1857 اور مسلمانوں کی نقل مکانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹھارہ سو ستاون کو ملک کی تاریخ میں آزادی کے لیے لڑی جانے والی پہلی لڑائی کے طور پر ہی یاد نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ سال بڑے پیمانے پر ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک مسلمانوں کے نقل مکانی کے لیے بھی یاد رکھا جائے گا۔ آزادی کی اس جنگ میں مسلم علماء اور مسلمانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ تاریخ کے مطابق اس جنگ میں مراٹھا، روہیلا اور اودھ کے رہنے والوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ وہ آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کے وفادار تھے۔ اس دور کے مسلم رہنماؤں نے جہاد کا نعرہ دیا جس کی وجہ سے مسلمانوں کی بڑی تعداد اس میں شریک ہوئی۔ احمد اللہ شاہ اور اودھ میں حاجی عماد اللہ کو انہوں نے اپنا امیر بنایا۔ نتیجہ میں انگریزوں نے مسلمانوں کے گاؤں کے گاؤں جلانے شروع کیے۔ ساتھ ہی لوگوں کو پھانسی دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس سے خوف زدہ مسلمان بڑی تعداد میں اپنی جان بچا کر بھاگنے لگے۔ اعظم گڑھ، مئو ناتھ بھنجن، مبارکپور، بارہ بنکی، الہ آباد، لکھنؤ، بنارس، فیض آباد اور بستی سے خوفزدہ مسلمانوں نے ملک کے شمالی حصے سے جنوب کی طرف کوچ کرنا شروع کیا۔ان میں بنکر اور کسان شامل تھے جنہوں نے پیدل سفر کیا وہ آگرہ ہائی وے سے دکن کی جانب چلے۔ کچھ ٹرین کے ذریعہ مدھیہ پردیش کے برہان پور تک آئے۔ کچھ وہیں رک گئے لیکن کچھ نے پھر پیدل یا بیل گاڑیوں میں سفر کیا۔ آگرہ روڈ کے ذریعہ دکن کی جانب آنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ یہاں دکن میں آخری مغل شاہ ظفر کے حامی پیشوا نانا صاحب اور اہلیہ بائی تھیں جنہوں نے وہاں سے آئے مسلمانوں کو اپنے یہاں پناہ دی۔
برہان پور کے بعد بھی یہ سفر جاری رہا۔ کچھ جبلپور، ناگپور، کامٹی، شہادا، دھولے تک رک گئے کیونکہ ندی کے کنارے کی زمین زرخیز تھی اور کسانوں کے لیے اچھی، اس لیے کسانوں نے یہاں بسیرا کیا لیکن بنکر آگے بڑھے اور مالیگاؤں، ایولا، بھیونڈی، حتی کہ بمبئی کے اندرونی علاقوں مدنپورہ اور مومن پورہ تک بس گئے۔ مہاراشٹر کے ان علاقوں میں پہلے مراٹھا اور بمبئی میں کولی( ماہی گیر) رہتے تھے۔ بمبئی کے مدنپورہ اور مومن پورہ جسے کبھی کالا پانی کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ بنکروں کے آنے کی وجہ سے مالیگاؤں، بھیونڈی، مدنپورہ اور مومن پورہ میں یہاں کپڑا بننے کے لیے لوم لگائے گئے اور یہ صنعت ترقی کرنے لگی۔ مہاراشٹر میں مالیگاؤں اور بھیونڈی خصوصی طور پر کپڑوں کی صنعت کا گڑھ بن گیا۔بھیونڈی کو مانچسٹر کہا جانے لگا۔ نقل مکانی کر کے آئے ان لوگوں کی وجہ سے مہاراشٹر کی اقتصادی صورتحال بدل گئی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مالیگاؤں میں رہائش پذیر اکانوے سالہ محمد بشیر سلطان اٹھارہ سو ستاون کی باتوں پر جذباتی ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا:’ والد بتاتے تھے کہ وہ اپنے گاؤں اعظم گڑھ سے صرف چند زیور اور روپیہ لے کر گاؤں والوں کے ہمراہ گھر بار چھوڑ کر نکلے تھے کیونکہ مسلمانوں پر ظلم بڑھ گیا تھا۔ بنکروں کے ہاتھوں کی انگلیاں کاٹی جا رہی تھیں۔ ان کے سامان کو آگ لگا کر تماشہ دیکھتے تھے‘۔ بشیر کہتے ہیں کہ ان کے والد کے مطابق ’اعظم گڑھ سے مالیگاؤں پہنچنے میں ایک سال کا عرصہ لگ گیا۔ راستہ میں مرد پیدل چلتے تھے اور بچوں اور عورتوں کو بیل گاڑیوں میں بٹھا دیا گیا تھا۔ وہاں مقیم مراٹھا اور مسلمانوں کو جب پتہ چلتا کہ ایک قافلہ آ رہا ہے توہندو مسلمان سب لوگ ان کے لیے کھانے پینے کا سامان لے کر کھڑے رہتے۔ شطرنجیاں بچھائی جاتیں اور وہ رات وہیں گزاری جاتی اور پھر قافلہ روانہ ہوتا تھا‘۔ بشیر کہتے ہیں کہ انگلیاں کاٹنے جیسی اذیت اس لیے دی گئی تھی کیونکہ اس وقت ریشمی رومال تحریک شروع ہوئی تھی اور بنکروں نے جنگ لڑنے والے مجاہدوں کو رومال بُن کر دیا تھا۔
بشیر کے مطابق ہجرت کا یہ سلسلہ کئی برسوں تک چلا اور ملک کے شمالی حصہ سے مالیگاؤں میں ایک ہزار خاندان آ کر آباد ہوئے۔ صرف بنکر ہی نہیں کسان بھی بڑی تعداد میں اس وقت گاؤں چھوڑ کرچلے آئے۔ زمینداروں کا بھی بہت ظلم ہوا کرتا تھا۔ایودھیا سے بھی کئی خاندان یہاں آ کر بسے ہیں۔ ان کی داستانیں رونگٹے کھڑے کر دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’زمیندار کسانوں پر بہت ظلم کرتے تھے۔ انہیں اپنے بچوں کے نام بھی رکھنے کا حق حاصل نہیں تھا۔ کسان کے گھر اگر بچہ پیدا ہوتا تو وہ زمیندار کی چوکھٹ پر پہنچتا اور زمیندار انہیں بدھو، کلو، بھکاری جیسے نام رکھنے کا حکم صادر کرتا۔اگر اس روز زمیندار خوش ہوتا اور پوچھ لیتا کہ آج کون سا دن ہے اور اگر اس روز جمعہ ہوتا تو بچے کا جمن رکھ دیا جاتا‘۔ بشیر کہتے ہیں کہ ان کے دادا نے اپنے بیٹے کا نام سلطان رکھ لیا جس پر زمیندار بہت غصہ ہوا تھا اور انہیں اس کی سزا دی گئی۔ مالیگاؤں، بھیونڈی میں مسلمان پاورلوم تجارت میں ہی مصروف رہے لیکن مدنپورہ اور مومن پورہ علاقے چونکہ ممبئی میں تھے۔ اس لیے بہت جلد یہاں مسلمانوں نے اپنا ذریعہ معاش بدل دیا۔ آج وہ ممبئی کے رنگ میں رچ بس گئے ہیں۔ ان میں سے صرف چند ایک نے اپنے آبائی وطن میں اپنی جڑوں کو باقی رکھا ہے ورنہ بعد میں وہ سب کچھ فروخت کر کے یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ مالیگاؤں کی آبادی اس وقت پانچ لاکھ ہے اور اس میں بہتر فیصد مسلمان ہیں۔ یہی حال بھیونڈی، مدنپورہ اور مومن پورہ کا ہے۔ البتہ بھیونڈی میں آج بھی پاور لوم صنعت عروج پر ہے لیکن ممبئی کے مدنپورہ اور مومن پورہ میں اب کپڑوں کی صنعت نہیں بلکہ مسلمان دیگر تجارت اور ملازمت کرنے لگے ہیں۔ |
اسی بارے میں 1857: آزادی کی پہلی جنگ11 May, 2007 | انڈیا لال قلعہ: 1857 کی جنگ آزادی کی یاد11 May, 2007 | انڈیا 1857: ڈیڑھ سو سالہ برسی پر ریلی 07 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||