’عدالتیں غلطیوں کی تلافی کریں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی فل کورٹ سے کہا ہے کہ ماضی میں پاکستان کی عدالتوں نے زیادہ اچھے فیصلے نہیں کیے ہیں اور سپریم کورٹ کو ماضی کی غلطیوں کی تلافی کرنی چاہیے۔ پیر کے روز اعتزاز احسن نے چیف جسٹس کی آئینی درخواست میں اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ملک کا چیف جسٹس خود انصاف کا طالب ہے اور یہ کہ انہیں امید ہے کہ عدالت چیف جسٹس کو عام لوگوں سے زیادہ تحفظ فراہم کرے گی۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے پہلے حکومت کا رویہ انتہائی نامناسب اور خفیہ ادراوں کی چیف جسٹس اور صدر پرویز مشرف کی ملاقات میں موجودگی غلط اقدام تھا۔ چیف جسٹس کے وکیل نے انڈیا کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا انڈیا اگر آج ترقی کر رہا ہے تو اس میں جمہوریت اور عدلیہ کا کردار انتہائی اہم ہے۔ چیف جسٹس کے وکیل نے خفیہ اداروں کے سربراہوں کی طرف سے حلفیہ بیانوں میں دیئے گئے اس تاثر کی تردید کی کہ وہ چیف جسٹس کے کہنے پر نو مارچ کو چیف آف آرمی سٹاف ہاؤس میں اس وقت موجود تھے جب چیف جسٹس اور صدر کی ملاقات ہوئی تھی۔ چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ چیف جسٹس کے کہنے پر انٹیلجنس اداروں کے سربراہ چیف آف آرمی سٹاف ہاؤس پہنچ جائیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ انٹیلینجس ایجنسیوں کے سربراہوں کو اس معاملے میں شامل کرنے کی وجہ چیف جسٹس پر استعفے کے لیے دباؤ ڈالنا مقصود تھا۔
اعتزاز احسن نے کہا آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کرنے میں خفیہ اداروں کا کوئی کردار نہیں ہے اور چیف جسٹس کے ساتھ صدر کی میٹنگ میں انٹیلجنس اداروں کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ مقدمے کی سماعت کے شروع ہوتے ہی اعتزاز احسن نے عدالتِ عظمیٰ کی توجہ کوئٹہ میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بہن کے گھر میں کچھ نامعلوم افراد کے مبینہ طور پر گھسنے اور اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے واقعہ کی طرف دلائی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ادارے نہ صرف چیف جسٹس کے وکیلوں کو ہراساں کرنے کے کوشش کر رہے ہیں بلکہ انہوں نے چیف جسٹس کے مقدمے کے اہم گواہ حماد رضا کو قتل کروا دیا ہے جبکہ ایک کو اٹھا لیا گیا ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ شواہد سےلگتا ہے کہ چیف جسٹس کی بہن کے گھر میں داخل ہونے والے لوگوں کا تعلق خفیہ اداروں سے لگتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ عدالت اس معاملے کا نوٹس لے۔ چیف جسٹس کے وکیل نے کہا کہ حکومت پہلے ججوں کے خلاف خبر چھپواتی ہے۔ جب عدالت اس کا نوٹس لیتی ہے تو معافی مانگ لی جاتی ہے اور پھر کچھ روز بعد اس کی تائید کر دی جاتی ہے۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ چیف جسٹس کےخلاف ریفرنس دائر کرتے وقت بے جا عجلت کا مظاہرہ کیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ جب چیف جسٹس نے مستعفی ہونے سے انکار کر دیا تو اس کے بعد صرف تین گھنٹوں میں ریفرنس تیار کیا گیا اور اسی دوران راولپنڈی میں صدارتی کیمپ سے ریفرنس واپس وزیر اعظم کو بھیجوا دیا گیا جہاں سے یہ وزارت قانون پہنچا اور سکیریٹری قانون سے ہوتا ہوئے سکیشن افسر تک پہنچ گیا۔اعتزاز احسن نے کہا کہ عام حالات میں یہ سب ممکن نہیں ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ سب کچھ عجلت میں کیا گیا ہے۔ اس موقع جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا اعتزاز احسن خود وزیر رہے ہیں اور انہیں پتہ ہے کہ حکومتیں کیسے کام کرتی ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ عدالت کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ سب کچھ عجلت میں کیا گیا ہے اور جب کام عجلت میں کیے جائیں تو اس طرح کی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں جس طرح اس ریفرنس میں کی گئی ہیں۔ جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ ججوں سے متعلق فائلیں وزارت قانون کے سیکریٹری کے دفتر سے باہر نہیں جاتیں اور سب کچھ سیکریٹری کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ جسٹس فقیر محمد کھوکھر سیکریٹری قانون کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ اعتزاز احسن نےکہا کہ جتنی جلدی میں چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا اور یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب کوئی اس میں خصوصی دلچسپی لے رہا ہو۔ اعتزاز احسن نے جب عدالت کے ایک اہلکار کو اپنے دلائل کی ترتیب میں تبدیلی کا بتانے کے لیے کہا کہ انہوں نے ’ بیٹنگ آرڈر‘ میں تبدیلی کر لی ہے اور عدالت کو کتابیں اسی انداز میں پیش کریں تو بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے اعتزاز احسن سے کہا کہ ’آپ کا بولنگ آرڈر بھی تبدیل ہو چکا ہے اوراب آپ زیادہ بونسر کرانے لگے ہیں‘۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ جب وہ ’باؤنسر‘ کرواتے ہے تو عدالت اس کا نوٹس ہی نہیں لیتی۔وہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی بہن کےگھر کچھ لوگوں کے گھس جانے سے متعلق عدالت کے نوٹس نہ لینےکا حوالہ دے رہے تھے۔ اعتزاز احسن نے جب عدالت کے ایک سابقہ فیصلے کا حوالہ دیا تو جسٹس محمد نواز عباسی نے کہا کہ ماضی میں پرانے عدالتی فیصلوں کا حوالہ کسی آئینی اور قانونی مسئلے پر عدالت کی رائے ظاہر کرنے کے لیے دیا جاتا تھا لیکن اب رولز کو واضح کرنے کے لیے بھی پرانے فیصلوں کا حوالہ دیا جانے لگا ہے۔ تیرہ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن نے کہا کہ وکیل اپنی’استادی‘ دکھانے کے لیے بھی پرانے فیصلوں کے حوالے دیتے رہتے ہیں۔ سماعت کے اختتام پر صدر جنرل پرویز مشرف کے ایک وکیل ایڈوکیٹ احمد رضا قصوری نے عدالت کو بتایا کہ انہیں عالمی ثالثی عدالت نے ایک مقدمے میں ثالث مقرر کیا ہے اور وہ اس کے لیے وہ منگل کے روز پیرس جا رہے ہیں۔ بینچ کے سربراہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے احمد رضا قصوری سے کہا کہ جنہوں نے آپ کو ثالث مقرر کیا ہے ان کا ’ہماری طرف سے شکریہ ادا کردیجئے گا‘۔ جسٹس رمدے نے چیف جسٹس کے وکیل اعتزاز احسن سے کہا ’آپ احمد رضا قصوری کے ملک سے جانے پروہ دو نفل شکرانے کے ادا کریں۔‘ |
اسی بارے میں ’کوئی جنرل عوام کو قبول نہ ہوگا‘17 June, 2007 | پاکستان 300 سے زائد کارکن گرفتار15 June, 2007 | پاکستان سفر فیصل آباد، چیف جسٹس کا بھرپور استقبال16 June, 2007 | پاکستان ’عدلیہ پر کوئی دباؤ نہیں ہے‘15 June, 2007 | پاکستان لاہور:وکلاء، سیاسی کارکنوں کا جلوس14 June, 2007 | پاکستان جسٹس سےیکجہتی کےلیےکراچی کاسفر09 May, 2007 | پاکستان ’غداری کا حق کسی کو نہیں‘21 April, 2007 | پاکستان جسٹس افتخار کا پرجوش استقبال14 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||