سیمینار کیس: نئے بینچ کی تشکیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے سپریم کورٹ میں وکلاء کے سیمینار سے متعلق وفاقی حکومت کی درخواست کی سماعت کے لیے ازسر نو سہ رکنی بینچ تشکیل دیا ہے جو سوموار سے درخواست کی سماعت کرے گا۔ پاکستان کے بعض اخبارات میں اس طرح کی خبریں شائع ہوئی تھیں کہ حکومت کی درخواست کی سماعت کے لیے تشکیل دیے جانے والے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے دو جج صاحبان نے بینچ میں بیٹھنے سے انکار کردیا تھا تاہم آزادانہ ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ سپریم کورٹ کے جسٹس نواز عباسی سہ رکنی بینچ کے سربراہ ہوں گے جبکہ اس کے دیگر ارکان میں جسٹس شاکر اللہ جان اور جسٹس تصدق حسین جیلانی شامل ہیں۔ وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آڈیٹوریم میں وکلاء کے سیمینار میں بعض وکلاء کی تقاریر اور نعرہ بازی پر اعتراض کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو ایک شکایت بھیجی تھی کہ سیمینار میں بعض اداروں اور شخصیات کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے اور عدالت کو اس پر کارروائی کرنی چاہیے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ’ اختیارات کی تقیسم اور عدلیہ کی آزادی‘ کے عنوان سے سپریم کورٹ میں ایک سیمینار منعقد کیا تھا جس میں بعض وکلاء کی طرف سے سیاسی نعرہ بازی اور تقاریر ہوئی تھیں۔ جسٹس رانا بھگوان داس کی غیر موجودگی میں جسٹس جاوید اقبال قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ جسٹس جاوید اقبال نے قائم مقام چیف جسٹس کے حیثیت سے حکومت کی شکایت کو ایک باقاعدہ درخواست میں تبدیل کر اس کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے روبرو سماعت کے لیے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ درخواست کے سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ جسٹس نواز عباسی، جسٹس جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس جسٹس تصدق حسین جیلانی اور جسٹس سید سعید اشہد پر مشتمل تھا جس نے سوموار چار جون سے درخواست پر سماعت شروع کرنی تھی۔ قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے ملائیشیا سے واپسی پر جمعہ کو حکومت کی درخواست پر سماعت کرنے والے پانچ رکنی بینچ کواز سرنو تشکیل دیا ہے جس کے بعد اب درخواست پر پانچ رکنی بینچ کے بجائے تین رکنی بینچ سماعت کرے گا۔ نئے بینچ کے تینوں اراکین اس تیرہ رکنی فل کورٹ میں بھی شامل ہیں جو روزانہ کے بنیاد پر چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کر رہا ہے۔ وفاقی حکومت کی درخواست کی سماعت کرنے والا تین رکنی بنچ چار جون کو اس وقت اپنی کارروائی کا آغاز کرے گا جب تیرہ رکنی فل کورٹ اپنی سماعت ختم کرلے گا۔ |
اسی بارے میں ’بندوق بردار کو کیسے ہٹایا جائے‘30 May, 2007 | پاکستان ’خلیفہ سے سوال ہوسکتا تومشرف سے کیوں نہیں‘29 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کا حلف، بار کا بائیکاٹ28 May, 2007 | پاکستان کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی: اعتزاز27 May, 2007 | پاکستان ’تمیزالدین کیس کا حوالہ نہ دیں‘22 May, 2007 | پاکستان ’ کونسل میں مداخلت نہیں‘21 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||