BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 June, 2007, 10:16 GMT 15:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چیف جسٹس کے خلاف بغاوت ہوئی‘

’چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت کے آغاز پر امتیاز برتا گیا‘
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ نو مارچ کو چیف جسٹس کے خلاف بغاوت کی گئی اور راولپنڈی میں صدارتی کیمپ آفس میں صدر جنرل پرویز مشرف کی انٹیلیجنس اداروں کے ہمراہ چیف جسٹس کے ساتھ میٹنگ اور اسی روز سپریم جوڈیشل کونسل کی میٹنگ انتظامیہ کی سازش کا حصہ تھیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست کی آئینی سماعت کے دوران اعتزاز احسن نے کہا کہ نو مارچ کو صدراتی کیمپ آفس اور سپریم کورٹ میں جو کچھ ہوا وہ ایک ہی سلسلے کی دو کڑیاں تھیں۔

حکومت کے وکیل ملک قیوم نے عدالت سے کہا کہ چیف جسٹس کے وکیل کہہ رہے ہیں کہ چیف جسٹس کے خلاف نو مارچ کو بغاوت ہوئی لیکن وہ عدالت کو یہ بھی بتائیں کہ بغاوت عدلیہ نے کی یا انتظامیہ نے۔

چیف جسٹس کے وکیل اعتز از احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف کارروائی نہ صرف بدنیتی پر مبنی ہے بلکہ ان کے ریفرنس کی سماعت کے آغاز پر امتیاز برتا گیا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کا نمبر تینتالیس ہے اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ باقی بیالیس ریفرنسوں کا کیا نتیجہ نکلا اور اگر انہیں نہیں سنا گیا تو پھر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت میں اتنی عجلت کیوں برتی گئی ہے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے چیف جسٹس کے وکیل سے کہا کہ عدالت اس بارے میں زیادہ کریدنا نہیں چاہتی کیونکہ’ جتنا کپڑا اٹھائیں گے خود ہی ننگے ہوں گے‘۔ جسٹس رمدے نے کہا کہ عدالت نے اس سلسلے میں سپریم جوڈیشل کونسل کے ریکارڈ کا معائنہ کیا ہے اور وہ اس پر مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے۔

جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ وکیل جن تینتالیس ریفرنسوں کی بات کر رہے ہیں وہ تمام صدرارتی ریفرنس نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ ججوں کے خلاف شکایات ہوں گی جو درج کی گئی ہیں۔ اس پر اعتزاز احسن نے سوال کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل ان شکایات کا جائزہ نہیں لی گی اور صرف چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی کارروائی کرے گی۔

ججوں کو کس نے بتایا
News image
 نو مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کی میٹنگ میں شرکت کے لیے پنجاب اور سندھ سے آنے والے ججوں کو کسی نے تو بتایا ہوگا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ریفرنسوں کے بارے میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتے کیونکہ پھر جج ایک دوسرے کو کام سے روکنے کے احکامات جاری کرنے شروع کر دیں گے۔ جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے اعتزاز احسن سے کہا کہ ایسی صورت میں انہیں صرف چیف جسٹس کی کار نہیں بلکہ ایک ججوں سے بھری بس کی ڈرائیونگ کرنی پڑے گی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ انہیں بس کی ڈرائیونگ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن انہیں یقین ہے کہ جسٹس فقیر محمد کھوکھر کسی ایسی بس پر سوار نہیں ہوں گے۔ جسٹس ایم جاوید بٹر نے کہا کہ ججوں کو کام کرنے سے روکنے کے حکم جاری کرنے کے لیے بھی تو کوئی جج ہونا چاہیے ۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے وکیل کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس صرف چیف جسٹس یا قائم مقام چیف جسٹس ہی بلا سکتا ہے لیکن سپریم جوڈیشل کونسل کی میٹنگ قائم مقام چیف جسٹس نے نہیں بلائی بلکہ جب قائم مقام چیف جسٹس نے نو مارچ کو پانچ بجکر پانچ منٹ پر حلف لیا اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کے دو ممبران لاہور اور کراچی سے اسلام آباد پہنچ چکے تھے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو نو مارچ کو خصوصی طیارے کے ذریعے اسلام آباد لایا گیا جبکہ لاہور سے اگر تیز ڈرائیونگ کر کے بھی راولپنڈی پہنچیں تو کم از کم چار گھنٹے کا وقت درکار ہوتا ہے۔

تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ نو مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کی میٹنگ میں شرکت کے لیے پنجاب اور سندھ سے آنے والے ججوں کو کسی نے تو بتایا ہوگا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔

عدالت کو یہ بھی بتائیں کہ بغاوت عدلیہ نے کی یا انتظامیہ نے:ملک قیوم ایڈوکیٹ

جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ان ممبران کو کس نے بتایا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی میٹنگ میں چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی کارروائی ہونی ہے۔

جسٹس ایم جاوید بٹر نے کہا یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قائم مقام چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے ہوں۔تیرہ رکنی بینچ کے ایک اور ممبر جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کو قائم مقام چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب میں نہیں بلایا گیا تھا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ لاہور سے آنے والے جج کو کم از کم ساڑھے بارہ ایک بجے پتہ لگ چکا ہونا چاہیے کہ آج سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہو رہا ہے اور اگر تیز گاڑی بھی چلائیں تو چار گھنٹے لگ جاتے ہیں۔

جسٹس رمدے نے کہا کہ اعتزاز احسن کو آہستہ گاڑی چلانے کا وسیع تجربہ ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا چیف جسٹس کے استقبال کے لیے خلقت ہی اتنی آتی ہے کہ وہ گاڑی کو تیز چلا ہی نہیں سکتے۔ اعتزاز احسن نے ججوں کو کہا کہ وہ بھیس بدل کر ان کی ساتھ چلیں اور اپنی آنکھوں سے دیکھیں کہ کتنی دنیا چیف جسٹس کے استقبال کے لیے آتی ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وہ اتنے بھی بیوقوف نہیں کہ اعتزاز کے جھانسے میں آ جائیں۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ کسی جج کو کام سے روکنا آئین میں دی گئی عدلیہ کی آزادی کے منافی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی ملک میں موجودگی میں قائم مقام چیف جسٹس کی تعیناتی غیر آئینی اقدام ہے۔

جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ اگر قائم مقام چیف جسٹس کی تعیناتی غلط ہے تو پھر موجودہ بینچ کی تشکیل بھی غیر آئینی ہے کیونکہ اس کو بھی قائم مقام چیف جسٹس نے تشکیل دیا ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس ملک میں موجود ہے اس لیے بینچ کی تشکیل غیر آئینی نہیں ہو سکتی۔

جلدی کس بات کی؟
 چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کا نمبر تینتالیس ہے اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ باقی بیالیس ریفرنسوں کا کیا نتیجہ نکلا اور اگر انہیں نہیں سنا گیا تو پھر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت میں اتنی عجلت کیوں برتی گئی ہے۔
اعتزاز احسن

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ حکومت کے جانب سے دائر کیے جانے والے ایک حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کے بیٹے کے موبائل فون نو مارچ کے بعد کام کر رہے تھے۔ اعتزاز احسن نے کہا چیف جسٹس کا بیٹا نو مارچ کو لاہور میں تھا۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کے استفسار پر اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ موبائل فون کی کال سے کالر کی لوکیشن کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی باری پر عدالت کو بتائیں گے کہ چیف جسٹس کے بیٹے کا موبائل فون اسلام آباد میں استعمال ہو رہا تھا۔

اس پر اعتزاز احسن نے یہ شعر پڑھا:
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
پر اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کو جبری چھٹی پر بھیجنے کا حکم کئی روز بعد جاری کیا گیا۔ انہوں نے کوئی انتظامی حکم پچھلی تاریخ سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ کئی روز بعد جبری چھٹی پر بھیجنے کے نوٹیفیکیشن کا مطلب ہے کہ حکومت اس جرم کا اعتراف کر رہی ہے جو اس نے چیف جسٹس کو کام کرنے سے روک کر کیا تھا۔

ججوں کو چھٹی پر بھیجنے والے قانون پر بحث کرتے ہوئے چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ یہ ایسا قانون ہے جو ایک فوجی آمر کے زمانے میں جاری کیا اور انہیں اس سے گھن آتی ہے اور یہ قانون آئین کی دفعات کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل کے دلائل جاری تھے کہ سماعت کا وقت ختم ہو گیا۔عدالت نے وفاقی حکومت کے وکلاء کی درخواست چیف جسٹس افتخار کی پیٹشن کی سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔

جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
جسٹس افتخار جسٹس کا بیانِ حلفی
جسٹس افتخار کے بیانِ حلفی کا مکمل متن
فیصل آباد: تیاریاں
چیف جسٹس کے لیے وکلاء چشم براہ
 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
وکلاء کا احتجاجوکلاء کے مظاہرے
کراچی اور بلوچستان میں وکلاء کا احتجاج
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
اسی بارے میں
300 سے زائد کارکن گرفتار
15 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد