BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 June, 2007, 07:21 GMT 12:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’چیف جسٹس نے تب بھی سٹینڈ لیا‘

ریفرنس بھیجنے والوں کا رویہ بدنیتی پر مبنی رہا ہے: اعتزاز احسن
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل بیرسٹر اعتزار احسن نے منگل کو فل کورٹ بنچ کے سامنے اپنے دلائل میں کہا ہے کہ انتطامیہ کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کی اطلاعات پر ججوں کے خلاف کارروائی کرے اور عدلیہ کو یہ عمل روکنا ہوگا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر انتظامیہ کو انٹیلیجنس اداروں کی رپورٹوں پر ججوں پر الزامات عائد کرنے کی اجازت مل گئی تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں یہ سوچ کر بھی غصہ آتا ہے کہ خفیہ اداروں کی رپورٹوں پر ملک کے چیف جسٹس کو نکال دیا جائے۔

اس پر جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے کہا کہ فرض کریں حکومت کے پاس ایک جج کےخلاف کوئی ایسا مواد موجود ہے جس کی بنیاد پرجج کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا سوال پیدا ہو سکتا تو ایسی صورت میں اگر صدر جج کو بلا کر وہ مواد دکھا دے تو پھر اس میں کیا حرج ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ جسٹس رمدے ایک ایسے مثالی معاشرے کا سوچ رہے ہیں جہاں اگر صدر کے پاس کوئی مواد آئے تو وہ اس کا جائزہ لے کر اس کے خلاف کارروائی کا سوچے گا۔ ’یہاں پر کوئی آئیڈیل ایگزیکٹو نہیں آئے گا اور اگر خفیہ اداروں کی رپورٹوں پر ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی اجازت دے دی گئی تو پھر خفیہ والوں کو آزاد ججوں کے پیچھے لگا دیا جائےگا‘۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ کئی جج عزت سادات بچانے کے لیے انٹیلجنس اداروں کے اشاروں پر کام کرنا شروع کر دیں گے۔

دلائل کے دوران اعتزاز احسن نے برطانیہ کے ایک چار سو برس پرانے مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے بادشاہ جیمز اول نے آرچ بشپ کے کہنے پر اپنے چیف جسٹس، جسٹس کک کے خلاف کارروائی کا سوچا تھا اور اس وقت جبکہ بادشاہ کو خدائی اختیار حاصل تھا تب بھی چیف جسٹس نے’سٹینڈ‘ لیا تھا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر موجودہ مقدمے میں آرچ بشب کی جگہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلجنس پڑھ لیا جائے تو پھر چار سو سال پرانے مقدمے اور موجودہ مقدمے میں زیادہ فرق نہیں رہ جاتا۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ آج بھی حالات مختلف نہیں اور عدلیہ کو انتظامیہ کی مداخلت کے خلاف ایسا ہی’سٹینڈ‘ لینے کی ضرورت ہے۔ جسٹس خلیل الرحمان رمدے کے ان ریمارکس پر کہ فاضل وکیل عدالت کو یہ بھی بتائیں کہ انگریز چیف جسٹس کا حشر کیا ہوا، اعتزاز احسن نے کہا کہ’ چار سو برس بعد بھی اگر نام باقی ہے تو جسٹس کک کا‘۔

 اعتزاز احسن نے برطانیہ کے ایک چار سو برس پرانے مقدمے کا حولہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے بادشاہ جیمز اول نے آرچ بشپ کے کہنے پر اپنے چیف جسٹس جسٹس کک کے خلاف کارروائی کا سوچا تھا اور اس وقت جبکہ بادشاہ کو خدائی اختیار حاصل تھا تب بھی چیف جسٹس نے’سٹینڈ‘ لیا تھا۔

اعتزاز احسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے حسینیت کی مثال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یزید پر آج بھی لوگ لعنت بھیجتے ہیں اگرچہ اس نے بھی اپنے حق میں مولویوں سے فتوے لیے تھے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ’ سقراط کو دو سو اسّی ججوں کے فیصلے پر زہر کا پیالہ پینا پڑا تھا لیکن دنیا آج بھی صرف سقراط کو یاد رکھے ہوئے ہے اور ان ججوں کو کوئی نہیں جانتا لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے اور نہ اب زہر کا پیالہ ہے اور نہ کچھ اور‘۔

دلائل کے دوران بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ نو مارچ کو چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے پہلے اور بعد میں ریفرنس بھیجنے والوں کا رویہ بدنیتی پر مبنی رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر قانون وصی ظفر کے بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر چیف جسٹس کو بحال بھی کر دیا جائے تو انہیں استعفٰی دے دینا چاہیے۔

اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ مثالی حالات میں اگر کسی جج کے خلاف ریفرنس آتا ہے تو حکومت کا رویہ مخالفانہ نہیں ہوتا اور اٹارنی جنرل کا کام سپریم جوڈیشل کونسل کی معاونت ہوتا ہے لیکن اس مقدمے میں ایسا نہیں اور اٹارنی جنرل کے علاوہ چار پانچ اور وکیل بھی ہیں جو استغاثہ کا کردار نبھا رہے ہیں۔

News image
سقراط کو دو سو اسّی ججوں کے فیصلے پر زہر کا پیالہ پینا پڑا تھا لیکن دنیا آج بھی صرف سقراط کو یاد رکھے ہوئے ہے اور ان ججوں کو کوئی نہیں جانتا لیکن اب زمانہ بدل گیا ہے اور نہ اب زہر کا پیالہ ہے اور نہ کچھ اور‘۔

صدر مشرف کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے چیف جسٹس کے وکیل کا کہنا تھا کہ صدر اس سارے معاملے میں ایک فریق بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا صدر جنرل مشرف چیف جسٹس کے معاملے میں غیر جانبدار نہیں ہیں اور انہوں نے ایک مخصوص سیاسی جماعت کے سیاسی جلسوں میں چیف جسٹس سے متعلق ریفرنس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ تو انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر چیف جسٹس کو بحال کر دیا گیا تو یہ ان کے لیے رونے کا دن ہو گا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بھیجے جانے پر کہا کہ انہیں ہٹانے کا مقصد حکومت بچانا تھا۔

ان دلائل پر فل کورٹ کے ایک رکن جج نے کہا کہ کیا فاضل وکیل یہ چاہتے ہیں کہ عدالت نو مارچ کے بعد پیش آنے والے حالات کا بھی جائزہ لے۔ ان ریمارکس پر اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وہ یقیناً یہی چاہتے ہیں کہ عدالت نو مارچ سے سولہ مارچ تک کے واقعات کو بھی مدِ نظر رکھے۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے ساتھ نو سے سولہ مارچ تک جو کچھ ہوا وہ سب کچھ انتہائی اوپر سے آنے والے حکم کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نو مارچ جب چیف جسٹس نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا اور انہیں گھر میں نظر بند کر دیا گیا تو حکمران جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین چیف جسٹس کے پاس گئے اور انہیں وہی مشورہ دیا جو انہیں صدر مشرف اور انٹیلیجنس اداروں کے سربراہ دے چکے تھے کہ آپ مستعفی ہو جائیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین کی چیف جسٹس سے ملاقات کے دوران پولیس نے چیف جسٹس ہاؤس سے لفٹر کے ساتھ تین گاڑیاں اٹھا لیں۔

چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ اگر عدالت اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس بدنیتی کی بنیاد پر دائر کیا گیا تو اسے چیف جسٹس کو بحال کر دینے کا حکم جاری کرنا چاہیے۔

جسٹس ایم جاوید بٹر نے کہا کہ کسی جج کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس بھیج دینے سے جج کو کام کرنے سے نہیں روکا جا سکتا تاوقتیکہ سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ پر صدر اسے نکالنے کا حکم جاری کرے۔جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ ریفرنس اگر ایسے جج کے خلاف ہو جو سپریم جوڈیشل کونسل کا ممبر ہو تو پھر وہ کونسل کا ممبر نہیں رہ سکتا لیکن کوئی ایسا جج جو سپریم جوڈیشل کونسل کا ممبر نہ ہو تو ریفرنس دائر ہونے کی صورت میں بطور جج اس پر کوئی پابندی نہیں لگ سکتی۔

اس پر چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر جسٹس فقیر محمد کھوکھر ان کے دلائل کے ساتھ اتفاق بھی کر رہے ہوں تو ان کو ایسے لگتا ہے کہ جیسے وہ ان کے ساتھ شطرنج کا کھیل رہے ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ صدر سپریم جوڈیشل کونسل کے کسی ممبر کو کونسل کی میٹنگ میں شریک ہونے سے نہیں روک سکتا اور اگر صدر ایسا کرنے کی کوشش کرے تو پھر یہ عدلیہ کی آزادی پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے بعد چیف جسٹس کو ’غیر فعال‘ کہنا شروع کر دیا لیکن بعد میں کہا کہ وہ چیف جسٹس آف پاکستان ہیں۔

 کسی جج کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس بھیج دینے سے جج کو کام کرنے سے نہیں روکا جا سکتا تاوقتیکہ سپریم جوڈیشل کونسل کی رپورٹ پر صدر اسے نکالنے کا حکم جاری کرے
جسٹس جاوید بٹر

اعتزاز احسن نے کہا جسٹس افتخار محمد چودھری اگر آج بھی چیف جسٹس آف پاکستان ہیں تو پھر انہیں عدالت میں انصاف کرنے نظر آنا چاہیے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر جج کو بطور جج کام کرنے سے روک دیا جائے تو وہ جج نہیں رہتا اور اسے در حقیقت اپنے عہدے سے ہٹایا جا چکا ہوتا ہے۔

چیف جسٹس کے وکیل نے پریوی کونسل کی ایک فیصلہ عدالت کو پڑھ کر سنایا جس میں ٹرینڈاڈ کے ایک جج کو جب عدالتی کام نہیں دیا گیا تو اس پر پریوی کونسل نے یہ فیصلہ دیا کہ جج کو کام سے روکنے کا مطلب جج کو در حقیقت اس کے عہدے سے ہٹانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا پویوی کونسل نے حکومت کو حکم جاری کیا کہ وہ اس جج کو ہرجانہ ادا کرے۔انہوں نے کہا ان کے موکل صرف بحالی چاہتے ہیں۔

اعتزاز احسن کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے بار سے اپنے خطابات میں کسی قسم کا کوئی سیاسی بیان نہیں دیا اور ان تقریبات میں آنے والے سیاسی کارکنوں کوبھی چیف جسٹس نے نہیں بلایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت سے پوچھتے ہیں کہ جبری رخصت پر ہونے کی وجہ سے چیف جسٹس بار سے خطاب نہ کریں تو کیا کریں کیونکہ اگر وہ جبری رخصت پر نہ ہوتے تو یہاں بیٹھ کام کر رہے ہوتے۔اعتزاز احسن نے عدالت کو پیشکش کی کہ وہ اگر چیف جسٹس کو بحال کر دے تو وہ بار کونسلوں سے چیف جسٹس کے خطابات کا سلسلہ منسوخ کروا سکتے ہیں۔

چیف جسٹس کے وکیل دلائل دے رہے تھے کہ سماعت کا وقت ہو گیا۔ مقدمے کی سماعت کل بھی جاری رہے گی۔

فیصل آباد: تیاریاں
چیف جسٹس کے لیے وکلاء چشم براہ
 جسٹس افتخار کے ساتھ بدسلوکی’یہ ہاتھ کس کا ہے‘
جسٹس افتخار کے بال کس نے کھینچے؟
جسٹس افتخار جسٹس کا بیانِ حلفی
جسٹس افتخار کے بیانِ حلفی کا مکمل متن
جسٹس افتخار کیس
’غیر فعال‘ چیف جسٹس کیس میں کب کیا ہوا
وکلاء کا احتجاجوکلاء کے مظاہرے
کراچی اور بلوچستان میں وکلاء کا احتجاج
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
اسی بارے میں
300 سے زائد کارکن گرفتار
15 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد