BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 June, 2007, 08:02 GMT 13:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدالت فوج جیسا رد عمل ظاہر کرے‘

عدالت کا ایک منظر
اب ہمیں گواہوں کی فہرست میں شامل نہ کر دینا: جسٹس رمدے
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کے خلاف حکومت کی کارروائی پر عدالت کو ویسا ہی ردِ عمل ظاہر کرنا چاہیے جیسا کہ جنرل پرویز مشرف کو فوج کے سربراہ کے عہدہ سے ہٹائے جانے پر فوج نے کیا تھا۔

اعتزاز احسن نے تیرہ رکنی فل کورٹ کے سامنے چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران کہا کہ وہ سپریم کورٹ کو بتائیں گے کہ ’ادارے اپنے سربراہ کے خلاف کسی دوسرے ادارے کی کارروائی پر کس طرح کے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔‘


اس پر تیرہ رکنی فل بینچ کےسربراہ جسٹس خلیل الرحمنٰ رمدے نےکہا کہ ہر ادارے کا رد عمل آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ جنرل مشرف کی ہی کتاب (ان دی لائن آف فائر) سے ہی پڑھ کر عدالت کو بتائیں گے کہ جب (معزول وزیر اعظم نواز شریف نے) جنرل مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے ہٹایا، تو کس طرح فوج نے انہیں بچایا۔

اعتزاز احسن نے سولہویں صدی کے انگلینڈ کے ایک واقعہ کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اس وقت کے بادشاہ نے کچھ نائٹس (سورماؤں) کو گرفتار کرانا چاہا تو اس وقت کے سپیکر نے نائٹس کو اسمبلی بلڈنگ کے تحہ خانے میں چھپا لیا، لیکن ان کو بادشاہ کے حوالے نہیں ہونے دیا۔

صدارتی ریفرنس
 نہ تو قانونی امور پر حکومت کے سینئر مشیر سید شریف الدین پیرزادہ سے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی دوسرے ماہرین سے۔ صرف جرنیلوں کی رائے کو اہمیت دی گئی
اعتزاز احسن

اعتزاز احسن نے اپنےدلائل جاری رکھتے ہوئےکہا کہ کسی جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے قبل صلاح و مشورہ ضروری ہوتا ہے، لیکن اس کیس میں نہ تو قانونی امور پر حکومت کے سینئر مشیر سید شریف الدین پیرزادہ سے مشورہ کیا گیا اور نہ ہی دوسرے قانونی ماہرین سے۔ اعتزاز احسن کے مطابق سید شریف الدین پیرزادہ نے خود ایک انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ ریفرنس کے بارے میں ان سے مشورہ نہیں کیا گیا تھا۔

سید شریف الدین پیرزادہ کمرہ عدالت میں موجود تھے لیکن انہوں نے چیف جسٹس کے وکیل کے دعوے کی تردید نہیں کی۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ ملک کے سب سے اعلیٰ عدالتی عہدیدار کے خلاف اتنی بڑی کارروائی قانونی مشیروں کے مشورے پر نہیں بلکہ فوجی جرنیلوں کے کہنے پر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا :’یہ ایسا ہی ہے کہ بوئنگ طیارے کی خریداری کے لیے لاری ڈرائیور سے مشورہ کیا جائے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ ججوں کی تعیناتی کے وقت اس بات کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے کہ انتظامیہ اپنی رائے چیف جسٹس پر مسلط نہ کر سکے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے انتظامیہ کی عدلیہ کے معاملات میں مداخلت روکنا انتہائی ضروری ہے۔

تیرہ رکنی فل کورٹ کے ایک رکن جسٹس محمد نواز عباسی نے چیف جسٹس کے وکیل سے پوچھا کہ کیا کسی جج کو اس کے عہدے سے ہٹانے پر اس کے بنیادی حقوق متاثر ہو جاتے ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ہر جج کا حق ہے کہ اس کےساتھ قانون اور آئین کے تحت برتاؤ کیا جائے اور وہ یہی کچھ عدالت کو باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے مؤکل کے ساتھ غلط برتاؤ کیا گیا ہے اور یہ سب کچھ بدنیتی کی بنیاد پر ہوا۔

بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ اگر عام آدمی کےگھر کی ہوا بند ہو جائے تو اس سے اس کے بنیادی حقوق متاثر ہو سکتے ہیں، تو کیا جج کی عزت اور اس کی سکیورٹی اس کا بنیادی حق نہیں ہے؟‘

پیسہ کمانے میں دلچسپی
 چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل اگر پیسے کمانے میں دلچسپی رکھتے ہوتے تو شاید وہ سٹیل ملز کے مقدمے میں ایک ارب روپے کما سکتے تھے

عدالت کے ایک رکن جسٹس اعجاز احمد نے کہا کہ بھارت میں بنیادی حقوق کا تصور اتنا ترقی کرچکا ہے کہ اب کیڑوں مکوڑوں کے حقوق کو بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کو ریفرنس کا مقصد چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی شہرت کو خراب کرنا ہے اور اس ریفرنس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ وہ پیسہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ ان کے مؤکل اگر پیسے کمانے میں دلچسپی رکھتے ہوتے تو شاید وہ سٹیل ملز کے مقدمے میں ایک ارب روپے کما سکتے تھے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے جب ریفرنس کا بار بار حوالہ دیا تو جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ عدالت نے ابھی تک یہ تسلیم نہیں کیا ہے کہ چیف جسٹس کی درخواست قابل سماعت ہے اور عدالت شاید یہ کہے کہ ان کی درخواست کے کچھ حصوں کو سنا جا سکتا ہے اور کچھ کو نہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ جسٹس فقیر محمد کھوکھر کا درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق خیال اقلیتی خیال ہے اور ججوں کی اکثریت ایسا نہیں سوچتی۔

بینچ کے سربراہ خلیل الرحمنٰ رمدے نے کہا کہ عدالت نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق ابھی تک اپنی رائے قائم نہیں کی ہے اور وکلاء سے سوالات کا مقصد معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے۔

قابل سماعت ہے یا نہیں
 عدالت نے ابھی تک یہ تسلیم نہیں کیا ہے کہ چیف جسٹس کی درخواست قابل سماعت ہے اور عدالت شاید یہ کہے کہ ان کی درخواست کے کچھ حصوں کو سنا جا سکتا ہے اور کچھ کو نہیں
جسٹس فقیر محمد کھوکھر

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ حکومت کی طرف سے دائر ہونے والے حلیفہ بیان سچ پر مبنی نہیں ہیں اور چیف جسٹس کے پڑوسی ججوں کو معلوم ہو گا کہ چیف جسٹس نو مارچ سے لے کر سولہ مارچ تک کتنے آزاد تھے یا نہیں۔

اس پر جسٹس خلیل الرحمنٰ رمدے نے کہا ’اب ہمیں گواہوں کی فہرست میں شامل نہ کر دینا۔‘

اعتزاز احسن نے کہا سید شریف الدین پیرزادہ جن کو ان کے ایک دوست جدہ کے جادوگر کہتے ہیں اگر عدالت کو قائل کرنےمیں کامیاب ہو جائیں کہ چیف جسٹس کو حراست میں نہیں رکھا گیا تو یہ یقیناً جادوگری ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کو خصوصی طور پر اسلام آباد میں بلا کر نو مارچ کو ہی سپریم جوڈیشل کونسل کی پہلی میٹنگ کی گئی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ نو مارچ کو جب پانچ بج کر پانچ منٹ پر قائم مقام چیف جسٹس جاوید اقبال کو حلف دیا گیا تو سندھ اور لاہور ہائی کورٹس کے دونوں چیف جسٹس اس تقریب میں شامل تھے اور اسی بینچ پر بیٹھے کئی جج اس کے گواہ ہیں۔

جسٹس محمد نواز عباسی نے، جو اس تقریب میں موجود تھے، تصدیق کی کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس چوہدری افتخار حسین اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس صبیح الدین قائم مقام چیف جسٹس کو حلف دینے کی تقریب میں موجود تھے۔

جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ تمام غیر آئینی اقدم بدنیتی پر مبنی نہیں ہو سکتے۔ اعتزاز احسن نے کہا تمام غیر آئینی کام بدنیتی پر مبنی ہوتے ہیں اور اس پر اعلیٰ عدالتوں کے بڑے مفصل فیصلے بھی موجود ہیں۔

مائی کا لال
 وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی نے کہا تھا کہ کوئی ’مائی کا لال‘ انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور نہیں کر سکتا، لیکن تیس جون کو کسی ’مائی کے لال‘ نے انہیں استعفی دینے پر مجبور کر دیا

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ پاکستان کا آئین پارلیمانی نظام جمہوریت مہیا کرتا ہے اور یہ الگ بات ہے کہ اب پاکستان کے وزیر اعظم عوام کی طاقت کی بجائے فارمیشن کمانڈروں کی منظوری سے بنائے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا اٹھائیس جون دو ہزار چار میں اس وقت کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی نے کہا تھا کہ کوئی ’مائی کا لال‘ انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور نہیں کر سکتا، لیکن تیس جون کو کسی ’مائی کے لال‘ نے انہیں استعفی دینے پر مجبور کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین نے پہلی پریس کانفرنس میں اپنے وزیر اعظم بننے کا اعلان تو کر دیا لیکن اس میں چالیس روز کی مدت کا ذکر نہیں کیا تو انہیں آدھے گھنٹےمیں دوبارہ پریس کانفرنس کرنی پڑی، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف چالیس روز کے لیے وزیر اعظم رہیں گے اور اس کے بعد شوکت عزیز وزیر اعظم بنیں گے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ ملک کے سب سے اعلیٰ عدالتی عہدیدار کے ساتھ وہ کچھ روا نہیں رکھا جا سکتا جو موجودہ دور کے وزرائے اعظم کے ساتھ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا عدالت پوچھنا چاہیے کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو کس قانون اور ضابطے کے تحت معطل کیا گیا۔

انہوں نے کہا چیف جسٹس کے خلاف دائر ہونے والے ریفرنس میں لکھا ہے کہ صدر نے آئین میں دی گئی ’بہ لحاظ عہدہ‘ دی گئی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے چیف جسٹس کو کام کرنے سے روک دیا ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ آئین بنانے والوں نے انتظامیہ کو کوئی’بہ لحاظ عہدہ‘ طاقت مہیا ہی نہیں کی ہے اور صرف آئین کے آرٹیکل 156 میں عدلیہ کو مکمل انصاف کرنے کے لیے ’بہ لحاظ عہدہ‘ با اختیار کیا گیا ہے۔ اعتزاز احسن کے دلائل جاری تھے کہ عدالتی کارروائی کا وقت ختم ہو گیا۔

وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے عدالت کو بتایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل سید شریف پیرزادہ کندھے کی تکلیف میں مبتلا ہیں اس لیے جمعہ کو عدالت کی کارروائی نہ کی جائے۔

عدالت نے وفاقی حکومت کی درخواست کو مانتے ہوئے کارروائی کو پیر تک ملتوی کر دیا ہے۔

 سٹیل ملزسٹیل کہانی
سٹیل ملز کی نجکاری اور تنازعہ: خصوصی رپورٹ
 جسٹس افتخار چودھری ہڈی اور سیاسی گلے
جسٹس افتخارگلے کی’ہڈی‘ بنتے جا رہے ہیں
جسٹس افتخار محمد چودھری حکومتی بیاناتِ حلفی
چیف جسٹس پر خفیہ اداروں کے الزامات
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد