BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور:وکلاء، سیاسی کارکنوں کا جلوس

مظاہرین
مظاہرین میں وکلاء، سیاسی کارکن اور سول سوسائٹی کےنمائندے شامل تھے
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کےساتھ اظہار یک جہتی کے لئے بدھ کو لاہور میں وکلاء اور سیاسی جماعتوں نے پنجاب اسمبلی تک پرامن جلوس نکالا۔

مظاہرین نے’گو مشرف گو، لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی اور عدلیہ کی آزادی تک جنگ رہے گی، جنگ رہے گی‘ جیسے نعرے بلند کیے۔

پنجاب اسمبلی کے باہر وکلاء کے رہنماؤں نے خطاب کیا جس کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

گرمی کی شدت مظاہرے کی شدت پر غالب نہ آسکی

وکیلوں کا جلوس ایوان عدل سے روانہ ہوا اور ہائی کورٹ کے سامنے ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کا جلوس بھی اس میں شامل ہوگیا۔اس موقع پر سول سوسائٹی کی مختلف تنظیموں، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ،خواتین محاذ عمل ، اساتذہ اور طلبہ تنظیموں، پی ٹی سی ایل ایکشن کمیٹی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی اپنی جماعتوں کے پرچموں، اور لیڈروں کی تصاویر کے ساتھ شرکت کی۔

مظاہرین نے چیف جسٹس پاکستان کی تصاویر اور عدلیہ کی آزادی کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے۔

جلوس میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور صوبائی سیکرٹری جنرل چودھری غلام عباس، مسلم لیگ (ن) کے رکن اسمبلی رانا مشہود احمد خان اور جماعت اسلامی کے احسان اللہ وقاص نے کی۔

مال روڈ پر ایم کیو ایم اور آمریت کے خلاف دیواروں اور سٹرک پر نعرے لکھے گئے تھے۔جلوس کے راستے میں عام شہری بھی مظاہرین کا استقبال کرتے رہے۔

لاہور میں مظاہرہ
مظاہرین صدارتی ریفرنس کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے

جلوس میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق ججوں اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے بھی شرکت کی ۔ خواتین وکلاء سمیت عورتوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔

اسی اثنا، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا ہے کہ ہر جمعرات کو وکلا کی ہڑتال کی وجہ سے بدھ کو وکلا مقدمات عدالتوں میں دائر نہیں کریں گے ۔

مظاہرین نے لاہور ہائی کورٹ کے گیٹ پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے خلاف بھی نعرہ بازی کی جبکہ لاہور ہائی کورٹ کے احاطے میں پولیس کی نفری بھی موجود تھی۔

وکلاء نے بدھ کو مقدمے دائر نہ کرنے کا فیصلہ کیا

لاہور کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی مظاہروں کی اطلاعات ملی ہیں۔ وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ عدالتوں میں علامتی بھوک ہڑتال کے لیے کیمپ بھی لگائے گئے۔

’انتقامی‘ کارروائی
حکومت انتقامی کارروائی کررہی ہے: وکلاء
داتو پرام کمارا سوامے جیورسٹس کمیشن
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر تشویش
رب جانے یا مشرف
’جسٹس ریلی حکومتی ریلیوں کے بیچ سینڈوچ‘
جواد ایس خواجہپاکستان اور عدلیہ
’عدلیہ کی آزادی کےلئے نیت صحیح ہو‘۔
جسٹس افتخار جسٹس کا بیانِ حلفی
جسٹس افتخار کے بیانِ حلفی کا مکمل متن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد