BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 June, 2007, 09:22 GMT 14:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور سے ملتان پینتیس گھنٹے میں

ملتان کے وکلاء نے شہر کے نواحی علاقے رنگو میں چیف جسٹس کے قافلے کا استقبال کیا
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چودھری کا قافلہ پینتیس گھنٹے کے سفر کے بعد ملتان میں واقع لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کے احاطے میں پہنچ گیا ہے تاہم تاحال تقریب کا آغاز نہیں ہو سکا ہے۔

اس وقت چیف جسٹس ہائیکورٹ کی عمارت میں موجود ہیں جبکہ پنڈال میں موجود ہزاروں وکلاء کئی گھنٹے سے چیف جسٹس کی سٹیج پر آمد کے منتظر ہیں۔

موقع پر موجود وکلاء انتہائی پرجوش ہیں اور نعرے بازی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس موقع پر پنڈال میں فوجی ترانے بھی بجائے جا رہے ہیں۔ ملتان کے وکلاء نے شہر کے نواحی علاقے رنگو میں چیف جسٹس کے قافلے کا استقبال کیا تھا اور ان کے جلوس میں شامل ہوئے تھے۔

جسٹس افتخار کے قافلے کو ملتان میں داخلے کے بعد پنڈال تک پہنچنے میں ساڑھے چار گھنٹے کا وقت لگا۔ اس سے قبل ساہیوال میں شہر میں داخلے سے پنڈال تک پہنچنے میں پانچ جبکہ اوکاڑہ میں چار گھنٹے لگے تھے۔

چیف جسٹس کے قافلے کے استقبال کے لیے ملتان کے داخلی راستوں پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بڑے بڑے استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق چوک کمہاراں کے علاقے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے بڑے جلوس چیف جسٹس کے استقبال کے لیے موجود ہیں۔

دریں اثناء چیف جسٹس کے وکلاء نے اعلان کیا ہے کہ جسٹس افتخار چودہ جولائی کو ایک مرتبہ پھر لاہور کا دورہ کریں گے۔ ان کا یہ دورہ لاہور بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر ہو گا تاہم اس مرتبہ وہ بذریعہ ہوائی جہاز لاہور جائیں گے۔

اس سے قبل ملتان کے راستے میں ساہیوال کے مقام پر چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری نے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست کے تینوں ادارے مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ اپنے اپنے محور میں کام کریں تو پاکستان کی وہ صورتحال نہ ہو جو اس وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء کی تحریک ضرور کامیاب ہوگی، اس میں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر کے اختتام کے وقت کہا کہ اب ایک نئی صبح طلوع ہو چکی ہے۔

سفر کے دوران راستے میں آنے والے شہروں میں چیف جسٹس کا زبردست استقبال کیا گیا۔ ساہیوال میں بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے چیف جسٹس کو خوش آمدید کہا۔ ساہیوال میں انہوں نے چار مئی کو احتجاجی مظاہرے میں پولیس کے ہاتھوں زخمی ہونے والے وکلاء سے بھی ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔

 ملک کے حالات بدل چکے ہیں اور اب وکلاء اور عوام کسی ایسی سپریم کورٹ کو قبول نہیں کرینگے جو فوج کی بی ٹیم کے طور پر کام کرتی ہو۔ پاکستان کے عوام نے چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کی دھجیاں بکھیر دی ہیں
اعتزاز احسن

چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء کی تحریک کا مقصد پاکستان کو ’سکیورٹی ریاست سے فلاحی ریاست‘ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کا مقصد عوام کی فلاح ہے اور یہ کہ ملک کو ایک نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اچھے ججوں کی تقرری بھی عوام کی فلاح کے لیے ضروری ہے اور اس عمل میں وکلاء کو شامل کیا جانا چاہیے۔

چیف جسٹس کا اس سے پہلے پتوکی اور اوکاڑہ میں بھی زبردست استقبال کیا گیا تھا۔ اوکاڑہ میں ان کے استقبال کے لیے وکلاء اور عوام کی اتنی بڑی تعداد موجود تھی کہ ہجوم سے گزرتے ہوئے انہیں ڈِسٹرکٹ بار تک پہنچنے میں چار گھنٹے لگے۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان نے بتایا کہ اوکاڑہ میں چیف جسٹس کی آمد سے پہلے پولیس نے اوکاڑہ کی بے نظیر روڈ پر لگے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے دوالگ الگ کیمپ اکھاڑ لیے تھے اور شہر کے مختلف علاقوں سے سیاسی جاعتوں کے بینر اور پوسٹر اتار دیے تھے۔

لیکن چیف جسٹس کے پہنچنے سے کچھ دیر پہلے کارکنوں نے اپنے کیمپ دوبارہ لگالیے اور شہر کو بھی دوبارہ سیاسی پوسٹروں اور بینروں سے بھر دیا۔ شہر میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ نواز کے جھنڈے بڑی تعداد میں نظر آرہے تھے۔

پتوکی میں استقبال
اس سے قبل چیف جسٹس کے قافلے نے لاہور سے پتوکی کا تقریباً اسُی کلومیٹر کاسفر پانچ گھنٹے میں طے کیا۔ پتوکی پہنچنے پر سینکڑوں وکلاء اور ہزاروں شہریوں نے چیف جسٹس کے قافلے کا خیر مقدم کیا۔

اگرچہ چیف جسٹس کا پتوکی میں قیام یا خطاب کا پروگرام نہیں تھا لیکن استقبالی ہجوم میں شامل وکلاء بضد تھے کہ وہ سڑک کنارے بنائے گئے پنڈال میں آئیں۔ اس موقع پر وکلاء ان کی گاڑی کے آگے لیٹ گئے اور اصرار کیا کہ چیف جسٹس کی گاڑی پنڈال کی جانب موڑی جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے قافلے میں وکلاء کی ایک بڑی تعداد شامل ہے

چیف جسٹس کی گاڑی پنڈال کے اندر لیجائی گئی لیکن ہجوم کی وجہ سے وہ گاڑی سے باہر نہیں نکل سکے اور خاصی دیر کی جد و جہد کے بعد قافلے نے دوبارہ ملتان کا رخ کیا۔ پتوکی میں سیاسی جماعتوں کے رہنما یا کارکنوں کی تعداد قدرے کم تھی جبکہ عام شہری ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔

اس سے قبل چیف جسٹس جمعہ کی شب ہوائی جہاز کے ذریعے اسلام آباد سے لاہور پہنچے تھے جہاں ان کا سینکڑوں وکلاء سمیت سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے پرتپاک استقبال کیا۔

چیف جسٹس کی تقریب کے لیے دعوت نامے پورے پنجاب کی ایک سو نو ڈسٹرکٹ اور تحصیل بار ایسوسی ایشنز کو ارسال کیے گئے تھے۔ ان میں ہائیکورٹ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اور سول کورٹس کے جج صاحبان بھی شامل تھے۔

ملتان تیاریاںملتان تیار ہے
چیف جسٹس کی آمد کیلیے تیاریاں مکمل
چیف جسٹسوکلاء میں جوش
چیف جسٹس کا دورۂ فیصل آباد، تصاویر میں
جسٹس افتخارجسٹس کا قافلہ
جسٹس افتخار کا اسلام آباد تا لاہور سفر
جسٹس افتخار’جسٹس کیس‘
سپریم کورٹ سے جی ٹی روڈ کا سفر تاریخوں میں
چیف جسٹس افتخار چودھریعدالت میں کیا ہوا؟
’ملزم جیسی پیشی ہیرو جیسا استقبال‘
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
اسی بارے میں
’نئی صبح طلوع ہو چکی ہے‘
23 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد