BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 June, 2007, 06:57 GMT 11:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوڈیشل کونسل کا ریکارڈ طلب

اعتزاز احسن دلائل پیش کرتے ہوئے
جسٹس افتخار کو نو مارچ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ (بی بی سی کے لئے صابر نذر کے خصوصی سکیچز)

سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان کے وکیل اعتزاز احسن نے بدھ کو اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کو نو سے تیرہ مارچ تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔

چیف جسٹس کے وکیل نے نو مارچ کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے دو نجی ٹی وی چینلز کو دیے جانے والے انٹرویوز کا حوالے دیتے ہوئے عدالت کے سامنے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ چیف جسٹس کو نو سے تیرہ مارچ تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا تھا۔


انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جب 10 مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل کا نوٹس چیف جسٹس کے حوالے کیا گیا تو اس پر انہوں (چیف جسٹس) نے لکھا کہ ان کو وکلاء تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ یہ چیز آپ سپریم جوڈیشل کونسل کے ریکارڈ سے دیکھ سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے سیکریٹری سپریم جوڈیشل کونسل کو حکم دیا کہ وہ ریکارڈ عدالت میں پیش کریں۔

اس موقع پر صدر مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے سپریم جوڈیشل کونسل کا ریکارڈ طلب کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی بند کمرے میں ہو رہی ہے، اس لیے اس کا ریکارڈ کھلی عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ ریکارڈ منگوا سکتی ہے اور وہ صرف ایک نوٹس دیکھنا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے یہ لکھا تھا کہ انہیں وکیل سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکریٹری نے ریکارڈ پیش کیا جس کا عدالت نے معائنہ کیا۔

چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ کسی سرکاری یا جوہری راز کی بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان کی حراست کے بارے میں بات ہو رہی ہے اور اس سلسلے میں ہر وہ چیز دیکھی جا سکتی ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کہ وہ واقعی حراست میں تھے۔

وقفہ کے بعد فل کورٹ کی کارروائی کا دوبارہ آغاز ہو چکا ہے۔

جسٹس افتخار جسٹس کا بیانِ حلفی
جسٹس افتخار کے بیانِ حلفی کا مکمل متن
جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
جسٹس افتخار چودھری’ ناروا سلوک‘
جسٹس افتخار سے پولیس کے ناروا سلوک کا نوٹس
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
چیف جسٹس افتخار چودھریجسٹس چودھری
آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد