سفر فیصل آباد، چیف جسٹس کا بھرپور استقبال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری فیصل آباد میں وکلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کرنے کے سلسلے میں بذریعہ سڑک سفر جاری رکھے ہوئے ہیں اور سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل ان کا قافلہ شہر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ چکوال میں جسٹس افتخار کے وکلاء اعتزاز احسن ، علی احمد کرد، منیر ملک اور پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین مرزا عزیز بیگ نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی ایک تقریب سے خطاب کیا۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وکلاء کی تحریک چیف جسٹس کے خلاف زیادتی سے شروع ہوئی تھی، لیکن اب یہ ان کی بحالی پر بھی ختم نہیں ہوگی۔ ’یہ اب عوامی حقوق کی تحریک ہے‘۔ استقبال کے لیے ْبڑی تعداد میں آئے ہوئے سیاسی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے درخواست کی کہ وہ بار ایسوسی ایشن کی تقریب میں نہ آئیں کیونکہ پھر حکومت الزام لگاتی ہے کہ چیف جسٹس سیاسی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ چکوال جانے کے لیے چیف جسٹس کا قافلہ جب موٹر وے سے بلکسر پہنچا تو وکلاء، سیاسی کارکنوں اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ چیف جسٹس کو خوش آمدید کہنے والوں میں معروف کالم نگار اور پنجاب اسمبلی کے سابق رکن ایاز امیر بھی موجود تھے۔
چیف جسٹس کا استقبال کرنے والوں میں ایک شخص ظفر عباس اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ موجود تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک بچہ ڈاکٹروں کی غفلت سے ہلاک ہوگیا تھا۔ غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی کوشش کی تو کہیں شنوائی نہ ہوئی۔ ظفر عباس کے مطابق ان کی روئیداد اخبار میں چھپنے پر چیف جسٹس افتخار چودھری نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملہ کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ سنیچر کو جسٹس افتخار اور ان کے وکلاء ایک گھنٹہ تاخیر سے صبح ساڑھے نو بجے اسلام آباد سے فیصل آباد کے لیے روانہ ہوئے تو موٹر وے پر آنے سے پہلے ہی سینکڑوں گاڑیوں میں سوار وکلاء اور حزب مخالف سے تعلق رکھنے والی مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن ان کے قافلے میں شامل ہوچکے تھے۔ موٹر وے کے راستے اسلام آباد سے چکوال کا سفر عام طور پر ایک گھنٹے میں طے ہوتا ہے لیکن کئی میلوں پر پھیلے چیف جسٹس کے قافلے نے یہ مسافت کم و بیش پانچ گھنٹے میں طے کیا۔ راستے میں جہاں کوئی گاؤں یا قصبہ آتا ہے تو بڑی تعداد میں عام لوگ سڑک کے اطراف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ چیف جسٹس کے قافلے میں جو نعرہ سب سے مقبول سنائی دے رہا ہے وہ ہے ’چاچا وردی لاہندا کیوں نہیں، عزت نال گھر جاندا کیوں نہیں‘۔ فیصل آباد میں موجود ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق چیف جسٹس کے استقبال کے لیے بھرپور تیاریاں کی گئی ہیں اور شہر کے تمام اچھے ہوٹلوں کے کمرے ایک رات پہلے ہی بک ہو چکے تھے۔ چیف جسٹس کے استقبال کے لیے شہر بھر میں استقبالی پوسٹر اور بینر لگائے گئے ہیں، جن پر ان کے خیر مقدمی نعرے درج ہیں۔ ڈسٹرکٹ کورٹس کے اندر اور باہر چیف جسٹس کی قد آدم تصاویر لگی ہیں۔
استقبالی کمیٹی میں شامل سہیل بابر جندل ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اس بار چیف جسٹس کے استقبال کے لیے دس ایسے بڑے سائن بورڈ لگائے گئے ہیں جن پر وکلاء کی تحریک کی تصاویر ہیں۔ یہ ہورڈنگز ضلعی کچہری کے اندر اور شہر کے مختلف چوراہوں میں لگائی گئی ہیں۔ ڈسٹرکٹ کورٹس کے احاطے میں کینٹینر رکھ کر ایک بڑا سٹیج بنایا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں 300 سے زائد کارکن گرفتار15 June, 2007 | پاکستان ’عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں ہے‘15 June, 2007 | پاکستان لاہور:وکلاء، سیاسی کارکنوں کا جلوس14 June, 2007 | پاکستان جسٹس سےیکجہتی کےلیےکراچی کاسفر09 May, 2007 | پاکستان کراچی میں ہنگامے، چونتیس ہلاک12 May, 2007 | پاکستان ’غداری کا حق کسی کو نہیں‘21 April, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا پرجوش استقبال14 April, 2007 | پاکستان ’ظالم معاشرہ زیادہ دن نہیں چل سکتا‘28 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||