’اسمبلیاں توڑنے کا مشورہ دیا گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے بیان حلفی کے جواب میں حکومت نے جمعرات کو ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے سربراہوں سمیت کئی سرکاری اہلکاروں کے حلفیہ بیانات جمع کرائے ہیں۔ حلفیہ بیانات دینے والے اہلکاروں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ نو مارچ کو صدر نے چیف جسٹس کو ملاقات کے لیے بلایا تھا۔ بیانات کے مطابق نہ صرف ملاقات کا مطالبہ چیف جسٹس کی جانب سے ہوا تھا بلکہ ان کے ملاقات پر اصرار کی وجہ سے صدر کو کراچی جانے کے پروگرام میں بھی تبدیلی کرنا پڑی تھی۔
حلفیہ بیانات میں الزام لگایا گیا ہے کہ چیف جسٹس سرکاری ملازمین کو اپنے دفتر میں طلب کر کے غیر قانونی کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے۔ حلفیہ بیانات جمع کرانے والوں میں صدر جنرل پرویز مشرف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) حامد جاوید، ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلیجنس میجر جنرل میاں ندیم اعجاز، ڈائریکٹر جنرل انٹیلیجنس بیورو بریگیڈئر (ریٹائرڈ) اعجاز شاہ اور سنٹرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین عبداللہ یوسف شامل ہیں۔ حکومت کی طرف سے جمع کرائے گئے حلفیہ بیانات میں نو مارچ کو صدر کے کیمپ آفس میں ہونے والی ملاقات کا احوال اور چیف جسٹس پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا گیا ہے۔ حلفیہ بیانات کے ذریعے حکومت یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس کی وجہ ان کی طرف سے اختیارات کا ناجائز استعمال ہی تھا۔ بیانات میں یہ بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس اور صدر مشرف کے درمیان ملاقاتیں کن تاریخوں کو ہوئیں۔ ججوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹ، چیف جسٹس کی طرف سے ماتحت ججوں کو مبینہ طور پر دھمکانے اور مختلف اعلیٰ سرکاری اہلکاروں سے رابطوں کا ذکر بھی ہے۔ صدر مشرف کے چیف آف سٹاف جنرل حامد جاوید نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار چودھری صدر سے ملاقاتیں کرتے رہتے تھے اور سات اکتوبر 2004 سے نو مارچ 2007 تک دونوں شخصیات کے درمیان دس ملاقاتیں ہوئیں، جن میں سے دو جسٹس افتخار کے بطور جج اور آٹھ بحیثیت چیف جسٹس کے تھیں۔ جنرل حامد کے حلف نامے میں چیف جسٹس پر لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے پندرہ دیگر سرکاری اہلکاروں کے بیانات حلفی بھی منسلک کیے گئے ہیں۔ صدر کے چیف آف سٹاف نے اپنے بیان حلفی میں تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ چیف جسٹس کے کہنے پر جب ان کے خلاف چھپنے والی خبروں کی تحقیقات کی گئیں تو ایسے حقائق سامنے آئے جن کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرنا پڑا۔
ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ میجر جنرل میاں ندیم اعجاز نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ ان کے چیف جسٹس کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے۔ ایک دفعہ ان کے کہنے پر ملاقات ہوئی تو انہوں نے سیاسی معاملات پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلیاں درد سر بن گئی ہیں اور صدر کو انہیں برخاست کر دینا چاہیے اور خود کو عبوری حکومت کے سربراہ کے طور پر پیش کیا۔ انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ بریگیڈئر اعجاز شاہ نے اپنے بیان حلفی میں کہا ہے کہ ان کے چیف جسٹس کے ساتھ اس وقت سے اچھے تعلقات تھے جب وہ پنجاب میں ہوم سیکرٹری کے طور پر کام کر رہے تھے اور دونوں کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں ہمیشہ خوشگوار رہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک ملاقات میں چیف جسٹس نے انہیں اپنے خلاف چھپنے والی بعض خبریں رکوانے کے لیے بھی کہا تھا۔ سینٹرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین عبداللہ یوسف کا بیان حلفی صدر کے چیف آف سٹاف جنرل حامد جاوید کے بیان حلفی کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ سی بی آر کے چیئرمین نے اپنے بیان حلفی میں کہا ہے کہ چیف جسٹس نے انہیں اپنے دفتر میں بلا کر کہا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس جہانزیب کے مقدمے پر انہوں نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے اگر حکومتی حلقوں میں بات ہو تو وہ (عبداللہ یوسف) اس کی وضاحت کریں۔ |
اسی بارے میں سیمینار کیس: نئے بینچ کی تشکیل03 June, 2007 | پاکستان ’عدلیہ عوامی اعتماد حاصل کرے‘02 June, 2007 | پاکستان ’خلیفہ سے سوال ہوسکتا تومشرف سے کیوں نہیں‘29 May, 2007 | پاکستان ’جو ہوا اسکی تہہ تک جاناچاہتے ہیں‘28 May, 2007 | پاکستان نتائج کی پرواہ نہیں: سپریم کورٹ28 May, 2007 | پاکستان کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی: اعتزاز27 May, 2007 | پاکستان ’تمیزالدین کیس کا حوالہ نہ دیں‘22 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کی واپسی، ہنگاموں میں 34 ہلاک12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||