عباد الحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | دستور کے تحت صدر جنرل پرویز مشرف کی حیثیت ایک ڈاک خانہ جیسی ہے: وفاقی وکیل |
وفاقی حکومت کے وکیل جسٹس (ر) ملک محمد قیوم نے کہا ہے کہ اگر سپریم کورٹ یہ فیصلہ دیتی ہے کہ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر کردہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی تھا تو اس صورت میں وزیراعظم کو سوچنا ہوگا کہ ان کو اپنے منصب پر فائز رہنا چاہئے یا نہیں۔ جسٹس (ر) ملک محمد قیوم نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دستور کے تحت صدر جنرل پرویز مشرف کی حیثیت ایک ڈاک خانہ جیسی ہے اور صدرمملکت نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر یہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کو بجھوا کر اپنی آئینی ذمہ داری پوری کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ٰ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے تو اس صورت پر صدر مملکت جنرل پرویز مشرف کو استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ صدر مشرف نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوایا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ مہذب معاشرے میں جب کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری کسی نہ کسی کو تو قبول کرنی ہوتی ہے لیکن پاکستان میں ایسا کوئی رواج نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کے بیان حلفی اور اس کے خلاف تین مختلف حلفی بیانات سے عجیب صورت حال پیدا ہوگئی ہے اور اب عدالت کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کون سچ بول رہا ہے اور کون سچ نہیں بول رہا ۔ ان کے بقول اس بات کا فیصلہ کرنے کے لئے چیف جسٹس پاکستان یا پھر ان کے بیان حلفی کے خلاف حلفیہ بیانات دینے والے ملٹری انٹیلیجنس یا انیٹیلیجنس بیورو کے حکام کو طلب کیا جاسکتا ہے۔ ملک قیوم کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی افسوسناک صورت ہوگی جب چیف جسٹس پاکستان کو طلب کرنے کی صورت پر وکیل ان پرجرح کریں کیونکہ عدالت میں طلبی کے بعد کوئی وکیل ان پر جرح بھی کرسکتا ہے۔ ان کے بقول اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ پاکستان کی تاریخ میں عجیب صورت حال ہوگی۔ |