BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 June, 2007, 13:06 GMT 18:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں ہے‘

جسٹس بھگوان داس نےحلف لینے کے بعد قوم کو اچھی خبر سنانے کی بات کی تھی
قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا ہے کہ وہ قوم کو خوشخبری سنانے کے وعدے پر قائم ہیں۔

جسٹس رانا بھگوان داس نے سپریم کورٹ کے نئے وکلاء کی رجسٹریشن کی تقریب کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ قوم کو خوشخبری سنانے کے وعدے پر قائم ہیں۔

جسٹس رانا بھگوان داس نے چوبیس مارچ کو قائم مقام چیف جسٹس کا حلف لینے کے بعد قوم کو اچھی خبر سنانے کی بات کی تھی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو کام سے روکے جانے کے بعد جسٹس رانا بھگوان داس نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف لیا تھا۔

جسٹس رانا بھگوان داس پانچ رکنی سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ ہیں جو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف دائر کیے جانے والے ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ نے چیف جسٹس کے خلاف صدراتی ریفرنس کی کارروائی اس وقت تک روکنے کا حکم جاری کر رکھا ہے جب تک چیف جسٹس کی آئینی درخواست کی سماعت مکمل نہیں ہو جاتی۔

جسٹس رانا بھگوان داس نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ حکومت ججوں پراثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس رانا بھگوان داس تیرہ فل کورٹ میں شامل نہیں ہیں جو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آئینی درخواست سمیت دوسری ایسی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے جن میں چیف جسٹس کے خلاف حکومتی کارروائی کو چیلنج کیا گیا ہے۔

قائم مقام چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے نئے وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء کو قانون کی بالادستی کے لیے کام کرنا چاہیے۔

جسٹس رانا بھگوان داس نے کہا کہ وکلاء اور عدلیہ انصاف کی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں اور اگر ان میں ایک پہیے میں کوئی خرابی تو گاڑی کا درست چلنا ممکن نہیں ہوتا۔

 جسٹس بھگوان داس چیف جسٹس پاکستان
غیر مسلم چیف جسٹس ہو سکتا ہے یا نہیں؟
لاڑکانہ سے اسلام آباد
بھگوان داس عدالتی سفر کے چالیس سال
رانا بھگوان داسبھگوان رخصت ختم
پاکستان افسران جسٹس کو لینے لکھنؤ آئے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد