BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 June, 2007, 09:14 GMT 14:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وفاداری کا نیا حلف

صدر مشرف (فائل فوٹو)
صدر مشرف یقینا اس تکلیف دہ حقیقت سے آگاہ ہونگے کہ اقتدار کی جس گاڑی پر وہ سوار ہیں اس کی چابی کور کمانڈروں کے ہاتھ میں ہے
پاکستانی فوج کے کور کمانڈروں کو ملک کا طاقتور ترین سیاسی گروہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ گروہ باقاعدگی سے ملتا ہے، ملک کی اندرونی و بیرونی صورتحال کا جائزہ لیتا ہے اور حکومتی پالیسیوں پر اپنی رائے دیتا ہے۔

اس گروہ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے ہر اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے رسمی بیان کو بھی انتہائی باریک بینی سے پرکھا جاتا ہے ۔ اگر مبصرین کو اجلاس سے متعلق بیان میں دو نکتے بھی فالتو نظر آ جائیں تو حکومت وقت کا مستقبل شک و شبہات میں پڑ جاتا ہے۔

بے پناہ سیاسی قوت کے مالک یہ کور کمانڈر پاکستان میں ہونے والی ہر فوجی بغاوت کا سر چشمہ رہے ہیں۔ صدر مشرف نے بھی انہیں کے بل بوتے پر شریف حکومت سے بغاوت کی ۔ ان کی وفاداری صرف اور صرف فوج کے سربراہ سے ہوتی ہے اور یہ کسی سیاسی حکومت کو خاطر میں نہیں لاتے۔

پاکستان کی مختصر تاریخ میں سیاسی حکومتوں کے خلاف تین بڑی فوجی بغاوتیں ہو چکی ہیں جبکہ اس فوج نے کبھی اپنی عسکری قیادت کے خلاف بظاہر کوئی باغیانہ قدم نہیں اٹھایا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ فوج کا سربراہ کور کمانڈروں کے سیاسی نظریات سے بے پرواہ ہوتا ہے۔

جنرل ضیاالحق کے بعد فوج کے سربراہ بننے والے جنرل اسلم بیگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 1988 میں بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کرنے پر بالکل قائل نہ تھے لیکن انہیں ایسا کرنا پڑا کیونکہ کسی دوسرے آپشن کے لیے ان کے پاس کور کمانڈروں کی حمایت نہ تھی۔

News image
 جنرل ضیاالحق کے بعد فوج کے سربراہ بننے والے جنرل اسلم بیگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ 1988 میں بینظیر بھٹو کی منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کرنے پر بالکل قائل نہ تھے لیکن انہیں ایسا کرنا پڑا کیونکہ کسی دوسرے آپشن کے لیے ان کے پاس کور کمانڈروں کی حمایت نہ تھی

ایسی ہی مثال جنرل جہانگیر کرامت کے دور میں بھی ملتی ہے۔ اس وقت کے کور کمانڈر شریف حکومت کے خلاف چلنے کو تیار تھے لیکن جنرل کرامت نے جب کوئی غیر آئینی قدم اٹھانے سے انکار کر دیا تو انہیں وقت سے پہلے استفعی دے کر گھر جانا پڑا۔

اور پھر جب نواز شریف نے اپنی برادری کے جنرل ضیاالدین بٹ کو فوج کا سربراہ بنانے کی کوشش کی تو کور کمانڈروں میں ان کی غیر مقبولیت کو استعمال کرتے ہوئے صدر مشرف نے با آسانی ان کی حکومت کی بساط لپیٹ دی۔ اس کے بعد انہوں نے خود کہا کہ جنرل بٹ کی تقرری سے فوج میں بغاوت ہو سکتی تھی۔

صدر مشرف یقینا اس تکلیف دہ حقیقت سے آگاہ ہونگے کہ اقتدار کی جس گاڑی پر وہ سوار ہیں اس کی چابی ان کے کور کمانڈروں کے ہاتھ میں ہے۔ شاید اسی لیے انہوں نے اپنی موجودہ مشکلات سے نبٹنے کے لیے اپنی کور کمان سے دفاداری کا ایک نیا حلف لینا ضروری سمجھا۔ لیکن کیا ایسا کرنے سے ان کے مسائل حل ہو جائیں گے؟

پاکستان کے زیادہ تر مبصرین شاید اس سوال کا جواب نفی میں دیں کیونکہ یہ حلف ایک پیشہ وارانہ حلف نہیں تھا۔ اس حلف کے محرکات فوج کے پیشہ وارانہ امور سے کم اور صدر مشرف کی سیاست اور اقتدار سے زیادہ جڑے تھے۔

News image
صدر مشرف حالات پر اپنی گرفت کھو چکے ہیں۔ طالبان اسلام آباد میں دندنا رہے ہیں، چیف جسٹس کے معاملے پر پوری قوم ان سے نالاں ہے، انتظامیہ بڑھتی ہوئی لاقانونیت کے سامنے بے بس ہے، اقربا پروری کا دور دورہ ہے لیکن صدر مشرف کی تمام تر توجہ صرف اور صرف اپنے اقتدار کے دوام پر ہے

پتہ نہیں صدر مشرف کو یہ سبق یاد ہوا کہ نہیں لیکن سیاستدان یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اقتدار بنیادی طور پر ایک سیاسی جانور ہوتا ہے جو حقیقت کے نہیں بلکہ سیاسی حقیقت کا طابع ہوتا ہے۔ اور حقیقت کے بر عکس سیاسی حقیقت ایک نہایت خطرناک دو دھاری تلوار ہوتی ہے۔ جہاں وہ آمرانہ طرز حکومت کے دوام میں مدد دیتی ہے وہاں اس کا بے قابو ہو جانا طاقتور ترین حکمران کو بھی لے بیٹھتا ہے۔

صدر مشرف نے بھی اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے لیے ایک مخصوص سیاسی حقیقت تخلیق کی۔ اس حقیقت کے مطابق ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا تھا، قومی وحدت پارہ پارہ تھی اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم تھا۔

حقیقت کیا تھی کوئی نہیں جانتا۔ لیکن صدر مشرف کی تخلیق کردہ سیاسی حقیقت نے ان کی خوب خدمت کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی کہنے لگے کہ اگر صدر مشرف نہ ہوتے تو خدا جانے کیا ہوتا۔ سات آٹھ سال تک اس سیاسی حقیقت کا نشانہ بننے والی حزبِ اختلاف کو آخر کار چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی سے ایک مشرف مخالف سیاسی حقیقت تخلیق کرنے کا موقع ملا۔ یہ کیا حقیقت ہے؟

یہی کہ صدر پرویز مشرف حالات پر اپنی گرفت کھو چکے ہیں۔ طالبان اسلام آباد میں دندنا رہے ہیں، چیف جسٹس کے معاملے پر پوری قوم ان سے نالاں ہے، انتظامیہ بڑھتی ہوئی لاقانونیت کے سامنے بے بس ہے، اقربا پروری کا دور دورہ ہے لیکن صدر مشرف کی تمام تر توجہ صرف اور صرف اپنے اقتدار کے دوام پر ہے۔

’مشرف کا وعدہ‘
اس وقت پورے ملک میں عمومی تاثر یہی ہے کہ کور کمان سے لیے گئے حلف کی حیثیت بالکل اس وعدے جیسی ہے جس کے تحت صدر مشرف کو کئی سال پہلے اپنی وردی اتار دینی چاہیے تھی

اس سیاسی حقیقت میں کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ اہم بات یہ ہے کہ عوام کی نظر میں چیف جسٹس افتخار چودھری کی معطلی کے بعد صدر مشرف ایک فوجی حکمران کی بجائے بہت سی خود ساختہ مشکلات میں گھرے ایک عام سیاستدان نظر آنے لگے ہیں جو بوقت ضرورت وہ تمام سیاسی حربے جن پر فوج ہمیشہ تنقید کرتی رہی ہے استعمال میں لانے سے گریز نہیں کریں گے۔

کور کمان سے لیے گئے حلف نے عام تاثر یہی پیدا کیا ہے کہ صدر مشرف نے یہ قدم فوج پر عوام کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کے پیش نظر اٹھایا ہے۔ شاید وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کے کمانڈروں میں سے کوئی ان سے کہے کہ فوج پر ہونے والی تنقید دراصل فوجی سربراہ کے سیاسی کردار پر تنقید ہے جس سے پوری فوج بدنام ہو رہی ہے۔ اور وہ یقینا نہیں چاہتے ہونگے کہ ملک کے اس طاقتور ترین سیاسی پلیٹ فارم سے یہ تجویز آئے کہ کیوں نہ فوجی سربراہ کو سیاست سے نکال کر پورے ادارے کو بے جا تنقید سے بچایا جائے۔

سوال پھر وہی اٹھتا ہے کہ کیا یکم جون کو حاصل کیا گیا حلف وفاداری ان جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کافی ہے؟ شاید ہو، لیکن اس وقت پورے ملک میں عمومی تاثر یہی ہے کہ کور کمان سے لیے گئے حلف کی حیثیت با لکل اس وعدے جیسی ہے جس کے تحت صدر مشرف کو کئی سال پہلے اپنی وردی اتار دینی چاہیے تھی۔

 جسٹس افتخار چودھری ہڈی اور سیاسی گلے
جسٹس افتخارگلے کی’ہڈی‘ بنتے جا رہے ہیں
جنرل اور سیاست
مشرف عوامی کٹہرے میں، انجام کیا ہوگا؟
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
احتجاج’خواہش کی قبر‘
صدارت محفوظ، سیاسی عزائم کا پتہ نہیں؟
اسی بارے میں
’سیاسی خواہش کی قبر‘
15 March, 2007 | قلم اور کالم
رب جانے یا مشرف
09 May, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد