفیسر امرتیا سین نے بتایا کہ ’ کہنے والوں نے کہا ہے کہ گھٹیا حربے زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتے ہیں۔ کمزور سیاسی نظام جو کہ اس وقت ہمارے خطے کی شناخت بن چکا تھا ایک بڑی سلطنت کے بننے کے لئے ایک کھلا موقع تھا اور پلاسی کی جنگ نے یہی ثابت کیا۔‘ پروفیسر امرتیا سین کا کہنا تھا کہ پلاسی کی جنگ ہندوستان کی ترقی کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ ’برطانوی امپیریلزم کا ہندوستان کی تاریخ کو آگے بڑھانے میں ایک اہم کردار ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں امپیریلزم کا حامی ہوں، جس طرح لوٹ مار کے نظام پر تنقید کی وجہ سے میں امپیریلزم کا مخالف قرار نہیں دیا جاسکتا اسی طرح میں اس کا حامی بھی نہیں ہوں۔ ہمیں اس دور کے حالات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘ پروفیسر امرتیا سین نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پلاسی کے بعد ہندوستان میں نئی نئی قومی شناختوں کی بحث کا آغاز ہوا: ’پلاسی کی لڑائی کے بعد ایک ایسی سلطنت قائم ہوئی جو اس سے پہلے ہندوستان میں موجود نہیں تھی۔ یہاں اس سے پہلے بھی سلطنتیں رہ چکی ہیں۔ مثلاً مغل سلطنت، پٹھانوں (افغان) کی سلطنت، بدھ سلطنت، ہندو سلطنت، موریا سلطنت، گپتا سلطنت وغیرہ۔ مگر یہ سب مقامی سلطنتیں تھیں۔ جبکہ یہ (برطانوی) سلطنت سمندر پار سے آئی تھی جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں اپنے آپ کو خود سے دیکھنے کے انداز کا ایک نیا مکالمہ شروع ہوا اور یوں مختلف گروہوں کی شناخت کا معاملہ اٹھا۔‘  | نیا مکالمہ شروع ہوا  ’پلاسی کی لڑائی کے بعد ایک ایسی سلطنت قائم ہوئی جو اس سے پہلے ہندوستان میں موجود نہیں تھی۔ یہاں اس سے پہلے بھی سلطنتیں رہ چکی ہیں۔ مثلاً مغل سلطنت، پٹھانوں (افغان) کی سلطنت، بدھ سلطنت، ہندو سلطنت، موریا سلطنت، گپتا سلطنت وغیرہ۔ مگر یہ سب مقامی سلطنتیں تھیں۔ جبکہ یہ (برطانوی) سلطنت سمندر پار سے آئی تھی جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں اپنے آپ کو خود سے دیکھنے کے انداز کا ایک نیا مکالمہ شروع ہوا اور یوں مختلف گروہوں کی شناخت کا معاملہ اٹھا۔  نوبل انعام یافتہ دانشور امرتیا سین |
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے ممالک کو دور حاضر کے تنازعات پر پلاسی کی جنگ کے بعد کے حالات کی روشنی میں ایک مکالمہ کرنے کی ضرورت ہے: ’میرا خیال ہے کہ ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک دوسرے کے بارے میں ہمارا جو رویہ ہے وہ چاہے ہندوستان میں ہو، پاکستان میں ہو یا بنگلہ دیش میں ہو، یہ دراصل امپیریلزم کے جواب میں ایک جدلیاتی رد عمل ہے۔‘’اور دیکھنا یہ ہے کہ یہ رویے کیا کسی سوچی سمجھی پالیسی کا نتیجہ ہیں۔ اور اگر یہ سہ سب کچھ کسی سوچی سمجھی پالیسی کا نتیجہ نہیں ہیں تو پھر یہ سب کچھ کیوں ہوا۔ آخر برصغیر میں تقسیم تو ہوئی ہے۔ مگر ماضی میں پورے ہندوستان کی ایک شناخت تھی۔ آج جب اس خطے کی آزادی کو ساٹھ برس ہوچکے ہیں تو اس پر کھل کر بات ہونی چاہیئے، مکالمہ ہونا چاہئیے۔‘ جنوبی ایشیا کے رہنما یہ مکالمہ آگے بڑھاتے ہیں یا نہیں مگر پلاسی کے میدان میں آج چند ایک دانشوروں نے دورحاضر کے تقاضوں کے مطابق اس مکالمے کی اہمیت پر زور ضرور دیا ہے۔ پلاسی سے بی بی سی کے میرے ساتھی سوبھیر بھومک نے بتایا کہ بائیں بازوں کے لوگوں کی تنظیم انڈیا بنگلہ دیش پاکستان پیپلز فورم نے کہا کہ آج ضرورت صرف یہ نہیں ہے کہ نواب سرج الدولہ اور پلاسی کے دیگر شہداء کی یاد منائی جائے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ آج کے دور کی کمپنیاں یعنی ملٹی نیشنل کمپنیوں سے کسی قسم کے لین دین کرتے وقت پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے رہنما کس سوچ کے ساتھ معاملات نمٹاتے ہیں۔ پلاسی کی لڑائی کے ڈھائی سو برس ہونے پر آج جنوبی ایشیا کی قومیں کہاں کھڑی ہیں، کیا یہ آگے بڑھی ہیں یا نہیں؟ شاید یہ بحث ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی صورت میں ایک نیا رخ اختیار کرے۔ |