BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 June, 2007, 13:57 GMT 18:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پوری عدالت کٹہرے میں ہے‘

جسٹس رمدے کا سکیچ
’عدالت کی کارروائی کی رپورٹنگ میں بہت احتیاط برتی جانی ضروری ہے‘
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے تیرہ رکنی فل کورٹ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا ہے کہ صرف ملک کے چیف جسٹس کٹہرے میں نہیں کھڑے ہیں بلکہ پوری عدالت عظمٰی کٹہرے میں کھڑی ہے۔

چیف جسٹس کے مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ موجودہ مقدمہ انتہائی مشکل مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور ذرائع ابلاغ کو انتہائی احتیاط کے ساتھ اس کی رپورٹنگ کرنی چاہیے۔

’جسٹس افتخار محمد چودھری آج بھی چیف جسٹس ہیں اور ہم سے امید کی جا رہی ہے کہ ہم چیف جسٹس کو انصاف مہیا کریں۔‘

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت کے لیے دونوں ہستیاں (چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور صدر جنرل پرویز مشرف) قابل احترام ہیں اور عدالت کو حقائق کےمطابق فیصلہ کرنا ہے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وہ صحافیوں کی پریشانیوں میں اضافہ نہیں کرنا چاہتے لیکن عدالت کی کارروائی کی رپورٹنگ میں بہت احتیاط برتی جانی ضروری ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس کی معطلی کے بارے میں جو حکم جاری کیا ہے اس میں وزیر اعظم کا مشورہ شامل نہیں ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے مطابق نو مارچ کو چیف جسٹس پانچ بجے تک صدراتی کیمپ آفس میں موجود رہے اور بقول صدر جنرل پرویز مشرف چیف جسٹس ریفرنس اور اس کے ساتھ فراہم کردہ معلومات کا مطالعہ کرتے رہے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر چیف جسٹس پانچ بجے تک ریفرنس کا مطالعہ کرتے رہے تو پھر اس دوران ریفرنس کیسے فائل ہو گیا اور کس طرح چیف جسٹس کو پانچ بجے سے پہلے ہی معطل کر دیا گیا۔

News image
عدالت کو یہ دیکھنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی پہلی میٹنگ قائم مقام چیف جسٹس نے بلائی یا کسی اور طاقت نے حکم جاری کیا۔
اعتزاز احسن

انہوں نے کہا کہ چار پانچ گھنٹوں میں سپریم جوڈیشل کونسل کے دو ممبران لاہور اور کراچی سے اسلام آباد پہنچ گئے۔

انہوں نے کہا کہ ریفرنس میں تحریر ہے کہ چیف جسٹس معطل کیے جا چکے ہیں جبکہ چیف جسٹس کی معطلی کے حکم میں یہ درج ہے کہ ریفرنس پہلے فائل ہوا اور معطلی بعد میں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دونوں میں تضاد ہے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ یہ ایسی صورتحال ہے کہ انڈہ پہلے آیا یا مرغی پہلے آئی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ کسی جج کے خلاف ریفرنس دائر کیے جانے کی صورت میں اسے معطل نہیں کیا جا سکتا اور چیف جسٹس کو معطل کرنے سے متعلق حکم خلاف قانون ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی میٹنگ صرف چیف جسٹس ہی بلا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائم مقام چیف جسٹس نے پانچ بج کر پانچ منٹ پر حلف لیا اور اس کے فوراً بعد سپریم جوڈیشل کونسل کی پہلی میٹنگ بھی ہو گئی۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ عدالت کو یہ دیکھنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی پہلی میٹنگ قائم مقام چیف جسٹس نے بلائی یا کسی اور طاقت نے حکم جاری کیا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل نے کہا کہ اگر کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہو چکا ہے تو اسے صرف ریفرنس دائر ہونے کی بنیاد پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر جج سپریم جوڈیشل کونسل کا ممبر ہوگا تو وہ کونسل کی میٹنگ میں شامل نہیں ہوگا لیکن وہ بطور جج یا چیف جسٹس اپنے فرائض انجام دے سکتا ہے۔

مقدمےکی سماعت بدھ کو بھی جاری رہے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد