سِیل دفتر کی سِیل توڑ دینے کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس افتخار چودھری کے وکیل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک کا دفتر فوری طور پر کھولنے کا حکم دیا ہے۔ کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع منیر اے ملک کے دفتر کو بدھ کی صبح کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حکام نے سیل کر دیا تھا۔ کے ڈی اے کے حکام کا کہنا ہے یہ دفتر کلفٹن کے رہائشی علاقے میں بنایا گیا ہے، جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور ایک سال قبل بھی نوٹس دیےگئے تھے جبکہ منیر ملک کے مطابق ان کا یہ دفتر پانچ برس سے قائم ہے اور قانون کے موجب دفتر چلانے کی اجازت ہے۔ ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن میں منیر اے ملک نے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ گزشتہ چھ سال سے اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں مگر اس کارروائی سے قبل انہیں کوئی نوٹس نہیں دیا گیا اور رات کو دو بجے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام نے آ کر دفتر سِیل کردیا اور اس پر نوٹس لگا دیا۔ منیر ملک میں اپنی پٹیشن میں اس اقدام کو وکلاء اور عدلیہ کی تاریخی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ یہ بارہ مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے استقبالیہ پروگرام کو بھی سبوتاژ کرنے کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو دھمکیاں مل رہی ہیں اس لیے انہوں نے محافظ بھی رکھ لیے ہیں۔ سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس امیر مسلم ہانی اور جسٹس مسز یاسمین عباسی نے اس پٹیشن کی چیمبر میں سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا حکم نامہ رد کردیا اور ہدایت کی کہ اسی وقت دفتر کھول کر منیر ملک کے حوالے کیا جائے۔ عدالت نے گیارہ مئی کو کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام کو طلب کر لیا ہے۔ اس سے قبل منیر اے ملک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان کے دفتر میں چیف جسٹس کیس کی تمام فائلیں موجود ہیں اور وہ دفتر کھول کر انہیں ضرور حاصل کریں گے۔ منیر اے ملک کا دفتر سِیل کرنے کی اطلاع پر کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے وکلاء نے ملیر کی عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور نعرے لگائے۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک اجلاس میں بھی قرار داد کے ذریعے منیر اے ملک کا دفتر سِیل کرنے کی مذمت کی بھی گئی تھی۔ واضح رہے کہ جسٹس افتخار محمد چودھری بارہ مئی کو کراچی بار سے خطاب کے لیے پہنچ رہے ہیں اور ان کی آمد سے دو روز قبل یہ کارروائی کی گئی ہے۔جسٹس افتخار دورۂ کراچی میں سندھ ہائی کورٹ کی پچاس سالہ تقریبات کی اختتامی تقریب میں بھی شریک ہوں گے۔ یاد رہے کہ جسٹس افتخار کی کراچی آمد کے موقع پر حکومت میں شامل جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے بھی عدلیہ کی آزادی کے لیے ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ اے آر ڈی اور جماعت اسلامی کی جانب سے چیف جسٹس کے استقبال کا اعلان کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں جسٹس افتخار، ایم ایم اے کا فیصلہ08 May, 2007 | پاکستان جسٹس کیس: کب کیا ہوا؟05 May, 2007 | پاکستان یہ اہم مقدمات کاسال تھا:منیرملک09 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||