’ کور کمانڈرز کا بیان سب خبروں پر بھاری‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدوں کی حمایت میں کور کمانڈرز کا بیان پاکستان کے سیاسی تالاب میں پھینکا ہوا ایسا پتھر لگ رہا ہے جس سے پیدا ہونے والی لہروں کی شدت ہر جگہ محسوس ہور ہی ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے حامی اُسے اپنی عینک سے دیکھتے ہوئے مطلب نکال رہے ہیں تو صدر کے مخالف سیاستدان اُسے صدر کی دباؤ، اضطرابی اور بے چینی والی کیفیت سے تعبیر کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے میں ویسے تو فوج پر حزب مخالف اور سول سوسائٹی کی جانب سے سخت تنقید، سپریم کورٹ کے مقتول ایڈیشنل رجسٹرار کے قاتل پکڑے جانے کا حکومتی دعویٰ اور فوج کے کاروباری مفادات کے بارے میں کتاب کے اجراء اور اس میں حکومتی رکاوٹوں جیسی خبریں سننے کو ملیں لیکن کور کمانڈرز کا بیان سب پر بھاری نظر آرہا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور میں غالبا یہ پہلا موقع ہے کہ انہیں اپنے صدر اور آرمی چیف کے دو عہدوں پر فائز رہنے کے لیے کور کمانڈرز کی اعلانیہ حمایت کی ضرورت پڑی۔ مسلم لیگ نواز کے سرکردہ رہنما چودھری نثار علی خان کے بقول اگر یہ کور کمانڈرز کا اجتماعی بیان ہے تو اس اجلاس کی کارروائی عوام کے سامنے لائی جائے تا کہ معلوم ہو کہ کس جنرل نے کیا کہا؟ چودھری نثار کے مطابق کور کمانڈرز کا صدر کے حق میں بیان جنرل پرویز مشرف کا آخری ترپ کا پتہ ہے جو وہ کھیل چکے۔ چودھری نثار کے علاوہ بیشتر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صدر کے ترکش میں اب گِنتی کے تیر بچ گئے ہیں۔ کور کمانڈرز کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اعتزاز احسن کی پیش کردہ ’تھیوری‘ کچھ حلقوں میں مقبول ہو رہی ہے۔ چھبیس مئی کو اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ میں وکلاء کے سیمینار نما جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قائد اعظم پاکستان کو عوامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے لیکن فوجی جرنیلوں نے پچاس کی دہائی میں اس ملک کو قومی سلامتی کی ریاست بنا ڈالا جس میں ان کے بقول ریاست کی ذمہ داری محض پانچ لاکھ فوج کی فلاح بنا دی گئی۔ اعتزاز احسن کا خیال ہے کہ جب پاکستان سکیورٹی سٹیٹ بنا تو پھر اس کے جواز کے لیے دشمن کی تلاش شروع ہوئی۔ ان کے بقول انیس سو پینسٹھ میں رن کچھ پر حملے اور پھر جنگ کے بعد بھارت کو پاکستان نے اپنا دشمن بنایا ۔ بھارت اس سے پہلے غیر دوست ملک تھا دشمن ملک نہیں تھا۔ کچھ مبصر مانتے ہیں کہ اعتزاز احسن کی اس تقریر نے فوج کو ’لائن آف فائر‘ پر لا کھڑا کیا اور صدر جنرل پرویز مشرف کو آگ بگولا کردیا۔ جس سے ایک طرف حکومت کو میڈیا پر قدغن لگانی پڑی اور سپریم کورٹ میں وکلاء کے خلاف مقدمہ دائر کرنا پڑا تو دوسری طرف صدر کو کور کمانڈرز کا اجلاس بلا کر اپنے لیے اعلانیہ حمایت حاصل کرنی پڑی۔ اس دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے مقدمے کی سماعت اہم مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ایک طرف عدالت اعظمیٰ کے فل کورٹ میں معاملہ قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ ہونے کو ہے اور دوسری طرف حکومت نے الیکٹرونک میڈیا کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہوئے براہ راست نشریات کے لیے پیشگی اجازت جیسی تلوار سر پر لٹکا دی ہے۔ لیکن حکومت کے ایسے اقدامات کا نتیجہ الٹا دکھائی دے رھا ہے۔ جہاں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی فوج کے تجارتی مفادات کے متعلق کتاب ہاتھوں ہاتھ بک رہی ہے وہیں چیف جسٹس کے سنیچر کو ایبٹ آباد روانہ ہونے والےجلوس کے شرکاء کی تعداد اور ان کے جوش و خروش میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا۔ چیف جسٹس کے جلوسوں کی براہ راست کوریج اور فوج پر تنقید کی وجہ سے میڈیا پر قدغن اور فوج کے تجارتی مفادات کی تفصیلات پر مبنی کتاب کی تقریب پر پابندی سے حکومت کی ملک کے اندر اور باہر جتنی بدنامی ہوئی اس کا اندازہ اپنی کامیابی کی بغلیں بجانے والے حکومتی میڈیا مینیجرز کو شاید کبھی سمجھ نہ آ سکے۔ | اسی بارے میں ’کورکمانڈروں کا مشرف پر اعتماد‘01 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||