BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 June, 2007, 14:42 GMT 19:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چیف جسٹس معطل نہیں ہوسکتے

اعتزاز احسن دلائل پیش کرتے ہوئے
جسٹس افتخار کو نو مارچ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ (بی بی سی کے لئے صابر نذر کے خصوصی سکیچز)

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد اور صدر کے خلاف مواخذہ کی تحریک جمع کرائے جانے کی صورت میں انہیں معطل نہیں کیا جا سکتا تو چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر ہونے کی صورت میں انہیں کیسے معطل کیا جا سکتا ہے۔

اعتزاز احسن نے تیرہ رکنی فل کورٹ کے سامنے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران عجلت میں ریفرنس دائر کرنے کا الزام ثابت کرنے کے لیے عدالت کو بتایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے دو ممبران کو نو مارچ کو خصوصی طور پر اسلام آباد لایا گیا تھا۔


اعتزاز احسن نے نو مارچ کو کراچی اور اسلام آباد کے درمیان فلائٹ کی مکمل تفصیلات اور سندھ ہائی کورٹ کے مکمل روسٹر کی تفصیلات عدالت کے سامنے رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سے دوپہر کے وقت کوئی فلائٹ اسلام آباد نہیں آتی اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین کو اسلام آباد لانے کے لیے خصوصی طیارہ بھیجا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کو یہ دیکھنا ہے کہ خصوصی طیارہ کس کے حکم پر بھیجا گیا اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کس ادارے نے برداشت کیے ہیں۔

خصوصی طیارہ اور اخراجات
چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ عدالت کو یہ دیکھنا ہے کہ خصوصی طیارہ کس کے حکم پر بھیجا گیا اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کس ادارے نے برداشت کیے ہیں۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ (ریٹائرڈ) حامد جاوید نے اپنے حلفیہ بیان میں صرف لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے خصوصی طیارہ بھیجنے کی تردید کی ہے لیکن انہوں نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے لیے خصوصی طیارہ بھیجنے کی رپورٹ کی تردید نہیں کی ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے اپنی پہلی میٹنگ میں چیف جسٹس کو کام سے روکنے کے بارے میں صدارتی احکامات کو پھر سے جاری کیا ۔اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے چیف جسٹس کے خلاف احکامات کو پھر سے جاری کرنے کے عمل سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کونسل کا خیال ہے کہ صدر چیف جسٹس کو کام کرنے سے روکنے کے مجاز نہیں ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا جب سپریم جوڈیشل کونسل کوئی حتمی حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتی اور اس کا اختیار صرف اور صرف صدر کو سفارش کرنے تک محدود ہے تو وہ چیف جسٹس کو کام سے روکنے کے احکامات کیسے جاری کر سکتی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس بھی ایک آئینی عہدیدار ہیں اور جس طرح وزیراعظم کو عدم اعتماد اور صدر کو مواخذہ کی تحریک جمع کرائےجانے کی صورت میں کام سے نہیں روکا جا سکتا اسی طرح چیف جسٹس کو ریفرنس دائر ہونے کی صورت میں کام کرنے سے روکا نہیں جا سکتا۔

چیف کو کام سے نہیں روکا جا سکتا
چیف جسٹس بھی ایک آئینی عہدیدار ہیں اور جس طرح وزیراعظم کو عدم اعتماد اور صدر کو مواخذہ کی تحریک جمع کرائےجانے کی صورت میں کام سے نہیں روکا جا سکتا اسی طرح چیف جسٹس کو ریفرنس دائر ہونے کی صورت میں کام کرنے سے روکا نہیں جا سکتا۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ ملک کے چیف جسٹس کے خلاف اتنی بڑی کارروائی ہو گئی لیکن کسی جج نے ان کی خیریت معلوم کرنے کی کوشش تک نہ کی۔

اس موقع پر جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ انہوں نے چیف جسٹس کی خیریت معلوم کی تھی۔

اس موقع پر تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کچھ دوست ’اُدھر‘ جا کر کچھ بتاتے ہیں اور ’اِدھر‘ آ کر کچھ بات کرتے ہیں۔ اس موقع پر چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے یہ شعر پڑھا:

وار اس قدر شدید کہ دشمن ہی کر سکے
چہرہ مگر ضرور کسی آشنا کا تھا

اعتزاز احسن کے وکیل یہ ثابت کرنے کے لیے کہ چیف جسٹس کو نو مارچ سے سولہ مارچ تک حراست میں رکھا گیا، عدالت کو بتایا کہ جب چیف جسٹس کو پہلی دفعہ سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے نوٹس ملا تو انہوں نے اسی نوٹس پر لکھا کہ ان کو وکلاء تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل کے ریکارڈ سے دیکھ سکتے ہیں کہ چیف جسٹس نے اس پر کیا لکھا تھا۔ عدالت نے جب سپریم جوڈیشل کونسل کا ریکارڈ طلب کرنے کا حکم جاری کیا تو صدر مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے سپریم جوڈیشل کونسل کا ریکارڈ طلب کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی بند کمرے میں ہو رہی ہے، اس لیے اس کا ریکارڈ کھلی عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔

تیرہ رکنی بینچ نے کہا کہ سپریم کورٹ ریکارڈ منگوا سکتی ہے اور وہ صرف ایک نوٹس دیکھنا چاہتے ہیں جس پر چیف جسٹس نے یہ لکھا تھا کہ انہیں وکیل سے ملنے کی اجازت نہیں ہے۔

ہر چیز دیکھی جا سکتی ہے
اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ سرکاری یا جوہری راز کی بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان کی حراست کی بات ہو رہی ہے اور اس سلسلے میں ہر وہ چیز دیکھی جا سکتی ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کہ وہ واقعی حراست میں تھے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے سکریٹری نے عدالت کے سامنے ریکارڈ پیش کیا جس کا عدالت نے معائنہ کیا۔

چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ یہ کسی سرکاری یا جوہری راز کی بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان کی حراست کے بارے میں بات ہو رہی ہے اور اس سلسلے میں ہر وہ چیز دیکھی جا سکتی ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کہ وہ واقعی حراست میں تھے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے نو مارچ کے بعد صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے دو نجی ٹی وی چینلز کو دیے جانے والے انٹرویوز کا حوالے دیتے ہوئے عدالت کے سامنے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ چیف جسٹس کو نو سے سولہ مارچ تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیا تھا۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ چیف جسٹس تیرہ مارچ کو جب سپریم جوڈیشل کونسل کی میٹنگ میں شرکت کے لیے آنے لگے تو ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔ انہوں نے عدالت کو وہ تصویر دکھائی جس میں چیف جسٹس کے بال کھینچے جا رہے ہیں۔

وقفے کے بعد جب عدالت نے دوبارہ کارروائی شروع کی تو صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے عدالت سے کہا کہ عدالت نے چونکہ ابھی آئینی درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ نہیں کیا ہے اس لیے عدالت اعتزاز احسن کو ایسے دلائل دینے سے باز رکھے جن میں وہ صدر جنرل پرویز مشرف کے امیج کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

احمد رضا قصوری نے کہا صدر جنرل مشرف قوم کے، سولہ کروڑ عوام کے نمائندے ہیں لیکن اعتزاز احسن ان کے عالمی امیج کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور عدالت کو اس اجازت نہیں دینی چاہیے۔ احمد رضا قصوری نے کہا کہ فوج کو بدنام کر کے ملک کو عدم استحکام پھیلانے کی کوشش ہو رہی ہے۔

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ عدالت کی کارروائی کے دوران کسی وکیل نے فوج کے بارے کوئی بات نہیں کی ہے۔

احمد رضا قصوری نے کہا کہ چیف جسٹس کے وکیل بیرونی مالی امداد حاصل کر کے ملک کی قسمت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے صدر جنرل پرویز مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ سے پوچھا کہ کیا وہ احمد رضا قصوری کی اس بات سے متفق ہیں کہ جب تک عدالت درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق اپنا فیصلہ نہیں دیتی اسے مزید کارروائی نہیں کرنی چاہیے، تو سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ عدالت جو مناسب سمجھتی ہے کرے۔

اعتزاز احسن نے جذباتی انداز میں عدالت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب عدالت کے خلاف ایک خبر چھپتی ہے تو عدالت اس کا نوٹس لیتی ہے لیکن جب ان پر اس طرح کے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں تو عدالت خاموش کیوں ہے۔

کون سا ملک مالی امداد دے رہا ہے
اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس ملک اور عدلیہ کی آزادی کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الزام لگانے والے کو ثابت کرنا ہو گا کہ کون سا ملک انہیں مالی امداد دے رہا ہے

اس موقع پر چیف جسٹس کے دوسرے وکیل حامد خان اور طارق محمود بھی روسٹرم پر پہنچ گئے اور کہا کہ وہ اس عدلیہ کی آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور حکومت ان پر اس طرح کے بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

وفاقی حکومت کے وکیل ملک قیوم نے عدالت سے کہا کہ وہ احمد رضا قصوری کے اس بیان سے بلکل متفق نہیں کہ اعتزاز احسن اور چیف جسٹس کے دوسرے وکلاء کو بیرونی ممالک سے امداد مل رہی ہے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اس ملک اور عدلیہ کی آزادی کے لیے کر رہے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ الزام لگانے والے کو ثابت کرنا ہو گا کہ کون سا ملک انہیں مالی امداد دے رہا ہے۔

جسٹس رمدے نے احمد رضا قصوری سے کہا کہ انہوں نے اعتزاز احسن پر کس بنیاد پر الزام لگایا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’عام تاثر‘ پایا جاتا ہے۔

جسٹس رمدے نے احمد رضا قصوری سے کہا کہ سرکاری وکلاء نے ان کے الزامات سے لاتعلقی ظاہر کر دی ہے۔اس پر احمد رضا قصوری کا کہنا تھا کہ انہوں نے جو کچھ کہا ہے وہ وکلاء کے مشورے کے بعد کہا تھا۔

احمد رضا قصوری نےکہا کہ اگر ان کی کسی بات سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اپنے الفاظ واپس لیتے ہیں جس پر معاملہ رفع دفع ہو گیا۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ آئین کہتا ہے کہ کسی جج کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے سے پہلے صدر یا وزیراعظم ان پر خوب غور کر لیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف دائر کیے جانے والے ریفرنس میں ایسی فاش غلطیاں کی گئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی نے اس پر غور نہیں کیا۔

چیف جسٹس کے وکیل ابھی دلائل دے رہے تھے کہ سماعت کا وقت ختم ہو گیا۔ مقدمے کی سماعت جمعرات کو بھی جاری رہے گا۔

جسٹس افتخار جسٹس کا بیانِ حلفی
جسٹس افتخار کے بیانِ حلفی کا مکمل متن
جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
جسٹس افتخار چودھری’ ناروا سلوک‘
جسٹس افتخار سے پولیس کے ناروا سلوک کا نوٹس
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
چیف جسٹس افتخار چودھریجسٹس چودھری
آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے پانچ رکنی بینچ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد