BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 June, 2007, 10:20 GMT 15:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لنچ سے آزادی متاثر نہیں ہوتی: جج

جسٹس افتخار محمد چودھری
وفاقی حکومت کے وکلاء کی طرف سے عدالت کی کارروائی کے دوران شورو غل برپا کرنے پر تیرہ رکنی فل بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا ہے کہ اگر وکلاء نے اپنا رویہ نہ بدلا تو عدالت مقدمہ سننے سے انکار کر سکتی ہے۔


سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی فل کورٹ گزشتہ اٹھارہ روز سے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف حکومتی کارروائی سے متعلق درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل سن رہے ہیں۔

جمعہ کو عدالت کی کارروائی شروع ہوتے ہی چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ صرف دو منٹوں میں عدالت کے سامنے حلیفہ بیانوں سے متعلق کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر حکومتی وکلاء کی بڑی تعداد کھڑی ہوگئی اور شور مچانا شروع کر دیا۔

جج کی آزادی
 اپنے آپ پر یقین ہے، کسی شخص کے ساتھ کھانا کھانے سے کسی جج کی آزادی متاثر نہیں ہو سکتی۔
جسٹس عباسی
جسٹس رمدے نے کہا کہ اگر حکومتی وکلاء اپنی نشتوں پر واپس نہ گئے تو وہ عدالت کو برخاست کر دیں گے اور شاید عدالت مقدمہ سننے سے انکار کر سکتی ہے۔جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ’میں وکلاء کو خبردار کرتا ہوں کہ میں عدالت کو فش مارکیٹ نہیں بننے دوں گا‘۔

جسٹس رمدے نے کہا کہ وہ حکومتی وکلاء کی ایک فوج کو نہیں سن سکتے اور ملک قیوم کے بعد وہ کسی حکومتی وکیل کو نہیں سنیں گے۔ تاہم بعد میں دن کی کارروائی کے اختتام پر عدالت نے مزید حکومتی وکلاء کے دلائل سننے کے لیے آئندہ سماعت پیر تک معطل کر دی۔ وفاقی حکومت نے چیف جسٹس کی درخواست اور ان سے متعلق دوسری درخواستوں کو سننے کے لیے چودہ وکلاء کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔

دریں اثناء چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل انٹیلیجنس ایجنسیوں کے حلیفہ بیان پر اپنے اعتراضات بتائے بغیر ہی واپس بیٹھ گئے جس کے بعد حکومتی وکیل ملک قیوم نے دلائل شروع کر دیئے۔

ملک قیوم نے کہا کہ اگر کسی جج پر اعتراض کیا جائے تو جج سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقدمہ سننے سے انکار کر دے لیکن ایسے اعتراضات نہیں کیے جانے چاہیں کہ چونکہ فلاں جج کو فلاں وکیل کے ساتھ لنچ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اس لیے وہ مقدمہ نہ سنیں۔

اس موقع پر اعتزاز احسن نے کہا کہ انہوں نے کسی جج پر ایسا اعتراض نہیں کیا ہے اور حکومتی وکیل خود ہی ایسے اعتراضات کرتے رہتے ہیں۔

جج پر اعتراضات
 اگر کسی جج پر اعتراض کیا جائے تو جج سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقدمہ سننے سے انکار کر دے لیکن ایسے اعتراضات نہیں کیے جانے چاہیے کہ چونکہ فلاں جج کو فلاں وکیل کے ساتھ لنچ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اس لیے وہ مقدمہ نہ سنیں۔
ملک قیوم
جسٹس محمد نواز عباسی جن کے بارے میں کچھ اخبارات میں خبریں چھپی تھیں کہ انہوں نے صدر پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ کے ہمراہ لنچ کیا تھا، غصے میں آ گئے اور حکومتی وکیل سے کہا کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ وہ بینچ کا حصہ نہ رہیں تو وہ مقدمہ نہیں سنیں گے۔

جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ وہ آزاد جج ہیں اور انہیں اپنے آپ پر یقین ہے کہ کسی شخص کے ساتھ کھانا کھانے سے کسی جج کی آزادی متاثر نہیں ہو سکتی۔

جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ حکومتی وکیل انہیں ڈرانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن وہ ڈرنے والے نہیں۔

جسٹس محمد نواز عباسی نے وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم سے کہا کہ انہیں سید شریف الدین پیرزادہ کے بارے میں وہ خبر غور سے پڑھنی چاہیے جس میں کہا گیا ہے کہ سید شریف الدین پیرزادہ اور چیف جسٹس افتخار محمد چودھری گہرے دوست ہیں لیکن شریف الدین اس وقت مخالف وکیل کے طور پر عدالت کے سامنے ہیں۔

ملک قیوم نے جب عدالتوں کے مختلف مقدموں کے حصے پڑھنے شروع کیے تو بینچ کے سربراہ نے کہا کہ وکیل کو اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ عدالتیں ہر فیصلہ حقائق اور حالات کی روشنی میں دیتی ہیں۔

وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے کہا کہ وہ اس مقدمے میں ’جانبدار وکیل‘ کا کردار نہیں ادا کر رہے ہیں بلکہ عدالت کی معاونت کے لیے کچھ حقائق عدالت کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ ملک قیوم پچھلے کئی ہفتوں سے عدالت کو بتا رہے ہیں کہ وہ جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست سننے کی اہل نہیں ہے۔

وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے اپنے دلائل ختم کیے تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا کہ عدالت دس منٹ بعد واپس آئے گی
لیکن پندرہ منٹ کے بعد عدالت کے ایک اہلکار نے اعلان کیا کہ عدالت وفاقی حکومت کے دوسرے وکلاء کے دلائل پیر کے روز سنے گی۔

جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
اخبارات’نہ جھکنے پر فارغ‘
چیف جسٹس کی معطلی پر اخبارات کے اداریے
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد