BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 June, 2007, 11:52 GMT 16:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اڑھائی سال میں دس ملاقاتیں ہوئیں

جسٹس افتخار اور جنرل مشرف
چیف جسٹس کے اصرار پر نو مارچ کے روز دن کے گیارہ بج کر پینتیس منٹ پر ملاقات کا وقت طے کر دیا گیا

صدر مشرف کے چیف آف سٹاف جنرل حامد جاوید نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار چودھری صدر سے ملاقاتیں کرتے رہتے تھے اور سات اکتوبر 2004 سے نو مارچ 2007 تک دونوں شخصیات کے درمیان دس ملاقاتیں ہوئیں، جن میں سے دو جسٹس افتخار کے بطور جج اور آٹھ بحیثیت چیف جسٹس کے تھیں۔

ان کے بقول آٹھ مارچ کو چیف جسٹس نے صدر کے ملٹری سیکرٹری سے رابطہ کر کے صدر سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ صدر نو مارچ کو کراچی جا رہے ہیں اور فوری ملاقات ممکن نہیں۔ تاہم چیف جسٹس کے اصرار پر نو مارچ کے روز دن کے گیارہ بج کر پینتیس منٹ پر ملاقات کا وقت طے کر دیا گیا۔


جنرل حامد جاوید کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے جج جسٹس جہانزیب رحیم کی درخواست کا معاملہ صدر نے نہیں بلکہ چیف جسٹس نے خود ہی ان کے سامنے اٹھایا۔ ان کے مطابق صدر نے اس سے قبل جسٹس جہانزیب کی شکایت پر مبنی فائل دیکھی ہی نہیں ہوئی تھی۔

انہوں نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ خفیہ اداروں ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے سربراہوں کے ساتھ چیف جسٹس کے دوستانہ مراسم تھے اور ایک دفعہ انہوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ سے بھی ملاقات کی تھی۔

چار دن تین سو کالز
 جسٹس افتخار کے بیٹے کے موبائل پر نو مارچ شام پانچ بجے سے لیکر تیرہ مارچ تک تین سو کے لگ بھگ کالز سنی اور کی گئی اور فون کرنے والوں میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی شامل تھے
جنرل حامد جاوید

جنرل حامد نے الزام لگایا ہے کہ جنوری 1999 میں بلوچستان ہائیکورٹ میں تعیناتی کے دوران جسٹس افتخار نے کراچی میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ سکیم فیز II میں غیر قانونی طور پر پلاٹ حاصل کیا جبکہ پٹرول کی مد میں حکومت سے کوئٹہ کے ایک ایسے فِلنگ سٹیشن کی رسیدیں دکھا کر لاکھوں روپے وصول کیے جہاں صرف ڈیزل فروخت ہوتا تھا۔

انہوں نے چیف جسٹس پر قوانین کے خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے اہل خانہ کے لیے سفری و رہائشی اخراجات وصول کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس کی طرف سے لگائے گئے الزام کہ نو مارچ کے بعد ان کے ٹیلیفون منقطع کر دیئے گئے تھے کی تردید کرتے ہوئے اپنے بیان حلفی میں لکھا ہے کہ جسٹس افتخار کے بیٹے کے موبائل پر نو مارچ شام پانچ بجے سے لیکر تیرہ مارچ تک تین سو کے لگ بھگ کالز سنی اور کی گئی اور فون کرنے والوں میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف بھی شامل تھے۔

صدر کے چیف آف سٹاف نے چیف جسٹس پر ججوں کو ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپنے بیان حلفی میں کہا ہے کہ وہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اختر شبیر، جسٹس شیخ عبداللہ، جسٹس عبدالشکور پراچہ اور جسٹس شبر رضا رضوی، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عارف حسین خلجی، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس افضل سومرو اور پشاور ہائیکورٹ ک جسٹس شاہجہان خان، جسٹس اعجازالحسن خان اور جسٹس جہانزیب رحیم کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنا چاہتے تھے۔

موبائل’گو مشرف گو‘
صدر کے خلاف احتجاج ’موبائل‘ ہو گیا
 جسٹس افتخار چودھری ہڈی اور سیاسی گلے
جسٹس افتخارگلے کی’ہڈی‘ بنتے جا رہے ہیں
جسٹس صبیح’جج اور صحافی برابر‘
ججوں کو بھی دھمکیاں ملتی ہیں: جسٹس وجیہ
قانونی نکات
جسٹس افتخار کی پیٹیشن کے قانونی نکات
داتو پرام کمارا سوامے جیورسٹس کمیشن
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی پر تشویش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد