صوبہ بدری کے احکامات واپس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ سندھ نے 12 مئی کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ساتھ کراچی آنے والے وکلاء علی احمد کرد، حامد خان، عاصمہ جہانگیر اور دیگر افراد کی صوبہ بدری کے احکامات واپس لے لیے ہیں۔ حکومت سندھ کے سیکرٹری داخلہ غلام محمد محترم نے بتایا کہ چیف جسٹس کے ساتھ آنے والے 14 افراد کی صوبہ بدری کے احکامات دیے گئے تھے جن میں سے بیشتر واپس لے لیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’عاصمہ جہانگیر، علی احمد کرد اور دیگر افراد کے خلاف جاری کردہ احکامات واپس لیے گئے ہیں، دو چار کے خلاف احکامات ابھی رہتے ہیں جن کو بھی واپس لے لیا جائے گا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن کی صوبہ بدری کا حکم جاری ہی نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ احکامات خاص وقت کے لیے اس کے اثر کو کم کرنے کے لیے تھے جو گزر گیا ہے، اس لیے اب انہیں واپس لیا جارہا ہے۔‘ واضح رہے کہ انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی چیئرپرسن اور سپریم کورٹ کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے اپنی صوبہ بدری کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس کی سماعت کے موقع پر گزشتہ روز سرکاری وکیل نے عدالت عالیہ کو بتایا تھا کہ عاصمہ جہانگیر کی صوبہ بدری کا حکم واپس لے لیا گیا ہے۔ اعتزاز احسن کی جانب سے بھی ملک محمد اعجاز ایڈووکیٹ نے بھی عدالت عالیہ میں اپنے مؤکل کی مبینہ صوبہ بدری کے خلاف ایک آئینی درخواست داخل کی تھی جس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ اعتزاز احسن کو ان کی صوبہ بدری کا حکم نامہ دیا نہیں گیا تھا جس کے بعد عدالت نے دونوں درخواستیں نمٹادی تھیں۔ |
اسی بارے میں وکلاء نےزبردستی کی: پولیس18 May, 2007 | پاکستان سینیٹ کی کارروائی پِھر ٹھپ18 May, 2007 | پاکستان وکلاء پر ’تشدد‘، تفتیش رک گئی19 May, 2007 | پاکستان تنظیمیں فائرنگ کا نوٹس لیں: متحدہ21 May, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||