’دلائل سنتے سنتے تھک چکے ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا ہے کہ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق دلائل سن سن کی تنگ آ چکے ہیں اور وکلاء کو چاہیئے کہ وہ اپنے دلائل جلد ختم کریں۔ منگل کے روز جب سماعت شروع ہوئی تو تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ایڈوکیٹ مجیب پیرزادہ سے کہا کہ وہ اگر گزشتہ پندرہ روز سے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل سن رہے ہیں اور وکلاء نے اسی انداز میں دلائل جاری رکھے تو اگلے چھ مہینے تک یہ مقدمہ ختم نہیں کر پائیں گے۔ ایڈوکیٹ مجیب پیرزادہ کا موقف ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف کارروائی کی وجہ سٹیل ملز کی نجکاری سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ مجیب پیرزادہ نے کہا چیف جسٹس کے معاملے کو صیح انداز میں نہیں نپٹایا گیا اور معاملہ اگر آئی ایس آئی کے حوالے نہ کیا جاتا تو ریفرنس دائر ہونے کے بعد چیف جسٹس کے پاس سپریم کورٹ چھوڑنے کےعلاوہ کوئی دوسرا راستہ نہ بچتا۔ مجیب پیرزادہ نے کہا کہ ملک کسی نئے مارشل لاء کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ’نئے مارشل لاء میں ایک نیا جنرل فریش پاکٹس (خالی جیبوں) کے ساتھ آ جائے گا۔‘ اس موقع پر چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن اٹھے اور کہا کہ مجیب پیرزادہ ’اطمینان رکھیں اب ملک میں مارشل لاء نہیں لگے گا اور اگر کسی نے مارشل لاء لگانے کی کوشش کی تو عوام مزاحمت کریں گے۔‘ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ جن لوگوں نے لاہور اور ایبٹ آباد میں چیف جسٹس افتخار چودھری کے والہانہ استقبال دیکھے ہیں انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ عوام اب مارشل لاء کو کسی صورت میں برداشت نہیں کریں گے۔ اس پر مجیب پیرزادہ نے کہا کہ چودھری اعتزاز احسن بڑے صوبے سےتعلق رکھتے ہیں اور وہ ایسی باتیں کر سکتے ہیں۔’ ہم تو چھوٹے صوبے کے لوگ ہیں اور ایسے دعوے نہیں کر سکتے۔‘ جب مجیب پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وہ حیران ہیں کہ سارے جج خاموش بیٹھے ہیں اور کوئی سوال بھی نہیں پوچھ رہا تو بینچ کے سربراہ نے کہا کہ تمام جج صاحبان گزشتہ پندرہ دنوں سے ایک جیسے ہی دلائل سن سن کر تھک چکے ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے عدالت سے کہا کہ متاثرہ فرد ان کے موکل ہیں اور دوسرے وکلاء کے دلائل اتنے اہم نہیں ہیں۔
مجیب پیرزادہ نے کہا کہ وہ اعتزاز احسن کی باتوں کا برا نہیں مناتے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ اعتزاز احسن کو عدالت سے درخواست کرنی چاہیے تھی کہ چیف جسٹس کو عبوری طور پر بحال کر دیا جائے کیونکہ ایسے مقدمات طویل عرصے تک چلتے ہیں۔ اعتزاز احسن نے مجیب پیرزادہ سے کہا کہ آپ چیف جسٹس کی عبوری بحالی کی درخواست کر کے دیکھ لیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وکلاء کو آپس میں بیٹھ کر طے کرنا چاہیے کہ کس نے کتنی دیر دلائل دینے ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اگر عدالت نے فیصلہ کر لیا کہ درخواستیں سماعت کے قابل ہیں تو پھر وکلاء کو اتنی کھلی چھٹی نہیں ہوگی اور ہر وکیل کو ایک مقررہ وقت دیا جائے گا جس کے اندر اسے اپنے دلائل مکمل کرنے ہوں گے۔ جسٹس اعجاز احمد نے کہا کہ وکلاء کئی روز سے ماضی کے مقدموں کا حوالہ دے رہے ہیں جن کا کوئی فاہدہ نہیں ہوگا کیونکہ سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں آئین کی دفعات کی تشریح کرنی ہے۔ مجیب پیرزادہ نے جب درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق اپنے دلائل ختم کر لیے تو عدالت نے ڈاکٹر فاروق حسن کو دلائل شروع کرنے کی دعوت دی۔ ڈاکٹر فاروق حسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشیل کونسل ایک عدالتی ٹرائبیونل نہیں ہے اور وہ سپریم کورٹ کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ ڈاکٹر فاروق کا کہنا تھا کہ باوجود اس کے کہ انہوں نے سب سے پہلی درخواست دائر کی تھی لیکن اب عدالت بہت سارے وکلاء کو سن چکی ہے اس لیے وہ زیادہ وقت نہیں لیں گے۔ اس موقع پر کمونسٹ پارٹی کے صدر صدر انجنئیر جمیل ملک نے، جنہوں نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معطلی اور جبری چھٹی کو چیلنج کر رکھا ہے، کہا کہ وہ صرف دس منٹ میں اپنا مدعا بیان کر لیں گے۔ انجنئیر جمیل ملک نے کہا عدالتیں کہتی ہیں کہ کوئی شخص قانون سے بالا تر نہیں ہے لیکن حقیت یہ ہے اس ملک کے جرنیل قانون سے بالا تر ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان میں تین دفعہ آئین کو پامال کیا گیا ہے اور عدالت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس آئین کو پامالی کو روکے۔ جب درخواست گزاروں کے وکلاء نے اپنے دلائل ختم کیے تو وفاقی حکومت کے چار وکیل کھڑے ہوگئے اور اصرار کرنے لگے کہ وہ درخواست گزاروں کے وکلاء کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ وفاقی حکومت نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور اس سےمتعلق دوسری درخواستوں کی پیروی کے لیے تیرہ وکیل مقرر کیے ہیں۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ چونکہ تمام وکلاء وفاقی حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں اس لیے وہ صرف وکیل ملک قیوم کو ہی سنیں گے۔جسٹس رمدے نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت کے اتنے وکیلوں کو وقت نہیں دے سکتے۔
عدالت نے جب ملک قیوم سے کہا کہ وہ اگر وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو ملک قیوم نے ایڈوکیٹ احمد رضا قصوری سے کہا کہ وہ دلائل شروع کریں۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل در اصل ایک خصوصی عدالت ہے۔ اس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وہ کسی ایک ایسی عدالت کا حوالہ تو دیں جو صرف سفارش کر سکتی ہے اور وہ فیصلہ دینے کی طاقت نہیں رکھتی۔ جب احمد رضا قصوری نے عدالت سے کہا سپریم جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ سے بالا تر ہے اور سپریم کورٹ اس کے معاملات میں دخل دینے کی مجاز نہیں ہے، تو عدالت میں بیٹھے وکلاء نے ایک بے ساختہ قہقہ لگایا۔ تیرہ رکنی بینچ کے ایک رکن جسٹس جاوید بٹر نے کہا کہ ایسی دلیل صرف احمد رضا قصوری ہی دے سکتے ہیں۔ احمد رضا ابھی دلائل دے رہے تھے کہ عدالت کا وقت ختم ہو گیا۔ مقدمے کی سماعت کل (بدھ کو) بھی جاری رہے گی۔ |
اسی بارے میں سیمینار کیس: نئے بینچ کی تشکیل03 June, 2007 | پاکستان ’عدلیہ عوامی اعتماد حاصل کرے‘02 June, 2007 | پاکستان ’خلیفہ سے سوال ہوسکتا تومشرف سے کیوں نہیں‘29 May, 2007 | پاکستان ’جو ہوا اسکی تہہ تک جاناچاہتے ہیں‘28 May, 2007 | پاکستان نتائج کی پرواہ نہیں: سپریم کورٹ28 May, 2007 | پاکستان کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی: اعتزاز27 May, 2007 | پاکستان ’تمیزالدین کیس کا حوالہ نہ دیں‘22 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کی واپسی، ہنگاموں میں 34 ہلاک12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||