BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 11 June, 2007, 06:23 GMT 11:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئینی پٹیشن، باقاعدہ سماعت شروع

سپریم کورٹ
’چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی پٹیشن سُنی جائے گی۔‘ (بی بی سی کے لئے صابر نذر کے خصوصی سکیچز)
سپریم کورٹ آف پاکستان کے تیرہ رکنی فل کورٹ نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست پر باقاعدہ سماعت شروع کر دی ہے۔

عدالت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ چیف جسٹس کی درخواست سے متعلق حکومتی اعتراضات پر فیصلہ بعد میں سنایا جائےگا۔

چیف جسٹس نے اپنی آئینی درخواست میں عدالت سے استدعا کر رکھی ہے کہ وہ ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دے کر ان پر بطور چیف جسٹس لگائی تمام پابندیاں ہٹا دی جائیں۔

تیرہ رکنی فل کورٹ نےوفاقی حکومت کی وکلاء کی طرف سے چیف جسٹس اور ان سے متعلق دیگر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق حکومتی وکلاء کے دلائل ختم ہونے پر اعلان کیا کہ وہ چیف جسٹس کی درخواست کی باقاعدہ سماعت کرے گی۔

چیف جسٹس کی آئینی درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے بارے میں سپریم کورٹ کی کارروائی انیس روز جاری رہی جس میں حکومت نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ان درخواستوں کو سننے سے انکار کر دے۔

فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’عدالت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب صرف چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست سُنی جائے گی جبکہ اس سلسلے میں دائر کی جانے والی دوسری تمام درخواستوں کا فیصلہ چیف جسٹس کی درخواست کے فیصلے کی روشنی میں کیا جائے گا‘۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو عہدے سے ہٹائے جانے کے بارے میں کل چوبیس آئینی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔

News image
 چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجنے کی کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے اور ان کے عدالتی فیصلوں کی وجہ سے حکومت ان سے ناراض ہوگئی تھی۔
اعتزاز احسن

پیر کو عدالت کی کارروائی 48 منٹ تاخیر سے شروع ہوئی۔ تاہم جب سماعت شروع ہوئی تو وفاقی حکومت کے آٹھ وکلاء صرف بیس منٹ تک اپنے دلائل جاری رکھ سکے۔ جب ایک کے بعد دوسرا سرکاری وکیل پہلے آنے والے وکیلوں کے دلائل کو اپنا کر اپنے نشتوں پر جا بیٹھے تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ ’آپ نے صرف ہمارے دو دن ہی ضائع کرنے تھے‘۔جمعہ کے روز سرکاری وکلاء کے شور و غل کے بعد سپریم کورٹ نےاعلان کیا تھا کہ وہ تمام سرکاری وکلاء کی بات سنےگی۔

پیر کو وفاقی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلاء میں ایڈوکیٹ چودھری نصیر احمد، شبیر لالی، محمد صدیق مرزا، ملک عبد الستار، رانا عبد الحمید، رائے محمد نواز کھرل، شیخ پرویز عالمگیر اور خالد فاروقی شامل تھے۔

حکومتی موقف کے حامی درخواست گزار مولوی اقبال حیدر نے جب عدالت سے استدعا کی کہ ان کی درخواست کو سننے کے لیے نہیں لگایا گیا ہے تو عدالت نے انہیں سختی سے کہا کہ وہ روسٹرم سے ہٹ جائیں اور ان کی کوئی بات نہیں سنیں گے کیونکہ عدالت کے پاس ان کوئی درخواست موجود نہیں ہے۔

مولوی اقبال حیدر نے چیف جسٹس کو سپریم کورٹ سے فارغ کیے جانے کے بعد حکومتی موقف کی تائید میں درخواست داخل کی تھی اور پانچ رکنی بینچ کے سامنے انتہائی ہتک آمیز انداز میں کچھ ججوں پر اعتراضات کیے تھے۔ سپریم کورٹ آفس نے ان کی درخواست کو فہرست سے خارج کر دیا تھا۔

مولوی اقبال حیدر نے جب جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی طرف سے روسٹرم سے چلے جانے کی ’گزارشات‘ نہ مانیں تو عدالت کے کئی ججوں نے غصے میں مولوی اقبال حیدر سے کہا کہ وہ روسٹرم چھوڑ دیں۔جسٹس اعجاز احمد نے انتہائی غصے میں کہا ’مولوی اقبال حیدر آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ یہاں سے چلے جائیں‘۔ اس پر اقبال حیدر کمرہ عدالت سے چلے گئے۔

چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے آئینی درخواست کے حقائق پر دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا موقف ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجنے کی کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے اور ان کے عدالتی فیصلوں کی وجہ سے حکومت ان سے ناراض ہوگئی تھی۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے عدالت کو بتایا کہ چیف جسٹس نے ایک سال میں چھ ہزار سے زیادہ ایسے مقدموں کا نوٹس لیا جن میں لوگوں کے حقوق غصب کیے تھے اور حکومت کے اعلی عہدیداروں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے حکومت ان سے ناراض ہو گئی تھی۔

پلان بی نہیں تھا۔۔
 حکومت کا خیال تھا کہ چیف جسٹس کو جب جرنیل گھیر کر بٹھیں گے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے لیکن حکومت کے پاس پلان بی نہیں تھا اور عجلت میں ریفرنس تیار کیا گیا۔
بیرسٹر اعتزاز احسن

اعتزاز احسن نے کہا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو راولپنڈی چیف آف آرمی سٹاف میں بلا کر ان سے استعفی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان تفصیلات میں نہیں جانا چاہتے کہ چیف جسٹس کو بلایا گیا ہے یا وہ خود گئے تھے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ چیف جسٹس اور صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان قریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ون ٹو ون ملاقات ہوئی جس کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنے چیف آف سٹاف لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ) حامد جاوید، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس، اور ڈائریکٹر جنرل انٹیلجنس بیورو کو بھی میٹنگ میں شامل کر لیا۔

اعتزاز احسن نے نو مارچ کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کے نجی ٹی وی چینلز کو دیے گئے دو انٹرویوز کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جب چیف جسٹس سے ملاقاتیں ہو رہی تھی اس وقت تک چیف جسٹس کے خلاف کوئی ریفرنس دائر ہی نہیں کیا گیا تھا اور اگر وہ استعفیٰ دینے پر راضی ہو جاتے تو پھر ریفرنس دائر ہی نہیں ہونا تھا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ اپنے موکل (چیف جسٹس) کی ہدایت پر عدالت کو بتا رہے ہیں کہ ان کو راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف ہاؤس میں بلا کر کہا گیا کہ اگر وہ مستعفیٰ ہو جائیں تو ان کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کیا جائے گا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جب چیف جسٹس نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا تو پھر صدر جنرل مشرف نے اپنے جرنیلوں کو میٹنگ میں بلا کر چیف جسٹس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی لیکن جب اس میں بھی کامیاب نہ ہوئے تو پھر جلدی میں چیف جسٹس کے خلاف الزامات کو ریفرنس میں بدل دیا گیا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ حکومتی اہلکاروں نے اپنے حلف ناموں میں لکھا ہے کہ چیف جسٹس کے تعلقات انٹیلجنس ادراوں کے سربراہوں سے انتہائی خوشگوار تھے اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے چیف جسٹس کو نکالتا کون ہے۔

اس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ شاید اسی لیے ان کو ہٹایا گیا ہو کہ وہ ان (انٹیلجنس اداروں کے سربراہوں) کے ساتھ دوستی تھی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کرنے کی عجلت کا یہ عالم ہے کہ ملک کے سب سے اعلٰی عدالتی عہدیدار کے خلاف ریفرنس دائر کیا جا رہا ہے لیکن ایک جگہ لکھا ہے کہ اس پوائنٹ کو حذف کر دیا گیا ہے لیکن کہیں بھی اس کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

اعتزاز احسن نے جسٹس فقیر محمد کھوکھر کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ریفرنس کے خلاف دلائل نہیں دے رہے ہیں بلکہ ریفرنس کا حوالہ صرف یہ ثابت کرنے کے لیے دے رہے ہیں کہ جب چیف جسٹس نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تو انتہائی عجلت میں ریفرنس دائر کر دیا گیا۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ’حکومت کا خیال تھا کہ چیف جسٹس کو جب جرنیل گھیر کر بٹھیں گے تو وہ استعفیٰ دے دیں گے لیکن حکومت کے پاس پلان بی نہیں تھا اور عجلت میں ریفرنس تیار کیا گیا‘۔

انہوں نے کہا ریفرنس میں ایک ایسے مقدمےکا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس کا فیصلہ پانچ ججوں نے کیا تھا لیکن وہ ہرگز یہ نہیں کہہ رہے کہ باقی ججوں کے خلاف ریفرنس کیوں نہیں دائر نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس کے وکیل اپنے دلائل دے رہے تھے کہ عدالت کا وقت ختم ہو گیا۔ مقدمے کی کارروائی منگل کے روز بھی جاری رہے گی۔

جسٹس افتخار جسٹس کا بیانِ حلفی
جسٹس افتخار کے بیانِ حلفی کا مکمل متن
منیر اے ملکوکلاء کے لیے چیلنج
منیراے ملک نئے بینچ سے غیرمطمئن ہیں
حماد رضا کے والد سید امجد حسین حماد کا قتل کیوں ہوا
’چیف جسٹس کو میرے بیٹے پر بہت اعتماد تھا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد