’اسمبلیاں توڑنے کا مشورہ دیا گیا تھا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ میجر جنرل میاں ندیم اعجاز نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ ان کے چیف جسٹس کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے۔ ایک دفعہ ان کے کہنے پر ملاقات ہوئی تو انہوں نے سیاسی معاملات پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلیاں درد سر بن گئی ہیں اور صدر کو انہیں برخاست کر دینا چاہیے۔ جنرل ندیم کے بقول اسمبلیوں کی برخاستگی کے بعد چیف جسٹس نے اپنی سربراہی میں انتخابات کرانے کی تجویز بھی دی اور یقین دلانے کی کوشش کی کہ اس طرح معاملات خوش اسلوبی سے نمٹ جائینگے۔ ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ کے مطابق چیف جسٹس نے ان سے اپنے خلاف چھپنے والی خبریں رکوانے کے لیے بھی کہا۔ ان کہ مطابق سات مارچ کو چیف جسٹس نے انہیں فون کیا کہ وہ اپنے خلاف کی گئی جسٹس جہانزیب رحیم کی شکایت کی تفصیلات جاننا چاہتے ہیں۔
جنرل ندیم کے مطابق انہوں نے اگلے روز جسٹس جہانزیب کی چیف جسٹس کے خلاف شکایت کی کاپی حاصل کر لی۔ آٹھ مارچ کی رات کو چیف جسٹس نے انہیں فون پر بتایا کہ جسٹس جہانزیب کی شکایت کے حوالے سے وہ نو مارچ کو صدر مشرف سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ان کے بقول نو مارچ کو صدر کے کیمپ آفس میں دوپہر ایک بجے سے دو بجے تک چیف جسٹس سے ملاقات کے دوران ان کے خلاف ریفرنس زیر بحث رہا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ ریفرنس کا سامنا کرینگے۔ دوپہر دو بجے صدر مشرف جمعہ نماز کے لیے تشریف لے گئے تو وزیر اعظم، صدر کے چیف آف سٹاف اور ملٹری سیکرٹری بھی ساتھ چلے گئے۔ اس کے بعد وہ (جنرل ندیم)، انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ اعجاز شاہ، آئی ایس آئی کے سربراہ اور چیف جسٹس کمرے میں رہ گئے اور ریفرنس کے نقاط پر بات چیت کرتے رہے۔ اس دوران کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔
چیف جسٹس نے چونکہ صدر اور وزیر اعظم پر بھی واضح کر دیا تھا کہ وہ ریفرنس کا سامنا کرینگے، اس لیے اس حوالےسے ان کے ساتھ کوئی بات نہ کی گئی اور نہ ہی ان کے سامنے کوئی مطالبات رکھے گئے۔ آئی ایس آئی اور آئی بی کے سربراہ تھوڑی دیر بعد رخصت ہو گئے۔ جنرل ندیم کے مطابق چیف جسٹس نے صدر سے ایک اور ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ صدر آرمی ہاؤس سے کراچی کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ اس پر صدر کے کراچی پہنچنے کا انتظار کیا جانے لگ گیا۔ لہذا یہ غلط ہے کہ چیف جسٹس کو ان کی مرضی کے خلاف صدارتی کیمپ آفس میں رکھا گیا تھا۔ ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ کے مطابق صدر مشرف کراچی پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ چیف جسٹس ان سے ایک اور ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن صدر نے معذرت کر لی۔ |
اسی بارے میں سیمینار کیس: نئے بینچ کی تشکیل03 June, 2007 | پاکستان ’عدلیہ عوامی اعتماد حاصل کرے‘02 June, 2007 | پاکستان ’خلیفہ سے سوال ہوسکتا تومشرف سے کیوں نہیں‘29 May, 2007 | پاکستان ’جو ہوا اسکی تہہ تک جاناچاہتے ہیں‘28 May, 2007 | پاکستان نتائج کی پرواہ نہیں: سپریم کورٹ28 May, 2007 | پاکستان کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی: اعتزاز27 May, 2007 | پاکستان ’تمیزالدین کیس کا حوالہ نہ دیں‘22 May, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کی واپسی، ہنگاموں میں 34 ہلاک12 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||