BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 May, 2007, 11:29 GMT 16:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیمینار، سماعت فل بینچ کرےگا

سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال
قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ مقدمے کی سماعت وہ خود نہیں کرینگے
سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حکم جاری کیا ہے کہ سپریم کورٹ آڈیٹوریم میں وکلاء سیمینار کے موقع پر’ قومی اداروں اور اہم شخصیات‘ کے خلاف تقاریر سے متعلق وفاقی حکومت کی درخواست کی سماعت فل بینچ کرے گا۔

قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں وکلاء سیمینار کے موقع پر’ قومی اداروں اور اہم شخصیات‘ کے خلاف تقاریر سے متعلق درخواست کی سماعت نہیں کریں گے کیونکہ وہ سمینار میں تقاریر سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں اور یہ نامناسب ہوگا کہ وہ ایسی درخواست کی سماعت کریں جس پر وہ اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔

وفاقی حکومت نے چند روز پہلے سپریم کورٹ کی توجہ وکلاء کے سیمینار میں بعض مقررین کی تقاریر کی طرف دلائی جن میں بقول وفاقی حکومت کے قومی اداروں اور اہم شخصیات کے بارے میں نامناسب زبان استعمال کی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کا فل بینچ تین یا اس سے زیادہ ججوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ مقدمے کی سماعت پیر کے روز سے شروع ہوگی۔ جسٹس جاوید اقبال نے ایک اور درخواست گزار شاہد اورکزئی کو کہا کہ وہ وکلاء سیمینار سے متعلق درخواست دائر کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔

 قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں وکلاء سیمینار کے موقع پر’ قومی اداروں اور اہم شخصیات‘ کے خلاف تقاریر سے متعلق درخواست کی سماعت نہیں کریں گے کیونکہ وہ سیمینار میں تقاریر سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں اور یہ نامناسب ہوگا کہ وہ ایسی درخواست کی سماعت کریں جس پر وہ اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔
شاہد اورکزئی جب کمرۂ عدالت سے باہر نکلے تو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ایک ممبر ایڈوکیٹ نعیم شیخ نے ان پر حملہ کر دیا اور کہا کہ تم نےصحافی بن کر وکلاء کے سیمینار میں شرکت کی تھی اور اب اس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کر رہے ہو۔

شاہد اورکزئی واپس کمرۂ عدالت میں گئے اور عدالت سے استدعا کی وہ انہیں تحفظ فراہم کرے۔ قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے کمرۂ عدالت میں پولیس اہلکاروں سے کہا کہ ان کو ان تحفظ فراہم کریں اور جہاں جانا چاہتے ہیں وہاں لے کر جائیں۔

اس کے علاوہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست میں صدر پرویز مشرف اور وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکیل احمد رضا قصوری نے عدالت کو بتایا کہ ان کے ایک مؤکل نے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کر رکھی ہے جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے وہ ’جبری چھٹی پر بھیجے جانےوالے چیف جسٹس‘ کو سیاسی جلسوں میں شرکت سے باز رہنے کے احکامات جاری کرے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اصولاً ایسی کوئی درخواست جس میں چیف جسٹس کے متعلق کوئی بات ہو وہ فل کورٹ کے سامنے لگنی چاہیے جو اس وقت چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت کر رہا ہے لیکن ابھی تک انہوں نے احمد رضا قصوری کے مؤکل کی درخواست کو دیکھا نہیں ہے اور وہ اسے فل کورٹ کے سامنے لگانے کا فیصلہ درخواست کو دیکھ کر ہی کریں گے۔

سنیچر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے’اختیارات کی تقسیم اور عدلیہ کی آزادی‘ کے عنوان سے ایک سیمینار سپریم کورٹ آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا تھا جس میں بعض وکلاء کی جانب سے سیاسی نعرہ بازی اور تقاریر کی گئی تھیں۔

حکومت کا موقف ہے کہ عدالت نے دو شرائط کی بنیاد پر سیمینار کے انعقاد کی اجازت دی تھی جن میں سے ایک یہ تھی کہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا اور دوسری یہ کہ کسی کی کردار کشی نہ کی جائے۔ لیکن بقول حکومت دونوں شرائط کی کھلی خلاف ورزی ہوئی جوکہ عدالت کے تقدس کی پامالی ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے اس سیمینار سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار چودھری نے بھی خطاب کیا تھا اور اس سیمینار کے دوران وکلاء کی جانب سے’یہ جو غنڈہ گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘ اور ’ کھال اتارو، ملک سنوارو‘ جیسے نعرے لگائے گئے تھے۔

جسٹس افتخارجسٹس کا قافلہ
جسٹس افتخار کا اسلام آباد تا لاہور سفر
 جسٹس افتخار چودھری ہڈی اور سیاسی گلے
جسٹس افتخارگلے کی’ہڈی‘ بنتے جا رہے ہیں
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
 کیا سید شریف الدین پیرزادہ صدر مشرف کی کرسی بچا سکتے ہیں؟’آپ تو ڈرا رہے ہیں‘
حکومتی وکلاء اور ملائیشیا کی مثال
متحدہ کی وڈیو
وڈیو کراچی میں 12 مئی کے تشدد پر مبنی ہے
 سندھ ہائی کورٹ بلڈنگقائم مقام گورنر
سندھ ہائی کورٹ کے ججز کے فیصلے کی تعریف
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد