’شریف النفس اور ایماندار آدمی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس رانا بھگوان داس اس سے قبل بھی قائم مقام چیف جسٹس بن چکے ہیں مگر اس بار عدالتی بحران نے ان کی تعیناتی کو اہم بنا دیا ہے۔ جسٹس بھگوان داس کے چیف جسٹس کے عہدے پر پہنچنے پر ان کے آبائی شہر نصیر آباد کے لوگ بھی خوش ہیں۔ جسٹس بھگوان داس نے نصیر آباد کے ہندو محلے میں رانا جیتومل پرتھیانی کے گھر جنم لیا تھا اور بنیادی تعلیم بھی اسی شہر سے حاصل کی تھی۔ نصیر آباد میں جسٹس بھگوان داس کے کئی استاد رہائش پذیر ہیں اور وہ انہیں ذہین اور اصول پرست انسان قرار دیتے ہیں۔ ہائی اسکول میں جسٹس بھگوان داس کے ریاضی کے استاد محمد صادق کاندھڑو بتاتے ہیں’وہ بچپن سے ہی ذہین تھے اور ان کی دلچسپی انگریزی میں ہوتی تھی۔ان کا کہنا ہے کہ جسٹس بھگوان بچپن سے ہی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے روایتی تہواروں پر تقریریں کرتے تھے‘۔ محمد صادق کاندھڑو کا کہنا ہے کہ انہوں نےطالبعلمی کے دور میں جسٹس بھگوان داس کی کبھی کوئی شکایت نہیں سنی۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں بہت خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ نصیر آباد کے کسی رہائشی کو اہم ذمہ داری ملی ہے اور اللہ تعالٰی انہیں اس ذمہ داری نبھانے کی توفیق دے گا۔
جسٹس بھگوان داس کے کلاس ٹیچر محمد صالح سومرو انہیں شریف النفس، نیک اور ایماندار آدمی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھگوان داس طالب علمی کے ابتدائی دنوں میں بھی ہر ایک کے ساتھ پیار سے پیش آتے تھے، کبھی بھی ان کے دل میں غصہ نہیں ہوتا تھا۔ نصیرآباد میں رانا بھگوان داس کے کئی رشتہ دار بھی رہتے ہیں اور ہندو محلے میں اب بھی ان کا گھر ہے۔ ان کے ایک رشتہ دار کملیش کمار کہتے ہیں’سال میں وہ یہاں ایک دو بار آتے ہیں اور سب سے ملتے ہیں اس میں وہ کوئی تفریق نہیں کرتے‘۔ ان کہنا تھا کہ جسٹس بھگوان داس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی وہ جیسے پہلے تھے اب بھی ویسے ہی ہیں۔ | اسی بارے میں جسٹس بھگوان داس کراچی میں21 March, 2007 | انڈیا بھگوان داس: عدالتی سفر کے چالیس سال21 March, 2007 | پاکستان جسٹس بھگوان کی واپسی پر بحث 21 March, 2007 | پاکستان جسٹس بھگوان داس، خاندان کو تشویش16 March, 2007 | پاکستان ’لکھنؤ سے رابطہ PCO کے ذریعے‘15 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||