BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 June, 2007, 13:08 GMT 18:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہادر شاہ ظفر کی قبر آج بھی خالی ہے

مہرولی میں قطب مینار کے نزدیک ظفر محل میں بادشاہ نے اپنی قبر کی جگہ متعین کی تھی
اٹھارہ سو ستاون کے غدر کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو ان کی بیگم حضرت زینت محل کے ساتھ رنگون بھیج دیا تھا۔

بہادر شاہ ظفر نے اپنے پیش رو بادشاہوں کی طرح دلی میں اپنے لیے بھی تدفین کی ایک جگہ منتخب کی تھی۔ مہرولی میں قطب مینار کے نزدیک ظفر محل میں بادشاہ نے اپنی قبر کی جگہ متعین کی تھی۔ دو قبروں کے درمیان وہ جگہ آج بھی خالی پڑی ہے۔

ظفر کی قبر کو رنگون سے دلی منتقل کرنے کا حکومت کا تو کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن حکومت مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ کی اس خواہش کو ’یادگار‘ کی شکل میں تعمیر کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ظفر محل اکبرشاہ ثانی نے تعمیر کرایا تھا، لیکن ان کے پوتے بہادر شاہ ظفر نے اس محل میں ایک بڑے گیٹ کا اضافہ کیا۔ اس بلند دروازے پر’ باب ظفر‘ لکھا ہوا ہے۔

ظفر محل اکبرشاہ ثانی نے تعمیر کرایا تھا

مؤرخین کے مطابق ان کے ہمراہ ان کی ایک بڑی بیگم اور دو بیٹے بھی رنگون گئے تھے۔

رنگون میں انہیں پورے آرام و آسائش سے رکھا گیا۔ ان کی دیکھ بھال کے کے لیے ایک ڈاکٹر بھی تھا۔ا ن کے اخراجات کا تخمینہ لگا کر گرانٹ بھی ملتی تھی۔ ان کو ملازم بھی ملے ہوئے تھے۔ لیکن لکھنے پڑھنے کی آزادی نہیں تھی۔ قلم کاغذ انہیں نہ دیا جائے یہ باقاعدہ حکم تھا۔ انہیں کسی سے ملنے جلنے کی آزادی بھی نہیں تھی۔

بہادر شاہ ظفر ہر برس گرمی کے دنوں میں تین ماہ کے لیے مہرولی کے اس محل میں گزارا کرتے تھے۔ ان کے ہمراہ بیگم زینت محل بھی ہوا کرتی تھیں۔

مؤرخین کے مطابق بادشاہ بہادر شاہ ظفر ایک اچھے انسان، تیر انداز اور شہ سواری میں ماہر اور بہت با صلاحیت شخص تھے۔ وہ ایک بہترین شاعر بھی تھے۔

بہادر شاہ ظفر کی زندگی کے محقق ڈاکٹر اسلم پرويز کہتے ہیں کہ بہادر شاہ ظفر جتنے بدنصیب بادشاہ تھے اتنے ہی بدنصیب شاعر بھی تھے‘۔

ظفر کو ہمیشہ ہی اس بات کا احساس تھاکہ وہ ہندوستان کے بادشاہ تو ہیں لیکن صرف نام کے ہیں اور عملی طور پر وہ انگریزوں کے وظیفہ خوار ہیں۔ ظفر نے اپنی اس بے بسی کا اظہار اپنی ایک غزل میں اس طرح کیا ہے۔

یا توافسر میرا شاہانہ بنایا ہوتا
یا میرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا

زور معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفر
ایسی بستی سے تو ویرانہ بنایا ہوتا۔

اسی بارے میں
1857: آزادی کی پہلی جنگ
11 May, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد