BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 03 June, 2007, 14:58 GMT 19:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سیمینار کیس: نئے بینچ کی تشکیل

سپریم کورٹ (فائل فوٹو)
تین رکنی بینچ وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت چار جون سے شروع کرے گا
قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے سپریم کورٹ میں وکلاء کے سیمینار سے متعلق وفاقی حکومت کی درخواست کی سماعت کے لیے ازسر نو سہ رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو سوموار سے درخواست کی سماعت کرے گا۔

پاکستان کے بعض اخبارات میں اس طرح کی خبریں شائع ہوئی تھیں کہ حکومت کی درخواست کی سماعت کے لیے تشکیل دیے جانے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے دو جج صاحبان نے بینچ میں بیٹھنے سے انکار کردیا تھا تاہم آزادانہ ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس نواز عباسی سہ رکنی بینچ کے سربراہ ہوں گے جبکہ اس کے دیگر ارکان میں جسٹس شاکر اللہ جان اور جسٹس تصدق حسین جیلانی شامل ہیں۔

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آڈیٹوریم میں وکلاء کے سیمینار میں بعض وکلاء کی تقاریر اور نعرہ بازی پر اعتراض کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو ایک شکایت بھیجی تھی کہ سیمینار میں بعض اداروں اور شخصیات کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے اور عدالت کو اس پر کارروائی کرنی چاہیے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ’ اختیارات کی تقیسم اور عدلیہ کی آزادی‘ کے عنوان سے سپریم کورٹ میں ایک سیمینار منعقد کیا تھا جس میں بعض وکلاء کی طرف سے سیاسی نعرہ بازی اور تقاریر ہوئی تھیں۔

جسٹس رانا بھگوان داس کی غیر موجودگی میں جسٹس جاوید اقبال قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ جسٹس جاوید اقبال نے قائم مقام چیف جسٹس کے حیثیت سے حکومت کی شکایت کو ایک باقاعدہ درخواست میں تبدیل کر اس کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے روبرو سماعت کے لیے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

 وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آڈیٹوریم میں وکلاء کے سیمینار میں بعض وکلاء کی تقاریر اور نعرہ بازی پر اعتراض کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو ایک شکایت بھیجی تھی کہ سیمینار میں بعض اداروں اور شخصیات کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے اور عدالت کو اس پر کارروائی کرنی چاہیے۔

درخواست کے سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ جسٹس نواز عباسی، جسٹس جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جسٹس سید سعید اشہد پر مشتمل تھا جس نے سوموار چار جون سے درخواست پر سماعت شروع کرنی تھی۔

قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے ملائیشیا سے واپسی پر جمعہ کو حکومت کی درخواست پر سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کواز سرنو تشکیل دیا ہے جس کے بعد اب درخواست پر پانچ رکنی بینچ کے بجائے تین رکنی بینچ سماعت کرے گا۔

نئے بینچ کے تینوں اراکین اس تیرہ رکنی فل کورٹ میں بھی شامل ہیں جو روزانہ کے بنیاد پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔

وفاقی حکومت کی درخواست کی سماعت کرنے والا تین رکنی بنچ چار جون کو اس وقت اپنی کارروائی کا آغاز کرے گا جب تیرہ رکنی فل کورٹ اپنی سماعت ختم کرلے گا۔

جسٹس افتخار جسٹس کا بیانِ حلفی
جسٹس افتخار کے بیانِ حلفی کا مکمل متن
ایڈووکیٹ عباد لودھی’شیم شیم‘
اسلام آباد میں وکیلوں کی ہڑتال، وکیل کی زبانی
چیف جسٹس افتخار چودھریجسٹس چودھری
آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ
مسئلہ کس کو تھا؟
افتخار محمد چوہدری کے ریکارڈ پر ایک نظر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد