یہ جدوجہد مثالی جدوجہد ہے: افتخار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ معاشرہ صرف آئین کی بالادستی کی صورت میں ہی کامیاب ہو سکتا ہے اور چونکہ آئین ہی نظامِ حکومت کے اصول اور ضوابط فراہم کرتا ہے اس لیے ہر ادارے اور شہری پر آئین کی پابندی لازم ہے۔ فیصل آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں وکلاء کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’عدلیہ کی آزادی اور آزادانہ ماحول میں بلا خوف کام کرنے کے موقع کی فراہمی ایک عظیم مقصد ہے اور یہ جدوجہد مثالی جدوجہد ہے‘۔ انہوں نے کہا: ’آج ہم بنیادی سطح پر عام آدمی کو عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی کی خاطر ڈٹ جاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور وکلاء کی جدوجہد میں میڈیا ان کے ساتھ ساتھ رہا ہے۔ چیف جسٹس کا سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل قافلہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے تین بجے فیصل آباد شہر پہنچا اور ان کی گاڑی تقریب کے پنڈال میں چھ بجکر پینتالیس منٹ پر داخل ہوئی۔ اس طرح انہیں اسلام آباد سے فیصل آباد آتے تقریباً اکیس گھنٹے لگ گئے۔
یہ ان کا کسی بھی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سے پہلا خطاب ہے اور ان کی معطلی سے لے کر اب تک ان آٹھواں دورہ ہے۔ چیف جسٹس کے پنڈال میں پہنچتے ہی آتش بازی کی گئی، کبوتر آزاد کیے گئے اور چیف جسٹس پر پھولوں کی پتیاں پھینکی گئیں۔ ان کے آتے ہی پورا پنڈال ’گو مشرف گو‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون پر عمل درآمد معاشرے کی ترقی کے لیے لازم ہے۔ ’قانون کی حکمرانی کا بنیادی مقصد عوام کی خصوصاً غریب اور پسماندہ طبقے کی فلاح و بہبود ہے۔‘ تقریب کے موقع پر سکیورٹی کا خصوصی بندوبست تھا۔ پنڈال میں داخل ہونے کے بعد چیف جسٹس آدھا گھنٹہ گاڑی میں ہی بیٹھے رہے اور اس دوران سول ڈیفنس بم ڈسپوزل کا عملہ سارا سٹیج خالی کرانے کے بعد تلاشی لیتا رہا۔ اس کے بعد چیف جسٹس اپنے ساتھیوں کے ساتھ سٹیج پر بیٹھے۔
تقریب کے میزبان نے حاضرین کو چیف جسٹس کا پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور کوئی ایسا نعرہ نہ لگائیں جو غیر شائستہ ہو۔ پنڈال میں بڑی تعداد میں خواتین موجود تھیں جو چیف جسٹس کی آمد سے قبل مختلف گیت گاتی رہیں۔ چیف جسٹس نے کہا ’ آج ہم بنیادی سطح پر عام آدمی کو عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی کی خاطر ڈٹ جاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔’ انہوں نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون بن گیا ہے اور وکلاء کی جدوجہد میں میڈیا ان کے ساتھ ساتھ رہا ہے‘۔ انہوں نے وکلاء کو مخاطب کرکے کہا کہ ’اگر موجودہ میڈیا نہ ہوتا تو وہ اپنے کاز کو اتنی تیزی سے نہ بڑھا پاتے جس تیزی کے ساتھ وہ آج کوشاں ہیں‘۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قانون پر عمل درآمد معاشرے کی ترقی کے لیے لازم ہے۔ ’قانون کی حکمرانی کا بنیادی مقصد عوام کی خصوصاً غریب اور پسماندہ طبقے کی فلاح و بہبود ہے‘۔ تقریب میں اعلان کیا گیا کہ چیف جسٹس ایک قافلے کی شکل میں سڑک کے ذریعے تئیس جون کو لاہور سے ملتان جائیں گے۔ تقریب سے چیف جسٹس کے وکلاء اعتزاز احسن، منیر اے ملک، علی احمد کرد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ چیف جسٹس کا قافلہ براستہ موٹروے فیصل آباد پہنچا اور راستے میں چکوال، پنڈی بھٹیاں اور چنیوٹ قیام کیا۔ |
اسی بارے میں ’کوئی جنرل عوام کو قبول نہ ہوگا‘17 June, 2007 | پاکستان 300 سے زائد کارکن گرفتار15 June, 2007 | پاکستان سفر فیصل آباد، چیف جسٹس کا بھرپور استقبال16 June, 2007 | پاکستان ’عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں ہے‘15 June, 2007 | پاکستان لاہور:وکلاء، سیاسی کارکنوں کا جلوس14 June, 2007 | پاکستان جسٹس سےیکجہتی کےلیےکراچی کاسفر09 May, 2007 | پاکستان ’غداری کا حق کسی کو نہیں‘21 April, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا پرجوش استقبال14 April, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||