BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 June, 2007, 08:41 GMT 13:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جسٹس قافلے کا بھرپور استقبال
چیف جسٹس افتخار چودھری
اسلام آباد سے ہری پور کا سفر سات گھنٹے میں مکمل ہوا
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری وکلاء کی ایک تقریب سے خطاب کے لیے صوبہ سرحد کے شہر ابیٹ آباد کی طرف روانہ ہیں اور راستے میں جگہ جگہ ان کا استقبال کیا جا رہا ہے۔

جسٹس افتخار ابیٹ آباد روانگی کے لیے صبح نو بجے اسلام آباد میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ سے نکلے تو سینکڑوں وکلاء نے ان کا استقبال کیا اور حسب معمول ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔

وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے اگرچہ دفعہ 144 کے تحت پانچ یا اس سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی لگا رکھی تھی لیکن جسٹس افتخار کا قافلہ بغیر کسی رکاوٹ کے اسلام آباد کی سڑکوں سے ہوتا ہوا جی ٹی روڈ (جرنیلی سڑک) پر پہنچا۔

ہمارے نامہ نگار رفاقت علی نے، جو جسٹس افتخار کے قافلے کے ساتھ سفر کر رہے ہیں، اطلاع دی ہے کہ اسلام آباد سے ہری پور کا سفر جو عام حالات میں دو گھنٹے میں طے ہوجاتا ہے وہ سات گھنٹے میں مکمل ہوا ہے۔

راستے میں آنے والے دیہاتوں، قصبوں اور شہروں میں سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں نے استقبال کیا۔

کور کمانڈر اور خام خیالی
 کور کمانڈروں کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ جنرل مشرف کو بچا لینگے، اب انہیں ہر دوسرے روز میٹنگ کرنا پڑے گی
اعتزاز احسن

ہری پور پہنچنے پر جسٹس افتخار کے وکلاء اعتزاز احسن، علی احمد کرد، حامد خان اور قاضی محمد انور نے وکلاء اور عوام کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔

اعتزاز احسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ کور کمانڈروں کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ جنرل مشرف کو بچا لینگے۔ ’اب انہیں ہر دوسرے روز میٹنگ کرنا پڑے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ عوام اب سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں انصاف فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے کو اس کے منصب سے ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب کوئی طاقت عوام کا راستہ نہیں روک سکتی۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ حکومت عدلیہ کے کچھ لوگوں کو وکلاء کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس سلسلے میں حامد خان اور علی احمد کرد کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو سب وکلاء ان کے بیانات کی تائید میں بیان حلفی داخل کرائینگے۔

اس سے قبل ٹیکسلا میں وکلاء نے جی ٹی روڈ کے ساتھ ہی تقریب کا انتظام کر رکھا تھا، جس سے جسٹس افتخار کے وکلاء علی احمد کرد اور بیرسٹر اعتزاز احسن نے خطاب کیا۔

وکلاء اور سیاسی کارکنوں نے زبردست نعرے بازی کی

علی احمد کرد نے اپنی جذباتی تقریر میں کہا: ’جنگ کا مزا اب آئے گا، ایک طرف عوام اور دوسری طرف مشرف اور ان کے چند وفادار کور کمانڈر ہیں‘۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ علی احمد کرد کی تقریر عوام کی آواز ہے۔

اس موقع پر وکلاء اور سیاسی کارکنوں نے زبردست نعرے بازی کی۔ سرفہرست نعروں میں تھے زندہ ہیں وکیل زندہ ہیں، کھال اتارو ملک سنوارو اور چیف تیرے جا نثار بے شمار۔

پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر محمد علی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کی صورت میں کسی بھی قسم کا اجتماع کرنے والوں کو انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینا ہوتی ہے لیکن جسٹس افتخار کے حامیوں کی جانب سے ایسی کوئی اجازت طلب نہیں کی گئی۔

تاہم جسٹس افتخار کے وکیل اعتزاز احسن کا مؤقف تھا کہ ایسی کسی اجازت طلب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

موبائل’گو مشرف گو‘
صدر کے خلاف احتجاج ’موبائل‘ ہو گیا
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
 جسٹس افتخار چودھری ہڈی اور سیاسی گلے
جسٹس افتخارگلے کی’ہڈی‘ بنتے جا رہے ہیں
جسٹس افتخار’جسٹس کیس‘
سپریم کورٹ سے جی ٹی روڈ کا سفر تاریخوں میں
مشرف’موزوں چیف جسٹس‘
مشرف کیلیے جسٹس افتخار بہتر: ملک قیوم
 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
مقدمہ اور مقدمے
چیف جسٹس افتخار کا مقدمہ اور مقدمے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد