’عدلیہ عوامی اعتماد حاصل کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ عدلیہ کو ایک ایسے مضبوط ادارے کے طور پر سامنے آنا چاہیے جس پر عوام اعتماد کر سکیں۔ ایبٹ آباد بار ایسوسی ایشن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس افتخار کا کہنا تھا کہ عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عدلیہ نہ صرف مناسب رویے بلکہ بلند حوصلے کا بھی مظاہرہ کرے کیونکہ عوام کا اعتماد حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ جسٹس افتخار نے اپنی تقریر میں بار اور بنچ کو انصاف کی گاڑی کے دو پہیے قرار دیا اور کہا کہ ان دونوں میں اگر ربط نہ رہے تو انصاف کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہمارا آئین اور ہمارا مذہب سب کو برابری کی نظر سے دیکھتا ہے۔اس میں کسی چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں اور تمام شہریوں کو برابر حقوق حاصل ہیں اس لیے ہر کسی کے ساتھ بلا امتیاز انصاف ہونا چاہیے‘۔ ایبٹ آباد میں چیف جسٹس کی تقریر سے قبل وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس افتخار چودھری کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ کورکمانڈرز کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ آئین میں ترمیم کریں اور وردی کی حمایت کریں کیونکہ آئین جنرل مشرف کو وردی اتارنے کا حکم دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب لوگوں کے حقوق غصب ہوں گے تو اداروں پر تنقید تو ہو گی اور جو تنقید سے بچنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اقتدار چھوڑ دے۔ سپریم کورٹ کے سیمینار میں وکلاء کی تقاریر پر حکومتی درخواست کے حوالے سے اعتزاز احسن نے کہا کہ عدلیہ کو کوئی بھی ایسا کام کرنے سے احتراز کرنا چاہیے جس سے یہ لگے کہ وہ حکومت کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔ جسٹس افتحار کے وکیل علی احمد کرد نے اپنی تقریر میں کہا کہ’ کورکمانڈرز کو ایک ریٹائرڈ جنرل کی بات نہیں بلکہ اس عوام کی بات سننی چاہیے جو کہہ رہے ہیں کہ ملک میں فوجی حکمرانی نہیں چلے گی‘۔انہوں نے یہ بھی کہا انہیں کہا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ سیمینار میں وکلاء نے توہینِ عدالت کی جبکہ ایسا کچھ نہیں اور وہ عدالت کے محافظ ہیں۔ حامد خان ایڈوکیٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک ایک ایسے دوراہے پر پہنچ چکا ہے جہاں فیصلہ کرنا ہو گا کہ یہاں آئین کی حکمرانی ہو گی یا فوج کی۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم نے فوج کو بندوق اس لیے نہیں تھمائی کہ وہ اسے اپنے ہی عوام پر تان لے۔ اس سے قبل جب چیف جسٹس اسلام آباد سے ایبٹ آباد تک قریباً ڈھائی گھنٹے کی مسافت ساڑھے چودہ گھٹنے میں طے کر کے ایبٹ آباد پہنچے تو وہاں ان کا استقبال کرنے والوں میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس طارق پرویز بھی شامل تھے۔
جسٹس افتخار ابیٹ آباد روانگی کے لیے صبح نو بجے اسلام آباد میں واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ سے نکلے تھے اور ان کا جلوس رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب ایبٹ آباد پہنچا۔ اس سفر کے دوران جگہ جگہ پر وکلاء سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں نے جسٹس افتخار کے جلوس کا والہانہ استقبال کیا اور جلوس پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ اس سفر کے دوران چیف جسٹس کا جلوس ہری پور میں بھی رکا تھا جہاں جسٹس افتخار کے وکلاء اعتزاز احسن، علی احمد کرد، حامد خان اور قاضی محمد انور نے وکلاء اور عوام کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کیا۔ اعتزاز احسن نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ کور کمانڈروں کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ جنرل مشرف کو بچا لیں گے اور’اب انہیں ہر دوسرے روز میٹنگ کرنا پڑے گی‘۔انہوں نے کہا کہ عوام اب سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں انصاف فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے کو اس کے منصب سے ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب کوئی طاقت عوام کا راستہ نہیں روک سکتی۔ چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ حکومت عدلیہ کے کچھ لوگوں کو وکلاء کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس سلسلے میں حامد خان اور علی احمد کرد کے خلاف کارروائی کا امکان ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو سب وکلاء ان کے بیانات کی تائید میں بیان حلفی داخل کرائینگے۔
اس موقع پر وکلاء اور سیاسی کارکنوں نے زبردست نعرے بازی کی۔ سرفہرست نعروں میں ’زندہ ہیں وکیل زندہ ہیں‘، ’کھال اتارو ملک سنوارو‘ اور ’چیف تیرے جانثار بے شمار بے شمار‘ جیسے نعرے شامل تھے۔ اس سے قبل وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 کے تحت پانچ یا اس سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی کے باوجود جسٹس افتخار کا قافلہ بغیر کسی رکاوٹ کے اسلام آباد کی سڑکوں سے ہوتا ہوا جی ٹی روڈ (جرنیلی سڑک) پر پہنچا تھا۔ پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر محمد علی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کی صورت میں کسی بھی قسم کا اجتماع کرنے والوں کو انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینا ہوتی ہے لیکن جسٹس افتخار کے حامیوں کی جانب سے ایسی کوئی اجازت طلب نہیں کی گئی۔تاہم جسٹس افتخار کے وکیل اعتزاز احسن کا مؤقف تھا کہ ایسی کسی اجازت طلب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں جسٹس قافلے کا بھرپور استقبال02 June, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار ایبٹ آباد پہنچ رہے ہیں02 June, 2007 | پاکستان سیمینار، سماعت فل بینچ کرےگا31 May, 2007 | پاکستان ’بندوق بردار کو کیسے ہٹایا جائے‘30 May, 2007 | پاکستان ’خفیہ اداروں کے سربراہ دباؤ ڈالتے رہے‘29 May, 2007 | پاکستان وکلاء کی جدوجہد، عوام بھی شامل26 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||