’کوئی جنرل عوام کو قبول نہ ہوگا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس کے وکلاء نے کہا ہے کہ وہ سیاست نہیں کر رہے ہیں بلکہ ایک ایسی تحریک کا حصہ ہیں جو انصاف کی تحریک ہے۔ چنیوٹ میں چیف جسٹس کے وکلاء علی احمد کرد، اعتزاز احسن اور منیر اے ملک نے بار سے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں انصاف صرف فوجیوں کو ملتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ انصاف سب کو ملے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ کوئی سیاست نہیں کر رہے ہیں۔ وہ حکومت کو کوئی ایسا جواز نہیں دینا چاہتے کہ یہ کہا جائے کہ چیف جسٹس سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس افتخار 21 جولائی کو بذریعہ ٹرین کوئٹہ جائیں گے اور 23 جون کو ملتان اور 30 کو راولا کوٹ کا دورہ کریں گے۔ چیف جسٹس کا سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل قافلہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے تین بجے فیصل آباد شہر پہنچا اور ان کی گاڑی تقریب کے پنڈال میں چھ بجکر پینتالیس منٹ پر داخل ہوئی۔ اس طرح انہیں اسلام آباد سے فیصل آباد آتے تقریباً اکیس گھنٹے لگ گئے۔ چیف جسٹس کا قافلہ براستہ موٹروے فیصل آباد پہنچا اور راستے میں چکوال، پنڈی بھٹیاں اور چنیوٹ قیام کیا۔ چیف جسٹس کے پنڈال میں پہنچتے ہی آتش بازی کی گئی، کبوتر آزاد کیے گئے اور چیف جسٹس پر پھولوں کی پتیاں پھینکی گئیں۔ ان کے آتے ہی پورا پنڈال ’گو مشرف گو‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔
علی احمد کرد نے فیصل آباد میں کہا کہ چہرہ بدلنے سے لوگ مطمئن نہیں ہوں گے۔ ’ہم کہتے ہیں کہ کوئی جنرل عوام کو قبول نہیں ہو گا۔‘ چکوال میں اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وکلاء کی تحریک چیف جسٹس کے خلاف زیادتی سے شروع ہوئی تھی، لیکن اب یہ ان کی بحالی پر بھی ختم نہیں ہوگی۔ ’یہ اب عوامی حقوق کی تحریک ہے‘۔ استقبال کے لیے ْبڑی تعداد میں آئے ہوئے سیاسی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے درخواست کی کہ وہ بار ایسوسی ایشن کی تقریب میں نہ آئیں کیونکہ پھر حکومت الزام لگاتی ہے کہ چیف جسٹس سیاسی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔
چکوال جانے کے لیے چیف جسٹس کا قافلہ جب موٹر وے سے بلکسر پہنچا تو وکلاء، سیاسی کارکنوں اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے ان کا استقبال کیا۔ چیف جسٹس کو خوش آمدید کہنے والوں میں معروف کالم نگار اور پنجاب اسمبلی کے سابق رکن ایاز امیر بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس کا استقبال کرنے والوں میں ایک شخص ظفر عباس اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ موجود تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا ایک بچہ ڈاکٹروں کی غفلت سے ہلاک ہوگیا تھا۔ غفلت کے مرتکب ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی کوشش کی تو کہیں شنوائی نہ ہوئی۔ ظفر عباس کے مطابق ان کی روئیداد اخبار میں چھپنے پر چیف جسٹس افتخار چودھری نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملہ کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔ سنیچر کو جسٹس افتخار اور ان کے وکلاء ایک گھنٹہ تاخیر سے صبح ساڑھے نو بجے اسلام آباد سے فیصل آباد کے لیے روانہ ہوئے تو موٹروے پر آنے سے پہلے ہی سینکڑوں گاڑیوں میں سوار وکلاء اور حزب مخالف سے تعلق رکھنے والی مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن ان کے قافلے میں شامل ہوچکے تھے۔
موٹر وے کے راستے اسلام آباد سے چکوال کا سفر عام طور پر ایک گھنٹے میں طے ہوتا ہے لیکن کئی میلوں پر پھیلے چیف جسٹس کے قافلے نے یہ مسافت کم و بیش پانچ گھنٹے میں طے کیا۔ راستے میں جہاں کوئی گاؤں یا قصبہ آتا تو بڑی تعداد میں عام لوگ سڑک کے اطراف میں کھڑے نظر آتے۔ چیف جسٹس کے قافلے میں جو نعرہ سب سے مقبول سنائی دے رہا ہے وہ ہے ’چاچا وردی لاہندا کیوں نہیں، عزت نال گھر جاندا کیوں نہیں‘۔ اس کے علاوہ ’کب تک لوٹو گے جرنیلو تم ڈنڈے کے زور پہ، شرمندہ تاریخ رہے گی فرعونی دور پہ‘ اور ’پاکستان زندہ باد، آمریت مردہ باد‘ بھی چیف جسٹس کے قافلے کا ایک مقبول نعرہ رہا۔ |
اسی بارے میں ’ہر ادارے اور شہری پر آئین کی پابندی لازمی‘ 17 June, 2007 | پاکستان سفر فیصل آباد، چیف جسٹس کا بھرپور استقبال16 June, 2007 | پاکستان 300 سے زائد کارکن گرفتار15 June, 2007 | پاکستان لاہور:وکلاء، سیاسی کارکنوں کا جلوس14 June, 2007 | پاکستان جسٹس سےیکجہتی کےلیےکراچی کاسفر09 May, 2007 | پاکستان ’غداری کا حق کسی کو نہیں‘21 April, 2007 | پاکستان ’ظالم معاشرہ زیادہ دن نہیں چل سکتا‘28 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||