سیمینار، سماعت فل بینچ کرےگا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حکم جاری کیا ہے کہ سپریم کورٹ آڈیٹوریم میں وکلاء سیمینار کے موقع پر’ قومی اداروں اور اہم شخصیات‘ کے خلاف تقاریر سے متعلق وفاقی حکومت کی درخواست کی سماعت فل بینچ کرے گا۔ قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں وکلاء سیمینار کے موقع پر’ قومی اداروں اور اہم شخصیات‘ کے خلاف تقاریر سے متعلق درخواست کی سماعت نہیں کریں گے کیونکہ وہ سمینار میں تقاریر سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں اور یہ نامناسب ہوگا کہ وہ ایسی درخواست کی سماعت کریں جس پر وہ اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ وفاقی حکومت نے چند روز پہلے سپریم کورٹ کی توجہ وکلاء کے سیمینار میں بعض مقررین کی تقاریر کی طرف دلائی جن میں بقول وفاقی حکومت کے قومی اداروں اور اہم شخصیات کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کا فل بینچ تین یا اس سے زیادہ ججوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ مقدمے کی سماعت پیر کے روز سے شروع ہوگی۔ جسٹس جاوید اقبال نے ایک اور درخواست گزار شاہد اورکزئی کو کہا کہ وہ وکلاء سیمینار سے متعلق درخواست دائر کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ شاہد اورکزئی واپس کمرۂ عدالت میں گئے اور عدالت سے استدعا کی وہ انہیں تحفظ فراہم کرے۔ قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے کمرۂ عدالت میں پولیس اہلکاروں سے کہا کہ ان کو ان تحفظ فراہم کریں اور جہاں جانا چاہتے ہیں وہاں لے کر جائیں۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست میں صدر پرویز مشرف اور وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل احمد رضا قصوری نے عدالت کو بتایا کہ ان کے ایک مؤکل نے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہے جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے وہ ’جبری چھٹی پر بھیجے جانےوالے چیف جسٹس‘ کو سیاسی جلسوں میں شرکت سے باز رہنے کے احکامات جاری کرے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اصولاً ایسی کوئی درخواست جس میں چیف جسٹس کے متعلق کوئی بات ہو وہ فل کورٹ کے سامنے لگنی چاہیے جو اس وقت چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت کر رہا ہے لیکن ابھی تک انہوں نے احمد رضا قصوری کے مؤکل کی درخواست کو دیکھا نہیں ہے اور وہ اسے فل کورٹ کے سامنے لگانے کا فیصلہ درخواست کو دیکھ کر ہی کریں گے۔ سنیچر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے’اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی‘ کے عنوان سے ایک سیمینار سپریم کورٹ آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا تھا جس میں بعض وکلاء کی جانب سے سیاسی نعرہ بازی اور تقاریر کی گئی تھیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ عدالت نے دو شرائط کی بنیاد پر سیمینار کے انعقاد کی اجازت دی تھی جن میں سے ایک یہ تھی کہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور دوسری یہ کہ کسی کی کردار کشی نہ کی جائے۔ لیکن بقول حکومت دونوں شرائط کی کھلی خلاف ورزی ہوئی جوکہ عدالت کے تقدس کی پامالی ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اس سیمینار سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چودھری نے بھی خطاب کیا تھا اور اس سیمینار کے دوران وکلاء کی جانب سے’یہ جو غنڈہ گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘ اور ’ کھال اتارو، ملک سنوارو‘ جیسے نعرے لگائے گئے تھے۔ |
اسی بارے میں حکومتی درخواست کی سماعت ہوگی30 May, 2007 | پاکستان ’گرفتاری کے امکان کے باوجود واپسی‘ 30 May, 2007 | پاکستان کراچی میں وکلاء پر حملے کی FIR بحال30 May, 2007 | پاکستان بارہ مئی پر بات نہیں: صبیح الدین 30 May, 2007 | پاکستان حماد قتل کیس: چار افراد گرفتار30 May, 2007 | پاکستان صحافیوں کو دھمکی پر احتجاجی مظاہرے30 May, 2007 | پاکستان ’بندوق بردار کو کیسے ہٹایا جائے‘30 May, 2007 | پاکستان وزیر اعلیٰ پر توہین عدالت کا الزام31 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||