BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 June, 2007, 12:55 GMT 17:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خبروں پر چیف جسٹس کی ’پریشانی‘

چیف جسٹس سے ملاقات کے دوران صدر مشرف باادب اور پرسکون رہے

انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ بریگیڈئر (ریٹائرڈ) اعجاز احمد شاہ نے سپریم کورٹ کو دیئے گئے اپنے بیان حلفی میں کہا ہے کہ ان کے چیف جسٹس کے ساتھ اس وقت سے اچھے تعلقات تھے جب وہ پنجاب میں ہوم سیکرٹری کے طور پر کام کر رہے تھے۔

’انٹیلیجنس بیورو کے ڈائریکٹر جنرل بننے کے بعد بھی میرے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے مراسم انتہائی دوستانہ رہے ہیں‘۔


انہوں نے کہا کہ ان کی چیف جسٹس سے ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں، جس کے دوران دفتری کاموں کے علاوہ ملک کی سیاسی صورتحال اور سپریم کورٹ میں دائر مقدمات کے بارے میں بات چیت ہوتی رہتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ کئی دفعہ چیف جسٹس سے ملاقات کرنےگئے جبکہ کئی دفعہ چیف جسٹس خود ان سے ملاقات کرنے آئے۔

خبروں پر پریشانی
 چیف جسٹس اپنے خلاف چھپنے والی خبروں سے پریشان تھے اور انہوں نے انہیں کہا کہ وہ تحقیق کریں اور ان خبروں کو چھپنے سے روکوانے میں ان کی مدد کریں
ڈاریکٹر جنرل آئی بی

بریگیڈئر اعجاز شاہ نے کہا کہ چیف جسٹس اپنے خلاف چھپنے والی خبروں سے پریشان تھے اور انہوں نے انہیں کہا کہ وہ تحقیق کریں اور ان خبروں کو چھپنے سے روکوانے میں ان کی مدد کریں۔

انہوں نے کہا وفاقی حکومت نے بھی انہیں چیف جسٹس کے خلاف خبریں چھپنے کے معاملے کی چھان بین کرنے کا کہا تھا، کیونکہ چیف جسٹس نے تیرہ فروری کو صدر جنرل مشرف سے ملاقات کے دوران اپنے خلاف چھپنے والی خبروں کی شکایت کی تھی۔

بریگیڈئر اعجاز شاہ نے کہا کہ نو مارچ کو ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی ایم آئی کے ہمراہ چیف جسٹس اور صدر کی ملاقات کے موقع پر وہ بھی موجود تھے۔ ’ چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ ان کے مستعفی ہونے سے انکار پر جنرل مشرف طیش میں آ گئے تھے حقائق پر مبنی نہیں ہے‘۔

انہو ں نے کہا کہ چیف جسٹس سے ملاقات کے دوران صدر جنرل پرویز مشرف باادب اور پرسکون رہے اور کسی موقع پر نہ تو غصے اور نہ ہی طیش میں آئے۔

انہوں نے کہا صدر پرویز مشرف کے چلے جانے کے بعد وہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے سربراہ کے ساتھ چیف جسٹس سے بات چیت کرتے رہے۔ تین بجے ڈی جی آئی ایس آئی اور وہ صدر کے کیمپ آفس سے چلے آئے تو ڈی جی ایم آئی اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔

جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
اخبارات’نہ جھکنے پر فارغ‘
چیف جسٹس کی معطلی پر اخبارات کے اداریے
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد