ارباب اور الطاف کو عدالت کے نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کے فُل بینچ نے سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد سربراہ الطاف حسین اور دیگر کو نوٹس جاری کیے ہیں اور عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کی فریق بننے کی بھی درخواست منظور کرلی ہے ۔ تمام درخواستوں کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے فُل بینچ نے جمعہ کو چیف جسٹس صبیح الدین احمد کے از خود نوٹس کے ساتھ سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے خلاف توہین عدالت اور بارہ مئی کے واقعہ کے ذمہ دارن کے تعین کے بارے میں تین درخواستوں کی سماعت بھی کی۔ عدالت کی درخواست پر سینئر قانون دان خالد انور نے عدالت کی معاونت کی اور دلائل دیے۔ خالد انور نے کہا کہ بارہ مئی کو ہرشخص گھر میں محصور تھا جوکہ بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ججوں کو روکنا انصاف کی راہ میں رکاوٹ کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی جنگل ہے جہاں جرائم کو روکا نہیں جاتا اور قانون کا نفاذ نہیں ہوتا۔
جسٹس انور ظہیر جمالی نے خالد انور سے سوال کیا کہ جب پولیس کے ہاتھ میں ڈنڈے ہوں اور شرپسندوں کے پاس خود کار ہتھیار ہوں تو ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ خالد انور ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پولیس کو صرف ڈنڈے دیکر یہ کہنا کہ خاموش کھڑے رہو بڑا جرم ہے۔ پولیس کی محکمانہ آزادی اتنی اہم ہے جتنی عدالتی آزادی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کی آزادی بنیادی آئینی حق ہے اور انصاف تک رسائی اس وقت ممکن نہیں ہوسکتی جب تک پولیس کو محکمانہ آزادی حاصل نہ ہو۔ خالد انور کا کہنا تھا کہ جب ریاست یہ طے کرلے کہ کسی کے خلاف کارروائی کرنی ہے، کیس کے خلاف نہیں، تو یہ رجحان پولیس سٹیٹ کو ظاہر کرتا ہے جو پاکستان میں ہے۔ فل بینچ کے سربراہ جسٹس سرمد جلال عثمانی کا کہنا تھا کہ عدالت اس بات کا تعین کرے گی کہ بارہ مئی کو آئینی قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ اس کے بعد اس کے ذمہ داروں کا تعین کرکے فیصلہ جاری کیا جائے گا۔ ایک موقعہ پر جب ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل مسعود نورانی نے کہا کہ ارباب غلام رحیم نے توہین عدالت نہیں کی ہے یہ الزام اخباروں کی خبروں پر مشتمل ہے تو جسٹس سرمد جلال عثمانی نے انہیں آگاہ کیا کہ یہ فوجداری معاملہ ہے اور انہیں عدالت کی معاونت کرنی چاہیئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف میاں رضا ربانی نے عدالت کو بتایا کہ وہ بھی بارہ مئی کے متاثر اور چشم دید گواہ ہیں لحاظہ وہ بھی فریق بننا چاہتے ہیں۔ اس پر عدالت نے انہیں حلف نامے جمع کرانے کی ہدایت کی۔ کراچی کے شہری اقبال کاظمی نے درخواست کی تھی کہ بارہ مئی کے واقعات کے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرنے کے بعد عدالت نے سماعت تین جولائی تک ملتوی کردی۔ دوسری جانب پاکستان، سندھ اور کراچی بار کی درخواستوں پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت جسٹس سرمد جلال اور جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو پر مشتمل بینچ نے چیمبر میں کی۔ عدالت میں حاضر ہونے کے لئے وفاقی سیکریٹری داخلہ کمال شاہ، چیف سیکریٹری سندھ شکیل درانی، سیکریٹری داخلہ غلام محمد محترم، آئی جی سندھ نیاز صدیقی اور سی سی پی او اظہر فاروقی کمرہ عدالت میں موجود تھے مگر انہیں چیمبر میں طلب نہیں کیا گیا۔ عدالت نے یہ درخواست چیف جسٹس کے پاس اس سفارش کے ساتھ بھیج دی کہ اس کی سماعت بھی بڑے بینچ میں کی جائے اور سماعت تین جولائی تک ملتوی کردی۔ اس سماعت سے قبل وفاقی سیکریٹری کمال شاھ کمرہ عدالت میں پہلی نشست پر بیٹھے ہوئے تھے تو وکلاء نے انہیں یہ کہہ کر پیچھے بیٹھنے پر مجبور کیا کہ وہ ملزم ہیں وہ یہاں نہیں بیٹھے سکتے۔ | اسی بارے میں ’عدالتیں غیر جانبدار نہیں رہیں‘28 May, 2007 | پاکستان بارہ مئی پر بات نہیں: صبیح الدین 30 May, 2007 | پاکستان ہائی کورٹ: کراچی تشدد کا نوٹس 26 May, 2007 | پاکستان بارہ مئی کی تحقیقات نہیں ہوں گی25 May, 2007 | پاکستان ’سیاسی نعرہ بازی، عدالت نوٹس لے‘27 May, 2007 | پاکستان کراچی ہلاکتیں، ایوانوں کا بائیکاٹ14 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||