BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 June, 2007, 14:08 GMT 19:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
300 سے زائد کارکن گرفتار

فیصل آباد کے علاوہ پنڈی بھٹیاں اور چکوال میں بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں
فیصل آباد میں آل پاکستان وکلاء کنونشن سے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خطاب کی تیاریاں مکمل ہیں لیکن سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور یہ تعداد بڑھ کر تین سو ہو گئی ہے۔

یہ کنونشن سولہ جون کو منعقد ہو گا اور اس میں پنجاب ہائی کورٹ لاہور اور آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

گرفتاریوں کے باوجود ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ کنونشن کے انتظامات کو بہتر بنانے میں مدد دے رہی ہے اور کسی قسم کے روڑے نہیں اٹکا رہی۔

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن فیصل آباد کے صدر چوہدری تنویر الرحمٰن رندھاوا نے بتایا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا قافلہ ساڑھے آٹھ بجے صبح اسلام آباد سے موٹروے کے راستے روانہ ہوگا۔ چیف جسٹس راستہ میں چکوال، پنڈی بھٹیاں اور چنیوٹ کے وکلاء سے بھی خطاب کریں گے۔

تنویر الرحمٰن رندھاوا کے مطابق فیصل آباد میں وکلاء کنونشن کے انتظامات مکمل ہیں جس میں ملک بھر سے بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں کو مدعو کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ لاہور اور آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو بطور خاص مدعو کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس کے استقبال کے لیے تمام وکلاء متحد ہیں

تنویر رندھاوا نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کی گرفتاریاں بدستور جاری ہیں جن کا تعلق اسلامی جمعیت طلباء، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سے ہے۔ فیصل آباد، جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاوہ پنڈی بھٹیاں اور چکوال میں بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ ان کے بقول گرفتار ہونے والوں کی تعداد تین سو سے زیادہ ہے۔

تنویر رندھاوا نے کہا کہ چیف جسٹس کے استقبال کے لیے تمام وکلاء متحد ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کے وکلاء ایک سو اٹھارہ دنوں سے فیصل آباد میں ہائی کورٹ کے بنچ کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔ وکلاء نے بھوک ہڑتالی کیمپ بھی قائم کر رکھا ہے جس میں شہر کے تمام سیاسی، صحافتی اور سماجی اداروں کے کارکنوں نے بھی شرکت کی ہے۔

فیصل آباد میں ہائی کورٹ کے بنچ کے قیام سے تقریباً دو کروڑ آبادی کو انصاف کی سہولت ملے گی۔

تنویر رندھاوا کو امید ہے کہ ہائی کورٹ کے بنچ کے قیام کا فیصلہ تیس جون سے پہلے ہو جائے گا۔ اگر اعلان نہیں ہوتا تو تحریک اور احتجاج جاری رہے گا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم این اے اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی عزیز چوہدری شیر علی نے کہا کہ گرفتاریاں کارکنوں کو والہانہ استقبال سے نہیں روک سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ جوں جوں تشدد بڑھ رہا ہے حکومت کا یوم حساب قریب آ رہا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ کسی قسم کے روڑے نہیں اٹکا رہی

دریں اثناء ڈسٹرکٹ گورنمنٹ اور ٹاؤن کا عملہ شہر میں مختلف مقامات پر لگے استقبالی بینرز اتار رہا ہے۔ گزشتہ شام پولیس نے المرکز اسلامی چنیوٹ بازار کا گھیراؤ کرکے مشعل بردار جلوس کا پروگرام ناکام بنا دیا اور اسلامی جمعیت طلباء اور متحدہ مجلس عمل کے چھ کارکنوں کو سینکڑوں مشعلوں سمیت گرفتار کر لیا۔ اس کے باوجود اسلامی جمعیت طلباء نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

فیصل آباد میں ہفتے بھر کی شدید گرمی کے بعد جمعہ کے روز موسلا دھار بارش ہوئی جس کے بعد درجہ حرارت کم ہو گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران درجہ حرارت اڑتالیس ڈگری تک پہنچ گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد