’رات میں اجلاس کس نے بلایا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ خلیل الرحمان رمدے نے کہا ہے کہ نو مارچ کو رات کے اندھیرے میں کس نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلایا جس میں چیف جسٹس کو سنے بغیر انہیں کام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کر دیا۔ تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ نے منگل کو سماعت کے دوران اٹارنی جنرل آف پاکستان مخدوم علی خان سے بارہا استفسار کیا کہ نو مارچ سپریم جوڈیشل کونسل کی میٹنگ کس کے حکم پر بلائی گئی تھی اور کیا کونسل کسی جج کو صفائی کا موقع دیئے بغیر اسے کام کرنے سے روکنے کی مجاز ہے؟ یاد رہے کہ نو مارچ کو دن کے وقت صدر جنرل پرویز مشرف نے راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف ہاؤس میں چیف جسٹس افتخارمحمد چودھری سے ملاقات کی تھی اور اسی روز شام کو چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے پیش کیا گیا اور چیف جسٹس کو کام کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ اسی شام سپریم جوڈیشل کونسل نے چیف جسٹس کو کام کرنے سے روکنے کا ایک اور حکم جاری کر دیا تھا۔ تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ عدالت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ قائم مقام چیف جسٹس کے حلف لینے کے ایک گھنٹے کے بعد کونسل کے دو ممبران سپریم جوڈیشل کونسل کی پہلی میٹنگ میں شرکت کے لیے کراچی اور لاہور سے کیسے اسلام آباد پہنچ گئے۔ اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلائے جانے کے بارے میں عدالت کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹیلی فون پر کونسل کے اجلاس کے بارے میں اطلاع موصول ہوئی تھی تاہم انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا پہلا اجلاس کس نے طلب کیا تھا۔ جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہا کہ عدالت بہت سے نکات پر جان بوجھ کر سوالات نہیں اٹھا رہی کیونکہ ان نکات کے اٹھائے جانے سے کئی شخصیات کا ذکر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت جہازوں کی آمد اور رونگی کا ریکارڈ منگوا کر یہ پتہ لگا سکتی ہے کہ ایک گھنٹے کے اندر لاہور اور کراچی سے کس طرح سپریم جوڈیشل کونسل کے دو ارکان اسلام آباد پہنچے۔
اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کسی فریق کو سنے بغیر عبوری حکم تو جاری کر سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل کے استدلال پر جسٹس رمدے نے کہا لیکن چیف جسٹس کو کام کرنے سے روکنا تو سپریم جوڈیشل کونسل کا حتمی حکم تھا۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس بلائے جانے کے بارے میں عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کا اٹارنی جنرل نے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ اعتزازاحسن کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراض پر جسٹس رمدے نے کہا کہ عدالت یہ سوالات اٹارنی جنرل کے سامنے رکھ سکتی ہے، اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ اس کا جواب دینا چاہتے ہیں یا نہیں۔ ایک موقع پر بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ عدالت کو چیف جسٹس کے وکیل علی احمد کرد کو بذریعہ ٹرین کوئٹہ بھیجنا چاہیے یا ہوائی جہاز؟ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء کہہ چکے ہیں کہ اگر چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو عدالت نے بحال کر دیا تو وہ کوئٹہ بذریعہ ہوائی جہاز جائیں گے اور اگر بحال نہ ہوئے تو وہ بذریعہ ٹرین کوئٹہ جائیں گے۔ اٹارنی جنرل نے جب چیف جسٹس کو جبری رخصت پر بھیجنے کے فیصلے کا دفاع کرنا شروع کیا تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا اگر جج کو ریفرنس دائر کیئے جانےکے بعد جبری رخصت پر بھیجا جا سکتا ہے تو عدلیہ کی آزادی کا کیا بنے گا۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر ہوئے چار ماہ گزر چکے ہیں اور اب بھی حکومت اس میں تبدیلیاں کر رہی ہے اور اگر انتظامیہ کو ججوں کو رخصت پر بھیجنے کا اختیار مل گیا تو پھر صدر کسی بھی جج کے خلاف دو لائنوں کا ریفرنس دائر کرنے کے بعد اسے جبری چھٹی پر بھیج دیں گے اور وہ جبری چھٹی کبھی ختم ہی نہیں ہو گی۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایسی صورت میں عدالتی چارہ جوئی ممکن ہوتی ہے اور عدالتیں ایسے معاملات میں مداخلت کرتی رہی ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مستقبل میں صرف سپریم جوڈیشل کونسل کو اختیار دیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی جج کے بارے میں کوئی حکم جاری کرے لیکن موجودہ مقدمے میں چیف جسٹس کو صدراتی حکم 27 کے تحت چھٹی پر بھیجا گیا ہے۔ اٹارنی جنرل مخدوم علی خان نے جب برطانیہ کے ایک عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا جس میں جج کو موقع دیا گیا کہ وہ خود ہی چھٹی پر چلا جائے تو جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے استفسار کیا کہ کیا چیف جسٹس کو رضاکارانہ طورپر چھٹی پر بھیجنے کا موقع دیا گیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے جواباً کہا کہ سارے حالات عدالت کے سامنے ہیں اور وہ کچھ نہیں کہنا چاہتے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ملک کے چیف جسٹس سے کسی یہ تک پوچھنا گورا نہیں کیا کہ آپ خود چھٹی پر جانا چاہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کے ٹیلیفون تو کٹے ہوئے تھے لیکن کسی شخص کو بھیجوا کر بھی تو پوچھا جا سکتا تھا۔ جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ اگر کسی جج کو اس بنا پر کام سے روکا جائے کہ اس کی ذہنی صحت اس قابل نہیں ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کر سکے تو کیا ایسے جج سے بھی پوچھا جائے گا کہ وہ رضاکارانہ طور پر چھٹی پر جانا پسند کریں گے؟ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ایسی صورت میں جب جج پر پاگل ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہو تو سپریم جوڈیشل کونسل کو کم از کم اس پاگل جج کو دیکھنا تو چاہیے کہ کیا پاگل ہے بھی یا نہیں۔ اٹارنی جنرل نے صدر کی طرف سے چیف جسٹس کو کام سے روکنے والے حکم کا دفاع کرنے کی بجائے سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے چیف جسٹس کو کام سے روکنے اور جبری رخصت کے حکم کا دفاع کیا۔ اٹارنی جنرل نے سپریم جوڈیشل کونسل کی بند کمرے میں کارروائی سے متعلق اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر جج چاہے جس کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے تو کارروائی کو بند کمرے میں کرنا ضروری ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر جج کونسل کی کارروائی کو کھلی عدالت میں کروانا چاہے تو پھر اس کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہونا چاہیے کہ کیا فیصلہ آتے ہیں۔ ججوں کے تعصب سے متعلق اٹارنی جنرل کا موقف تھا کہ یہ اختیار کسی جج کو ہی ہونا چاہیے کہ وہ فیصلہ کرے کہ وہ اپنے سامنے مقدمے میں انصاف کر سکتا ہے یا نہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ایسے جج کے بارے میں اٹارنی جنرل کیا کہیں گے جس کے بارے میں چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ وہ ان سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتے اور ان کی مخالفت کا پورے پاکستان کو علم ہے۔ جسٹس ایم جاوید بٹر نے کہا کہ کسی جج کا تعصب بلکل عیاں ہو تو کیا ایسی صورت میں بھی یہ معاملہ جج کی صوابید پر چھوڑ دینا چاہیے؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے ججوں کے تعصب کے فیصلے کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے آصف زرداری مقدمے میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں کچھ جس میں سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس راشد عزیز اور ہائی کورٹ کے جج ملک قیوم (وفاقی حکومت کے وکیل) کو متعصب قرار دیا گیا تھا۔ جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جس بینچ نے جسٹس راشد عزیز کو متعصب قرار دیا جس کی بنیاد پر انہیں عدلیہ سے نکلنا پڑا، اسی بینچ کے کئی جج بعد میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوئے جن کا جسٹس راشد عزیز کی موجودگی میں چیف جسٹس آف پاکستان بننے کا کوئی چانس ہی نہیں تھا۔ اس پر وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے کہا کہ سید شریف الدین پیرزادہ کہہ رہے ہیں کہ موجودہ مقدمے کے نتیجے کی صورت میں موجودہ بینچ کے کئی ججوں کے چیف جسٹس آف پاکستان بننے کا موقع ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ہنستے ہوئے کہا :’میرا تو چیف جسٹس بننے کا کوئی چانس ہی نہیں ہے۔” ملک قیوم نے کہا کہ سید شریف الدین پیرزادہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے (جسٹس رمدے) چیف جسٹس بننے کا بھی چانس ہو سکتا ہے۔ اعتزاز احسن نے اس موقع پر کہا کہ سید شریف الدین پیرزادہ کچھ اور ججوں کو معطل کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ سید شریف الدین پیرزادہ نے کچھ ججوں کو بچانے کے لیے چیف جسٹس کے خلاف عدالتی بے ضابطگی کے الزامات تو واپس لے لیا لیکن انہوں نے چیف جسٹس کے طیارہ استعمال کرنے کا الزام واپس نہیں لیا حالانکہ اس میں بھی چیف جسٹس اکیلے نہیں تھے بلکہ کچھ اور جج بھی ساتھ تھے۔ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالت اگر سید شریف الدین پیرزادہ کو ان ججوں کے نام بھی بتا دیں یہ وہ الزام واپس لے لیں گے۔ اٹارنی جنرل کی طرف سے دلائل کے اختتام پر چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے سارا دن عدالت کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نے قانون کی کتابوں میں کانگریشنل سائلنس کی اصطلاح تو پڑھی تھی لیکن آج اٹارنی جنرل آپریشن سائلنس کا مظاہرہ کیا ہے۔ قبل ازیں مخدوم علی خان نے انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر کی ایک رپورٹ عدالت کے سامنے پیش کی گئی جس میں عدالت کو مطلع کیا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کی عمارت اور سپریم کورٹ کے ججوں کی رہائش گاہوں کو جاسوسی کے آلات سے پاک کرنے کے لیے ’ٹیکنکل سویپنگ‘ مکمل کر لی گئی۔ سپریم کورٹ نے انٹیلیجنس بیورو کو حکم دیا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کی عمارت اور ججوں کی رہائش گاہوں کی تلاش لیں کہ کہیں وہاں جاسوسی کے آلات تو نصب نہیں کیے گئے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے چاروں صوبائی ہائی کورٹس اور صوبوں میں ججوں کی رہائش گاہوں کی ’ٹیکنیکل سوئپنگ‘ مکمل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت طلب کر لی۔ عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ چودھری اختر علی کے ساتھ انصافی ہوئی ہے اور حکومت کو چودھری اختر علی ایڈوکیٹ کے نقصان کو پورا کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کا لائسنس اس بنیاد پر معطل کر دیا تھا کہ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے کچھ ایسے کاغذات عدالت میں دائر کر دیئے تھے جن میں ججوں کو گالیاں دی گئی تھیں۔ وفاقی سیکرٹری قانون جسٹس ریٹائرڈ منصور احمد نے ججوں کے بارے میں نازیبا الفاظ والا ریکارڈ عدالت کے سامنے رکھوانے پر عدالت سے غیر مشروط معافی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔ اٹارنی جنرل مخدوم کے دلائل ختم ہونے کے بعد سید شریف الدین پیرزادہ کل سے اپنے دلائل شروع کریں گے۔ |
اسی بارے میں ’فیصلہ بیس جولائی تک متوقع‘11 July, 2007 | پاکستان ’صورت حال 9 مارچ پر چلی جائے گی‘28 June, 2007 | پاکستان ’ایڈوائس وزیر اعظم ہی کی تھی‘04 July, 2007 | پاکستان ’آئین میں مداخلت سنگین جرم ہے‘15 July, 2007 | پاکستان جوڈیشل کونسل بدل سکتی ہے: قیوم12 July, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: ’اگلے دو ہفتے فیصلہ کن‘06 July, 2007 | پاکستان جسٹس بھگوان داس پر پٹیشن مسترد13 July, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ میں حکومت کی معافی 02 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||