BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 June, 2007, 06:57 GMT 11:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں کی سپریم کورٹ میں طلبی

سپریم کورٹ
تیرہ رکنی بنچ بیس دن سے چیف جسٹس کی درخواست کی سماعت کر رہا ہے
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کرنے والے تیرہ رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کے مزید چار ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی اطلاعات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ صحافی کو عدالت میں طلب کر لیا جس نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔

منگل کے روز عدالت کی کارروائی شروع ہوتے ہی تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ وہ ججوں کے بارے میں چھپنے والی ایک خبر کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں۔

جج صاحبان نے کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں سے ابتدائی معلومات حاصل کرنے کے بعد اپنے رجسٹرار کو حکم جاری کیا کہ وہ متعلقہ صحافی صالح ظافر کو ساڑھے گیارہ بجے عدالت کےسامنے پیش کریں۔ عدالت نے صحافیوں کی تنظیم راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے صدر کو بھی عدالت میں طلب کیا۔

ساڑھے گیارہ بجے جب عدالت کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو صحافی صالح ظافر عدالت کے سامنے موجود تھے۔ عدالت کے پوچھنے پر صالح ظافر نے کہا کہ انہوں نے اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی اطلاعات کی بنیاد پر خبر شائع کی تھی۔

عدالت کے استفسار پرکہ آیا انہوں نے اپنے طور ان حقائق کو پرکھنے یا تصدیق کرنے کی کوشش کی تو صحافی کوئی جواب نہ دے سکے۔

صالح ظافر نے عدالت سے غیر مشروط پر معافی کی درخواست کی تو عدالت نے انہیں کہا کہ اگر وہ معافی کے لیے تحریری درخواست دائر کریں تو عدالت اس پر غور کرئے گی۔

صحافی نے کمرہ عدالت میں بیٹھ کر معافی نامہ تحریر کر کے عدالت کے سامنے پیش کر دیا اور عدالت کو بارہا یقین دہانی کرانے کی کوشش کی کہ وہ آئندہ بہت احتیاط سے رپورٹنگ کریں گے۔

عدالت نے صحافی کو حکم جاری کیا کہ اپنے اخبار میں نمایاں طور پر اپنی معافی شائع کریں گے۔

عدالت نے اپنے تحریری حکم میں کمرہ عدالت میں موجود صحافیوں کی ججوں سے متعلق کارروائی کی بعض تفصیلات شائع کرنے سے منع کر د یا اور کہا کہ صحافی عدالت کے سامنے چیف جسٹس کی آئینی درخواست سے متعلق عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ تک محدود رکھیں۔

راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ نے عدالت کے استفسار پر کہا کہ ان کی تنظیم اپنے ممبران کے خلاف شکایت موصول ہونے پر کارروائی کرتی ہے اور وہ شاید اس معاملے میں اپنے ممبر صالح ظافر کے خلاف کوئی کارروائی کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد