جسٹس افتخار ایبٹ آباد پہنچ رہے ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے چیف جسٹس، جسٹس افتخار محمد چوہدری ایبٹ آباد بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر آج ایبٹ آباد کے وکلاء سے خطاب کریں گے۔ چیف جسٹس اسلام آباد سے اپنے وکلاء اور حامیوں کے ساتھ ایبٹ آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔ سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کے مطابق اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے بدھ کے روز شہر میں امن و امان قائم رکھنے کی غرض سے شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کر رکھی ہے جس کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے ایک جگہ جمع ہونے اور جلسے جلوس کرنے پر پابندی عائد ہے۔ اسلام آباد کے ڈپٹی کمیشنر محمد علی نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹِڈ پریس کو بتایا کہ انتظامیہ جسٹس افتخار کے حامیوں کو ان کے ساتھ آ ملنے سے روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت جو لوگ جلوس نکالنا چاہتے ہوں انہیں چاہئے کہ وہ پہلے انتظامیہ سے اس کی اجازت لیں۔ محمدعلی کا کہنا تھا کہ جسٹس افتخار چوہدری کے حامیوں کی جانب سے ایسی کوئی اجازت طلب نہیں کی گئی۔ ادھر جسٹس کے چوہدری کے ایک وکیل اعتزاز احسن نے اے پی کو بتایا کہ کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی وہ ایسی کوئی اجازت لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بارہ مئی کے بعد دارالحکومت اسلام آباد سے باہر وکلاء کے کسی اجتماع سے یہ چیف جسٹس کا پہلا خطاب ہوگا۔ گزشتہ ماہ وہ سندھ بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر کراچی گئے تھے مگر وہاں وکلاء سے خطاب نہ کر سکے کیونکہ اس موقع پر متحارب سیاسی جماعتوں کی جانب سے نکالی جانی والی ریلیوں اور ہنگامہ آرائی کی وجہ سے شہری حکومت نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ایئرپورٹ سے نہیں نکلنے دیا تھا۔ بعد میں حکومتِ سندھ نے چیف جسٹس کے ساتھ جانے والے وکلاء کو صوبہ بدری کے نوٹس دیدئے جس پر جسٹس افتخار چوہدری بھی اسلام آباد لوٹ آئے تھے۔ اس روز کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے اور حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتیں ایک دوسرے کے کارکنوں پر بلااشتعال فائرنگ کے الزامات لگاتی رہی ہیں۔ جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف صدر جنرل پرویز نے بے ضابطگیوں کے الزام میں نو مارچ کو سپریم جیوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ جسٹس افتخار ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور انہوں نے ریفرنس اور سپریم جیوڈیشل کونسل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا۔ |
اسی بارے میں ’کورکمانڈروں کا مشرف پر اعتماد‘01 June, 2007 | پاکستان وکلاء کے خلاف بغاوت کا مقدمہ 31 May, 2007 | پاکستان سیمینار، سماعت فل بینچ کرےگا31 May, 2007 | پاکستان ارباب اور الطاف کو عدالت کے نوٹس 01 June, 2007 | پاکستان بارہ مئی پر بات نہیں: صبیح الدین 30 May, 2007 | پاکستان ’خفیہ اداروں کے سربراہ دباؤ ڈالتے رہے‘29 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||