جسٹں بھگوان داس کی تعیناتی چیلنج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جسٹس رانا بھگوان داس کی بطور قائم چیف جسٹس تعیناتی کو مذہب کی بنیاد پر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ اس درخواست کی پہلی سماعت پیر کے روز ہو گی۔ درخواست گزار شاہد اورکزئی کا موقف ہے کہ رانا بھگوان داس چونکہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اس لیئے وہ پاکستان کے قائم مقام چیف جسٹس بننے کے اہل نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ جس کی سربراہی جسٹس جاوید اقبال کریں گے، رانا بھگوان داس کی تعیناتی سے متعلق درخواست کی سماعت کرے گا۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 180 کی غلط تشریح کر کے غیر مسلم کو قائم مقام چیف جسٹس بنا دیا گیا ہے حالانکہ ایک مسلمان شہری اس عہدے پر کام کر رہا تھا۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئینِ پاکستان کسی غیر مسلم شہری کو مسلمان شہری پر ترجیح نہیں دیتا۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ چیف جسٹس کے فرائض میں صدر پاکستان کو حلف بھی دینا ہوتا ہے جس میں اسلامی عقائد کا بھی ذکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی غیر مسلم چیف جسٹس مسلمان صدر کو حلف دینے کا اہل نہیں ہے۔ درخواست میں جسٹس رانا بھگوان داس کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اللہ کی مہربانی سے سب کچھ ٹھیک ہو گا۔درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جسٹس رانا بھگوان داس کو دوسرے مذہب کے لوگوں کے جذبات سے نہیں کھیلنا چاہیے خواہ ان کے عزائم کتنے ہی نیک کیوں نہ ہوں۔ | اسی بارے میں فیصلہ غیر جانبداری سے: چیف جسٹس 24 March, 2007 | پاکستان ’شریف النفس اور ایماندار آدمی‘24 March, 2007 | پاکستان جسٹس بھگوان کے تقرر کے احکام22 March, 2007 | پاکستان جسٹس بھگوان کی واپسی پر بحث 21 March, 2007 | پاکستان بھگوان داس: عدالتی سفر کے چالیس سال21 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||