BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 June, 2007, 12:00 GMT 17:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسمبلیاں توڑنے کا مشورہ دیا گیا تھا‘

یہ غلط ہے کہ چیف جسٹس کو ان کی مرضی کے خلاف صدارتی کیمپ آفس میں رکھا گیا تھا

ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ میجر جنرل میاں ندیم اعجاز نے اپنے حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ ان کے چیف جسٹس کے ساتھ خوشگوار تعلقات تھے۔ ایک دفعہ ان کے کہنے پر ملاقات ہوئی تو انہوں نے سیاسی معاملات پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلیاں درد سر بن گئی ہیں اور صدر کو انہیں برخاست کر دینا چاہیے۔

جنرل ندیم کے بقول اسمبلیوں کی برخاستگی کے بعد چیف جسٹس نے اپنی سربراہی میں انتخابات کرانے کی تجویز بھی دی اور یقین دلانے کی کوشش کی کہ اس طرح معاملات خوش اسلوبی سے نمٹ جائینگے۔

ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ کے مطابق چیف جسٹس نے ان سے اپنے خلاف چھپنے والی خبریں رکوانے کے لیے بھی کہا۔ ان کہ مطابق سات مارچ کو چیف جسٹس نے انہیں فون کیا کہ وہ اپنے خلاف کی گئی جسٹس جہانزیب رحیم کی شکایت کی تفصیلات جاننا چاہتے ہیں۔

عبوری حکومت کا سربراہ
 اسمبلیوں کی برخاستگی کے بعد چیف جسٹس نے اپنی سربراہی میں انتخابات کرانے کی تجویز بھی دی اور یقین دلانے کی کوشش کی کہ اس طرح معاملات خوش اسلوبی سے نمٹ جائینگے
جنرل ندیم اعجاز

جنرل ندیم کے مطابق انہوں نے اگلے روز جسٹس جہانزیب کی چیف جسٹس کے خلاف شکایت کی کاپی حاصل کر لی۔ آٹھ مارچ کی رات کو چیف جسٹس نے انہیں فون پر بتایا کہ جسٹس جہانزیب کی شکایت کے حوالے سے وہ نو مارچ کو صدر مشرف سے ملاقات کر رہے ہیں۔

ان کے بقول نو مارچ کو صدر کے کیمپ آفس میں دوپہر ایک بجے سے دو بجے تک چیف جسٹس سے ملاقات کے دوران ان کے خلاف ریفرنس زیر بحث رہا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ ریفرنس کا سامنا کرینگے۔

دوپہر دو بجے صدر مشرف جمعہ نماز کے لیے تشریف لے گئے تو وزیر اعظم، صدر کے چیف آف سٹاف اور ملٹری سیکرٹری بھی ساتھ چلے گئے۔ اس کے بعد وہ (جنرل ندیم)، انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ اعجاز شاہ، آئی ایس آئی کے سربراہ اور چیف جسٹس کمرے میں رہ گئے اور ریفرنس کے نقاط پر بات چیت کرتے رہے۔ اس دوران کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

ریفرنس کا سامنا کرونگا
 چیف جسٹس نے چونکہ صدر اور وزیر اعظم پر بھی واضح کر دیا تھا کہ وہ ریفرنس کا سامنا کرینگے، اس لیے اس حوالےسے ان کے ساتھ کوئی بات نہ کی گئی اور نہ ہی ان کے سامنے کوئی مطالبات رکھے گئے
جنرل ندیم اعجاز

چیف جسٹس نے چونکہ صدر اور وزیر اعظم پر بھی واضح کر دیا تھا کہ وہ ریفرنس کا سامنا کرینگے، اس لیے اس حوالےسے ان کے ساتھ کوئی بات نہ کی گئی اور نہ ہی ان کے سامنے کوئی مطالبات رکھے گئے۔ آئی ایس آئی اور آئی بی کے سربراہ تھوڑی دیر بعد رخصت ہو گئے۔

جنرل ندیم کے مطابق چیف جسٹس نے صدر سے ایک اور ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ صدر آرمی ہاؤس سے کراچی کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ اس پر صدر کے کراچی پہنچنے کا انتظار کیا جانے لگ گیا۔ لہذا یہ غلط ہے کہ چیف جسٹس کو ان کی مرضی کے خلاف صدارتی کیمپ آفس میں رکھا گیا تھا۔

ملٹری انٹیلیجنس کے سربراہ کے مطابق صدر مشرف کراچی پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ چیف جسٹس ان سے ایک اور ملاقات کرنا چاہتے ہیں، لیکن صدر نے معذرت کر لی۔

جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
اخبارات’نہ جھکنے پر فارغ‘
چیف جسٹس کی معطلی پر اخبارات کے اداریے
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد