BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 June, 2007, 05:38 GMT 10:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینچ وکلاء کیلیے چیلنج: منیر ملک

منیر اے ملک
سیکرٹری قانون کا سربراہ ہونا نیک شگون نہیں ہے: منیر اے ملک
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک نے کہا ہے کہ وکلاء کے سیمینار کے بارے میں سرکار کی شکایت سننے کے لیے تشکیل دیا گیا پانچ رکنی بنچ وکلاء کے لیے ایک چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنچ کا سربراہ ایک سابق سیکرٹری قانون کو مقرر کیا گیا ہے جو کوئی نیک شگون نہیں ہے لیکن وہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

گزشتہ سنیچر کو اسلام آباد میں وکلاء کے ایک سیمینار میں ہونے والی تقاریر اور بعض نعروں کے بارے میں حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں شکایت درج کی گئی تھی جس کی سماعت کے لیے قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے ایک پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا تھا۔یہ بنچ پیر سے سرکار کی شکایت کی سماعت کرے گا۔

جسٹس محمد نواز عباسی کو بنچ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے جبکہ دیگر اراکان میں جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس شاکر اللہ جان، جسٹس تصدق جیلانی اور جسٹس سید سعید اشہد شامل ہیں۔

یہ پانچوں جج جسٹس افتخار محمد چوہدری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے تیرہ رکنی فل کورٹ میں بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی فل کورٹ روزانہ کی بنیاد پر آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے اعلان کے مطابق یہ خصوصی بنچ دوپہر ایک بجے فل کورٹ کی کارروائی رکنے کے فوراً بعد سرکاری شکایت سے متعلق درخواست کی سماعت کرے گا۔

قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال نے جمعرات کے روز وفاقی حکومت کا مقدمہ بڑے بنچ کو بھیجنے کا حکم دیتے وقت کہا تھا کہ چونکہ وہ سپریم کورٹ میں وکلاء کنوینشن سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں اس لیے ان کے لیے نامناسب ہے کہ وہ اس مقدمے کی سماعت کریں۔

سپریم کورٹ کا تیرہ رکنی فل کورٹ گزشتہ تین ہفتوں سے روزانہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی درخواست سمیت تئیس ایسی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے جن میں چیف جسٹس کے خلاف کارروائی اور سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل کو چیلنج کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے جو جج فل کورٹ کا حصہ نہیں ہیں ان میں قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس، جسٹس جاوید اقبال، جسٹس عبد الحمید ڈوگر، جسٹس سردار رضا خان، اور جسٹس فلک شیر شامل ہیں لیکن ان میں کوئی بھی حکومت کی درخواست کی سماعت کرنے والے بنچ میں شامل نہیں ہے۔

 سندھ ہائی کورٹ بلڈنگقائم مقام گورنر
سندھ ہائی کورٹ کے ججز کے فیصلے کی تعریف
جسٹس افتخار جسٹس کا بیانِ حلفی
جسٹس افتخار کے بیانِ حلفی کا مکمل متن
حماد رضا کے والد سید امجد حسین حماد کا قتل کیوں ہوا
’چیف جسٹس کو میرے بیٹے پر بہت اعتماد تھا‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد