BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 May, 2007, 18:00 GMT 23:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وکلاء کے خلاف بغاوت کا مقدمہ

کراچی کے وکلاء مظاہرہ کرتے ہوئے فائل فوٹو
وکلاء پرمملکت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں
کراچی پولیس نے ملک کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کا پتلا نذر آتش کرنے پر وکلاء رہنماؤں اور کراچی بار کے ارکان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیاہے۔

ان لوگوں پر ہنگامہ آرائی کرنے اور صدر اور متحدہ قومی موومینٹ کے قائد الطاف حسین کے خلاف نعرے بازی کرنے اور مملکت کے خلاف سازش کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

یہ مقدمہ رسالہ تھانے پر درج کیا گیا ہے جس میں مدعی ریاست کی جانب سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر شاہ رخ بنے ہیں۔

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ڈیڑھ سو سے زائد وکلاء نے جمعرات کو سیشن کورٹ ساؤتھ سے جلوس نکالا اور بندر روڈ پر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے بازی کی اور ان کا پتلا نذر آتش کیا۔

ایف آئی آر کے مطابق جلوس میں شریک وکلاء نے مشرف کے پتلے پر جوتیوں کے ہار ٹانگے ہوئے تھے اور اس پر لکھا تھا کہ ’وکلاء مجھے معاف کرو میں وردی نہیں پہنوں گا‘ جبکہ بعض شرکاء نے حکمران جماعت متحدہ قومی موومینٹ کے قائد الطاف حسین کی تصویر بھی اٹھا رکھی تھی جس پر تحریر تھا کہ ’پاکستان آجاؤ یہ تمہاری جاگیر ہے‘۔

رسالہ تھانے کے سب انسپکٹر عرفان کا کہنا ہے کہ وکلاء نے دفعہ 144 کی بھی خلاف ورزی کی جلوس نکالا اورحکومت کی اہم شخصیات کے خلاف نعرے بازی کی جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعید قریشی، فہیم ضیاء، محمود الحسن، شہادت اعوان، محمد مسکین، چوہدری عبدالستار، مشتاق اعوان، ارشد جدون خان، عاقل لودھی، ناہید افضال، عبدالحفیظ بلوچ، سردار طارق خان نیازی، حسن لند اور مشتاق جہانگیری کے علاوہ ڈیڑھ سو سے زائد نامعلوم وکلاء کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی ہے تاہم اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

کراچی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل نعیم قریشی نے پولیس کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وکلاء حکومت کے ان ہتھکنڈوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے اور چیف جسٹس کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کے لئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی وکیل کو گرفتار کیا گیا تو وہ جیل بھرو تحریک شروع کردیں گے۔

کراچی وکلاء فائل فوٹو
وکلاء نے اس اقدام کی سخت مذمت کی

یاد رہے کہ اس سے قبل حیدرآباد میں بھی چیف جسٹس کی حمایت میں جلوس نکالنے پر اور جنرل مشرف کا پتلا نذر آتش کرنے پر سندھ بار کونسل کے وائس چئرمین امین لاکھانی، وکیل اور سابق سول جج ظفر راجپوت سمیت 150 سے زائد وکلاء اور درجن بھر مقامی سیاسی رہنماؤں کے خلاف بغاوت اور ہنگامہ آرائی کے دو الگ الگ مقدمات درج کئے گئے تھے تاہم بعد میں سندھ ہائی کورٹ حیدرآباد سرکٹ بینچ نے ان مقدمات میں وکلاء کو گرفتار کرنے سے روک دیا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کراچی بار کے سیکرٹری نعیم قریشی نے 12 مئی کو سٹی کورٹس کے احاطے اور اطراف میں وکلاء پر ہونے والے مبینہ تشدد اور حبس بے جا میں رکھنے کے واقعات کا مقدمہ ایم کیو ایم کے کارکنان، پولیس اور حکومت سندھ کے متعلقہ حکام کے خلاف سٹی کورٹ تھانہ پر درج کرایا تھا جو ایڈیشنل سیشن جج کراچی جنوبی کے حکم پر درج کیا گیا تھا۔

تاہم تھانیدار نے وکلاء کی شکایات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے تفتیش روک دی تھی جس پر وکلاء نے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا تھا اور عدالت نے مقدمے کو بحال کرکے تحقیقات کے لئے تفتیشی پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد