BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 May, 2007, 12:07 GMT 17:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس سےیکجہتی کےلیےکراچی کاسفر

وکیل(فائل فوٹو)
وکلاء نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کی معطلی پر یوم عزم منایا
لاہور سے تعلق رکھنے والے وکلاء بارہ مئی کو جسٹس افتخار محمد چودھری سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کراچی بار ایسوسی ایشن سے ان کے خطاب کی تقریب میں شرکت کرنے لیے کراچی جائیں گے۔

اس بات کا اعلان وکلاء تنظیموں کے عہدیداروں اور رہنماؤں نے بدھ کو مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پاکستان بار کونسل کے ارکان حامد خان ، کاظم خان ، رمضان چودھری اور پنجاب بار کونسل کے عہدیدار طارق جاوید وڑائچ اور ارباب احمد سید نے اعلان کیا کہ لاہور کے وکلاء کا ایک قافلہ ٹرین کے ذریعے لاہور سے کراچی جائےگا جہاں وہ جسٹس افتخار محمد چودھری کے خطاب کی تقریب میں شرکت کریں گے اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جائےگا ۔

وکلاء رہنماؤں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک کے دفتر کو سِیل کرنے کی بھی مذمت کی اور کہا کہ حکومت وکلاء کو ہراساں کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

 ملک میں رائج نظام میں تبدیلی آسانی سے نہیں آئے گی اس کے لیے قربانیاں دینا ہوں گی۔ موجودہ تحریک کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ملنے والی رقوم سے نہیں بلکہ جذبے کی بنیاد پر چل رہی ہے‘۔
حامد خان

انہوں نےالزام لگایا کہ حکومت اور ان کی حلیف جماعتیں جسٹس افتخار محمد چودھری کی بارہ مئی کی تقریب کو ناکام بنانے کی سازش کر رہے ہیں لیکن جسٹس افتخار کا کراچی میں استقبال تاریخی ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ وکلاء تحریک کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہے بلکہ سیاسی جماعتیں خود سے ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔

قبل ازیں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان نے لاہور بار ایسوسی ایشن کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک عدلیہ آزاد نہیں ہوتی اس وقت ملک میں کوئی شعبہ ترقی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ’ملک میں رائج نظام میں تبدیلی آسانی سے نہیں آئے گی اس کے لیے قربانیاں دینا ہوں گی۔ موجودہ تحریک کسی سیاسی جماعت کی طرف سے ملنے والی رقوم سے نہیں بلکہ جذبے کی بنیاد پر چل رہی ہے‘۔

دریں اثنا پنجاب بارکونسل کے وائس چیئرمین طارق جاوید وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجاب بھر کے وکلاء کی طرف سے بدھ کو یوم عزم منانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور بار ایسوسی ایشنوں کے اجلاسوں میں وکلاء نے یہ عزم کیا کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کے چیف جسٹس آف پاکستان کے منصب پر بحالی اور ملک میں آمریت کے خاتمہ تک یہ تحریک جاری رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد