BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 July, 2007, 03:48 GMT 08:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آئین میں مداخلت سنگین جرم ہے‘

چیف جسٹس کے خطاب کے وقت کافی بارش ہو رہی تھی
چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے علاوہ کوئی اور نظام نہیں چل سکتا اورعدلیہ پر لازم ہے کہ وہ آئین کے تحفظ اور نفاذ کو یقینی بنائے۔

چیف جسٹس لاہور بارایسوسی ایشن میں وکلا کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کررہے تھے۔چیف جسٹس نے بارش کی وجہ سے مختصر خطاب کیا اور شرکاء میں ان کے خطاب کی کاپیاں تقسیم کی گئیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سنیچر کی شام چھ ضلع کچہری میں وکلا سے خطاب کرنا تھا لیکن ان کے لاہور میں زبردست استقبال کی وجہ سے لاہور ائیر پورٹ سے ضلع کچہری کا ایک گھنٹےکا سفر بارہ گھنٹوں میں طے ہوا اور اس طرح لاہور کے وکلاء نے ایک مرتبہ پھر رات بھر جاگنے کے بعد چیف جسٹس کا خطاب سنا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری جب خطاب کے لیے سٹیج پر آئے تو بوندا باندی تیز بارش میں تبدیل ہوگئی اور لاہور بار کے صدر سید محمد شاہ کی تقریر کے دوران بارش کی وجہ سپیکرز نے کام کرنا چھوڑ دیا اور صرف ایک سپیکر کام کرتا رہا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر سنہ 73 کا آئین بحال نہیں ہوتا تو آج جیسے حالات ملک میں رہیں گے ۔ان کے بقول جب تک ادرے آئین کے تحت کام نہیں کریں گے ملک میں خوشحالی نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے کہ ادارے بخوبی اپنے فرائض انجام دیں سکیں۔اس لیے آئین کی پاسداری کرنے کے لیے جمہوری اداروں کو مضبوط کرنا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آئین کی یہ خصوصیات ہے کہ اسے پوری قوم کا اعتماد حاصل ہوتا ہے ہرشخص خواہ کسی بھی اعلیْ ترین حکومتی عہدے پر فائز ہو وہ آئین کی دفعات کا پابند ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعات میں آسانی سے مداخلت نہیں کی جاسکتی اور اس میں کسی قسم کی مداخلت ایک سنگین جرم ہے۔

بارش کے باعث چیف جسٹس نے اپنا خطاب مختصر کر دیا اور سننے والوں کے ان کی لکھی ہوئی تقریر کی نقول تقسیم کی گئیں

چیف جسٹس افتخار نے کہا کہ آئین کی دفعات پر عملدرآمد کرنے سے ملک بہت سے مسائل اور برائیوں سے بچ سکتا ہے اور جو اقوام آئین کی پاسداری نہیں کرتیں ان کو اپنی بقا کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان میں سیاست ہمیشہ متزلزل رہی ہے اور جمہوریت کا سفر آئین کے خلا ،تعطل اور تنسیخ جیسی رکاوٹوں سے بھر ا پڑا ہے۔

اس سے قبل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا لاہور ضلعی بار سے خطاب کرنے کے لیے سنیچر کو لاہور آمد پر علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر والہانہ استقبال کیا گیا ۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا استقبال کرنے کے لیے وکلاء کے نمائندوں منیر اے ملک، حامد خان، لاہور ضلعی بار کے صدر سید محمد شاہ، قومی اسمبلی کے ارکان، سابق جج، سیاسی جماعت اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ہزاروں کارکن موجود تھے۔

سیاسی جماعتوں کے کارکنوں میں پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور لیبر پارٹی کے کارکن کافی بڑی تعداد میں موجود تھے جب کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی تعداد نسبتاً کم تھی۔

سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے چیف جسٹس کے ہوائی اڈے کی عمارت سے باہر آنے پر صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے ’ڈیل‘ کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔ جواباً پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے وزیراعظم بے نظیر کے نعرے بلند کیے۔

جسٹس افتخار کے استقبال کے لیے آئے ہوئے لوگوں نے ایک بڑے جلوس کی صورت اختیار کر لی
اس موقع ہر پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ افتخار محمد چودھری کا آخری دورہ ہو۔

ائرپورٹ سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ڈسٹرک بار کی طرف سفر شروع کیا تو ان کے استقبال کے لیے آئے ہوئے لوگوں نے ایک بڑے جلوس کی صورت اختیار کر لی۔ اس جلوس میں ہر عمر کے لوگ اور ہر طبقہِ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے۔جلوس میں بے شمار گاڑیاں، وگنیں اور موٹر سائیکلیں شامل تھیں۔

چیف جسٹس افتخار چودھری نے لاہور ایئرپورٹ سے لاہور کینٹ کچہری تک کا چھ کلومیٹر کا سفر طے کرنے پر پہلا پڑاؤ کیا۔ یہاں وہ گاڑی سے باہر نہیں آئے لیکن ان کے وکلاء اعتزاز احسن اور علی احمد کرد نے تقریریں کیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء تحریک کی پہلی منزل چیف جسٹس کی بحالی ہے اور دسری منزل شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی بحالی کے بعد وہ وکلاء کارکنوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

 اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء تحریک کی پہلی منزل چیف جسٹس کی بحالی ہے اور دسری منزل شہریوں کے انسانی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی بحالی کے بعد وہ وکلاء کارکنوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ ’کارکنوں نے جو ہمارا ساتھ دیا ہے ہم اس کا احترام کرتے ہیں، ہم ان کے بغیر کچھ نہیں تھے، ان کی جد و جہد ہماری رگوں میں خون کی طرح ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اس تحریک سے سیاسی جماعتوں اور کارکنوں کو اس لیے دور رکھا گیا ہے ’کیونکہ ہم عدالت میں پیروی کررہے ہیں۔ اور یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم وکالت اور عدالت پر انحصار نہیں کررہے ہیں بلکہ سیاست پر کررہے ہیں۔‘

اس موقع پر علی احمد کرد نے اپنی تقریر میں کہا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کی بحالی کے بعد یہ تحریک ختم نہیں ہوجائے گی۔ ’یہ تحریک پاکستان کے کروڑوں عوام کی امید ہے۔ چیف جسٹس کی بحالی کے بعد ہم گھر نہں بیٹھیں گے، آمریت کا خاتمہ کیا جائے گا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ جنرل مشرف کی اقتدار میں موجودگی میں ’کوئی انتخاب منظور نہیں ہوگا، مشرف کو جانا ہوگا اور آئندہ جرنیل حکومت نہیں کرے گا۔‘

اسی بارے میں
’نئی صبح طلوع ہو چکی ہے‘
23 June, 2007 | پاکستان
چیف جسٹس کا دورہ منسوخ
28 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد